{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigqsr42bxeoish5clgpcbdokc4ibooo5itdqq5sebcxpmgj6g32my",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moqyh2lchaa2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibboqeunjl2g5uivej3ypyqbsr6xmahzcyyyd7xpqnazrjn4kljuy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 102747
},
"path": "/node/186417",
"publishedAt": "2026-06-20T06:00:58.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"رپورٹ",
"تارکین وطن",
"افغان تارکین وطن",
"پناہ گزین",
"افغان پناہ گزین",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"میری کہانی",
"news"
],
"textContent": "**ہر سال تارکین وطن کا عالمی دن 20 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں زیر تعلیم ایک افغان طالبہ کی کہانی جنہیں بہت مشکل دن دیکھنے پڑے اور بالآخر انہیں افغانستان بدر کر دیا گیا۔**\n\nمارچ 2026 کی ایک ٹھنڈی شام تھی۔ لاہور یونیورسٹی کے ہاسٹل کی تیسری منزل پر واقع ایک چھوٹے سے کمرے میں سمیعہ اپنی کتابوں کے درمیان بیٹھی تھیں۔ بین الاقوامی تعلقات کے مضمون کا امتحان قریب تھا، مگر ان کی نظریں کتاب پر جمی ہونے کے باوجود ذہن کہیں اور بھٹک رہا تھا۔\n\nوہ افغانستان سے تعلق رکھتی تھیں۔ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کے لیے اپنے ملک میں تعلیم جاری رکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ بہت جدوجہد، قرضے اور قربانیوں کے بعد ان کے والدین نے انہیں پاکستان بھیج دیا تاکہ وہ اپنی تعلیم مکمل کر سکیں۔ سمیعہ جانتی تھیں کہ یہ موقع ان کے لیے صرف ایک تعلیمی سفر نہیں بلکہ زندگی اور خوابوں کے درمیان ایک پُل تھا۔\n\nمگر اب ان کے لیے مشکل پیدا ہونے جا رہی تھی۔ ان کا سٹڈی ویزا ختم ہونے والا تھا اور کئی ماہ گزرنے کے باوجود نئے ویزے کی منظوری نہیں آئی تھی۔ ہر صبح وہ یونیورسٹی کے دفتر جاتیں، درخواست کا حال پوچھتیں اور ہر بار ایک ہی جواب ملتا کہ ’ابھی انتظار کریں۔‘\n\nانتظار ان کی زندگی کا سب سے بڑا امتحان بن گیا تھا۔\n\nہاسٹل کی راہداریوں میں اب پہلے جیسی رونق نہیں رہی تھی۔ افغان طلبہ آہستہ آواز میں بات کرتے، ایک دوسرے کو خبردار کرتے اور پولیس کی کارروائیوں کی خبریں بانٹتے رہتے۔ کسی کا دوست گرفتار ہو گیا تھا، کسی کی بہن کو واپس افغانستان بھیج دیا گیا تھا اور کوئی کئی ہفتوں سے کمرے سے باہر نکلنے کی ہمت نہیں کر پا رہا تھا۔\n\nسمیعہ کی سب سے قریبی دوست نسرین بھی انہی خوفزدہ طلبہ میں شامل تھیں۔ ایک رات وہ گھبراہٹ کے عالم میں سمیعہ کے کمرے میں آئیں۔\n\n’آج پولیس ہاسٹل کے سامنے چیکنگ کر رہی تھی۔‘ انہوں نے کانپتی آواز میں کہا۔\n\n’پھر؟‘\n\n’میں بازار نہیں جا سکی۔ پورا دن بھوکی رہی۔‘ نسرین نے جواب دیا۔\n\nسمیعہ خاموش ہو گئیں۔ وہ جانتی تھیں کہ یہ صرف نسرین کی کہانی نہیں بلکہ سینکڑوں افغان طلبہ کی حقیقت تھی۔\n\nکچھ دن بعد سمیعہ کے والدین اسلام آباد آئے۔ ان کی والدہ کو سرجری کروانی تھی۔ سمیعہ خوش تھیں کہ کئی ماہ بعد وہ اپنی ماں سے مل سکیں گی۔ وہ ہاسٹل سے نکلیں اور والدین کے ہوٹل کی طرف روانہ ہو گئیں۔\n\nراستے میں ایک پولیس چیک پوسٹ آئی۔\n\n’کاغذات دکھاؤ‘ ایک اہلکار نے کہا۔\n\nسمیعہ نے یونیورسٹی کارڈ اور ویزا درخواست کی رسید دکھائی۔\n\nاہلکار نے سرد لہجے میں جواب دیا۔\n\n’ویزا ختم ہو چکا ہے۔‘\n\n’میں نے نئی درخواست دی ہوئی ہے۔‘ سمیعہ نے التجا کی۔\n\nمگر ان کی بات سننے والا کوئی نہیں تھا۔\n\nچند منٹ بعد وہ پولیس کی گاڑی میں بیٹھی تھیں۔\n\nانہیں اسلام آباد کے ایک حراستی مرکز منتقل کر دیا گیا۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے دیکھا کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں درجنوں مرد، عورتیں اور بچے موجود تھے۔ کھڑکیاں بند تھیں، ہوا کا گزر نہ ہونے کے برابر تھا اور ماحول گھٹن سے بھرا ہوا تھا۔\n\nسمیعہ نے کئی بار والدین سے رابطہ کرنے کی درخواست کی مگر ان کا فون ضبط کر لیا گیا تھا۔\n\nدوسری طرف ان کی ماں ہسپتال جانے کی بجائے بیٹی کی تلاش میں سرحدی شہر چمن پہنچ چکی تھیں۔ بیماری کے باوجود وہ تین دن تک بیٹی کا انتظار کرتی رہیں۔\n\nبالآخر سمیعہ کو دیگر افغانوں کے ساتھ سرحد پار افغانستان بھیج دیا گیا۔\n\nپاکستان سے افغان شہریوں کی بڑے پیمانے پر واپسی کا آغاز ستمبر 2023 کے بعد ہوا، جب اسلام آباد نے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کی واپسی کا منصوبہ شروع کیا۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے پناہ گزین یو این ایچ سی آر کے مطابق اکتوبر 2023 سے چار اپریل 2026 تک 20 لاکھ سے زائد افغان شہری یا تو رضاکارانہ طور پر پاکستان سے واپس جا چکے ہیں یا انہیں ملک بدر کیا جا چکا ہے۔\n\nجب سمعیہ وطن واپس پہنچیں تو انہیں یوں محسوس ہوا جیسے ان کی زندگی کا سب سے روشن باب اچانک بند کر دیا گیا ہو۔\n\nان کے کمرے میں رہ جانے والی کتابیں، نوٹس، کپڑے اور یادیں سب پاکستان میں رہ گئے تھے۔ سب سے بڑا نقصان مگر یہ نہیں تھا۔ اصل نقصان اس کا خواب تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگھر واپس آ کر وہ کئی دن تک خاموش رہیں۔ کھڑکی کے قریب بیٹھی رہتیں اور دور پہاڑوں کو دیکھتی رہتیں۔ ایک دن ان کے والد ان کے پاس آئے اور کہا کہ ’بیٹی، ہمت مت ہارو۔‘\n\nسمیعہ کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ ’ابا، میں نے کیا غلط کیا تھا؟ میں صرف پڑھنا چاہتی تھی۔‘ والد کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔ مہینے گزر گئے۔ ایک دن نسرین کا پیغام آیا۔ وہ ابھی تک پاکستان میں تھیں، مگر خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی تھیں۔\n\nانہوں نے لکھا کہ ’ہم اب بھی امتحان دے رہے ہیں، مگر کسی کو نہیں معلوم کل کیا ہوگا؟‘\n\nرات گئے وہ اپنی پرانی کتابوں کے صندوق کے پاس گئیں۔ انہوں نے ایک نوٹ بک نکالی جس کے پہلے صفحے پر انہوں نے پاکستان پہنچنے کے دن لکھا تھا کہ ’میں ایک دن تعلیم مکمل کر کے اپنے ملک کی خدمت کروں گی۔ جملہ پڑھ کر ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ مگر پھر انہوں نے نوٹ بک بند نہیں کی۔ انہوں نے اگلے صفحے پر لکھا کہ ’راستے بند ہو سکتے ہیں، خواب نہیں۔‘\n\nاس لمحے انہیں احساس ہوا کہ تعلیم صرف یونیورسٹی کی عمارتوں میں نہیں ہوتی۔ علم کی تلاش انسان کے اندر زندہ رہتی ہے۔ چاہے سرحدیں بند ہو جائیں، ویزے مسترد ہو جائیں یا دنیا اس کے راستے میں دیواریں کھڑی کر دے۔\n\nسمیعہ نہیں جانتی تھیں کہ وہ دوبارہ کسی یونیورسٹی میں داخل ہو سکیں گی یا نہیں۔ وہ یہ بھی نہیں جانتی تھیں کہ ان کے خواب کب پورے ہوں گے۔ لیکن ایک بات یقینی تھی۔ ان کے اندر جلنے والی روشنی ابھی بجھی نہیں تھی۔ اور جب تک وہ روشنی زندہ تھی، ان کی امید ختم نہیں ہو گی۔\n\n_یہ رپورٹ افغانستان اینالسٹس نیٹ ورک (اے اے این) پر شائع ہوئی، جو ایک آزاد اور غیر منافع بخش پالیسی تحقیقاتی ادارہ ہے۔_\n\nتارکین وطن\n\nافغان تارکین وطن\n\nپناہ گزین\n\nافغان پناہ گزین\n\nہر سال تارکین وطن کا عالمی دن 20 جون کو منایا جاتا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں زیر تعلیم ایک افغان طالبہ کی کہانی جنہیں بہت مشکل دن دیکھنے پڑے اور بالآخر انہیں افغانستان بدر کر دیا گیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 20, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">افغان طالبات 21 دسمبر 2022 کو کابل میں ایک نجی یونیورسٹی کے سامنے سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nمیری کہانی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبرطانیہ بلدیاتی انتخابات: تارکین وطن مخالف بیانیے کی جیت؟\n\nیوگنڈا میں پاکستانیوں سمیت 231 غیر قانونی تارکین وطن گرفتار: حکام\n\nتارکین وطن بمقابلہ ساکنان وطن\n\nامریکہ نے پانچ لاکھ تارکین وطن کی قانونی حیثیت منسوخ کر دی\n\nSEO Title:\n\n’راستے بند ہو سکتے ہیں، خواب نہیں‘: پاکستان سے افغان طالبہ کی ملک بدری کی کہانی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’راستے بند ہوئے، خواب نہیں‘: پاکستان سے افغان طالبہ کی ملک بدری کی کہانی"
}