{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicvcvrzzxxilo7k7yrwrhvpr7xnmhirq2q4d7ngcfcndnrh7gydey",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moobbj6mqo32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreieoakbmqt4nb4k75fguhhcabuv2rgvzlen3lx3vv6og4cu3dn5nqm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 65230
  },
  "path": "/node/186406",
  "publishedAt": "2026-06-19T07:45:07.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "کیمپس",
    "طالب علم",
    "پشاور",
    "ایتھلیٹ",
    "خود کشی",
    "لائبہ حُسن",
    "news"
  ],
  "textContent": "**اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے ٹرائبل ہاسٹل کے کمرہ نمبر 29 میں 14 جون 2026 کو سیکنڈ ایئر کے طالب علم اور ایتھلیٹ زاہد آفریدی مردہ حالت میں پائے گئے۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ اب بھی ان کی موت سے متعلق کئی سوالات کے جواب تلاش کر رہے ہیں۔**\n\nزاہد آفریدی کے بڑے بھائی ساحر آفریدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ان کی اپنے بھائی سے آخری تفصیلی گفتگو سات اور آٹھ جون کو ہوئی تھی۔\n\nساحر آفریدی خود بھی ایتھلیٹ ہیں اور صوبائی سطح پر خیبر پختونخوا کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ ان کے مطابق زاہد مقابلوں میں پشاور کی نمائندگی کی تیاری کر رہے تھے۔\n\nساحر آفریدی کا کہنا ہے کہ مقابلوں کے دوران زاہد کو تین مرتبہ ڈس کوالیفائی کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ پریشان تھے۔\n\n’میں مسلسل ان سے رابطے میں تھا۔ ایک رات تقریباً 11 بجے میں نے کال کی لیکن جواب نہیں ملا۔ اگلے دن انہوں نے بتایا کہ وہ ڈس کوالیفائی ہو گئے ہیں۔ میں انہیں تسلی دیتا رہا کہ ایسا کھیلوں میں ہو جاتا ہے اور انہیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nساحر آفریدی کے مطابق زاہد نے بعد میں ایک ویڈیو بھی شیئر کی جس میں ان کا مؤقف تھا کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔\n\n’ویڈیو کے بعد بھی میری ان سے بات ہوئی۔ میں انہیں سمجھاتا رہا کہ وہ اس معاملے کو اپنے اوپر حاوی نہ ہونے دیں۔‘\n\nکیمپس پولیس کے مطابق زاہد آفریدی کی موت خود کشی معلوم ہوتی ہے (علی ہوتی/ ڈائریکٹر سپورٹس اسلامیہ کالج)\n\n\n\n\nواقعے کے روز ساحر گوجرانوالہ میں موجود تھے جب کہ زاہد اسلامیہ کالج کے ہاسٹل میں تھے۔\n\nساحر آفریدی کے مطابق زاہد کے روم میٹ نے انہیں کمرے سے باہر جا کر کچھ کھانے کی پیشکش کی تھی۔\n\nروم میٹ کے مطابق انہوں نے زاہد سے کہا کہ باہر چلتے ہیں، کچھ کھا لیتے ہیں۔ زاہد نے جواب دیا کہ ’تم جاؤ، میں تھوڑی دیر میں آتا ہوں۔‘\n\nساحر آفریدی کا کہنا ہے کہ کچھ دیر بعد جب روم میٹ واپس آئے تو انہیں تشویش ہوئی اور انہوں نے کمرے کی کھڑکی کے سوراخ سے اندر دیکھا۔\n\nروم میٹ کے مطابق ہاسٹل کے کمرے کی کھڑکیاں اور دروازہ اندر سے بند تھے۔ کئی گھنٹے گزرنے کے بعد دیگر طلبہ نے کیمپس پولیس کو صورت حال کی اطلاع دی۔\n\nکیمپس پولیس کے ایڈیشنل ایس ایچ او لیاقت شاہ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ زاہد آفریدی کا تعلق درہ آدم خیل سے تھا اور وہ اسلامیہ کالج میں سیکنڈ ایئر کے طالب علم تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلیاقت شاہ نے بتایا کہ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ خودکشی کا واقعہ معلوم ہوتا ہے۔\n\nاسلامیہ کالج کے ڈائریکٹر سپورٹس علی ہوتی کہتے ہیں کہ زاہد آفریدی کالج کے نمایاں ایتھلیٹس میں شمار ہوتے تھے اور مختلف مقابلوں میں ادارے کے لیے متعدد میڈلز جیت چکے تھے۔\n\nانہوں نے بتایا: ’زاہد آفریدی میرے بہترین شاگردوں میں شامل تھے۔ ان کے بھائی ساحر آفریدی بھی میرے بہترین شاگرد رہے ہیں۔ زاہد نے اسلامیہ کالج کے لیے کئی میڈلز جیتے اور ان کی اچانک موت ہمارے لیے بھی باعث صدمہ ہے۔‘\n\nعلی ہوتی کے مطابق حال ہی میں قومی سطح کے ایک ٹورنامنٹ کے لیے ایتھلیٹس کو منتخب کیا گیا جس میں زاہد آفریدی نے بھی درخواست دی تھی۔\n\n’اس مقابلے میں ان کی پوزیشن بہتر نہیں آئی تھی اور ان کی جگہ ایک دوسرے طالب علم عطااللہ کا انتخاب کیا گیا۔‘\n\nزاہد آفریدی کی موت اسلامیہ کالج میں پیش آنے والا اس نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ اس سے قبل شعبہ قانون کے ایک طالب علم کی بھی ہاسٹل میں موت ہوئی تھی، جسے پولیس نے تحقیقات کے بعد خودکشی قرار دیا تھا۔\n\nاگرچہ پولیس زاہد آفریدی کے معاملے میں بھی ابتدائی طور پر خودکشی کا مؤقف اختیار کر رہی ہے، تاہم ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ وہ مزید تفتیش اور موبائل فون کی فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں۔\n\nساحر آفریدی کے مطابق: ’ہم جانتے ہیں کہ پولیس کی تحقیقات کس طرف جا رہی ہیں، لیکن ہم یہ جاننا چاہتے ہیں کہ زاہد کے آخری دنوں میں کیا کچھ ہوا تھا۔ کیا کسی نے انہیں اُکسایا تھا یا کوئی اور وجہ تھی؟ ہم فرانزک رپورٹ کا انتظار کر رہے ہیں تاکہ حقائق سامنے آ سکیں۔‘\n\nکیمپس\n\nطالب علم\n\nپشاور\n\nایتھلیٹ\n\nخود کشی\n\nاسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے ٹرائبل ہاسٹل کے کمرہ نمبر 29 میں 14 جون 2026 کو سیکنڈ ایئر کے طالب علم اور ایتھلیٹ زاہد آفریدی مردہ حالت میں پائے گئے، ان کی موت کے بعد اہل خانہ نے کئی سوالات اٹھائے ہیں۔\n\nلائبہ حُسن\n\nجمعہ, جون 19, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">14 جون 2026 کو ہاسٹل میں مردہ پائے گئے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور کے طالب علم زاہد آفریدی (علی ہوتی/ ڈائریکٹر سپورٹس اسلامیہ کالج)</p>\n\nکیمپس\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپشاور: سماجی دباؤ سے لڑتی خواتین فٹ بالرز ایکشن میں\n\nپشاور کے قریب ٹی ٹی پی حملہ، 6 اہلکار جان سے گئے: حکام\n\nفرد خود کشی میں ہلاک ہو جائے تو ایف آئی آر نہیں کاٹی جاتی:کراچی پولیس\n\nSEO Title:\n\nپشاور: ہاسٹل میں طالب علم کی موت، اہل خانہ کے سوالات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پشاور: ہاسٹل میں ایتھلیٹ طالب علم کی موت کی وجہ کیا تھی؟"
}