{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie362jzydcvz3bvifwjeo77o2m7jvs4nu2zdr4oa555rz4woybuq4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moobaw5u3ul2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihvnnbl6pwe5nj3xo43hdomcimwfku4ryarbxwo2egp5rmykp77yq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 62445
},
"path": "/node/186410",
"publishedAt": "2026-06-19T10:21:56.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"امریکہ",
"خلیج عرب",
"سعودی عرب",
"علی رضا عنایتی",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**ایران اور امریکہ نے جنگ کے خاتمے کے لیے 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے، جس کے حصول میں خطے کے کئی ممالک نے اہم کردار ادا کیا اور اس کے لیے ضروری سیاسی ماحول پیدا کرنے کی خاطر بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔**\n\nیہ سفارتی سرگرمیاں اس حقیقت کی واضح عکاسی کرتی ہیں کہ اس اہم خطے میں استحکام کس قدر ضروری ہے، کیونکہ یہاں پیدا ہونے والے اثرات صرف علاقائی سطح تک محدود نہیں رہتے بلکہ بین الاقوامی امن و سلامتی پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔\n\nتاہم سوال یہ ہے کہ کیا ایران پر مسلط کی گئی امریکی جنگ اور اس کے علاقائی اثرات اس روایتی علاقائی نظام کے لیے دھچکا ہیں جسے ہم کئی دہائیوں سے جانتے آئے ہیں، یا پھر یہ سابق نظام کی بنیادوں کا ازسرِنو جائزہ لینے اور ایک نئے علاقائی نظم کی تشکیل کی جانب اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں؟\n\nاور کیا ایسے تاریخی اور فیصلہ کن لمحے میں کوششوں کا رخ ایک ایسے نئے علاقائی نظام کی تشکیل کی طرف نہیں ہونا چاہیے جو سب کے لیے امن اور استحکام کی بنیاد فراہم کرے اور ساتھ ہی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کو بھی زیادہ اہمیت دے؟\n\nیہ وہ سوالات ہیں جن کا ہم براہِ راست جواب دینے کی بجائے مثبت زاویے سے جائزہ لینا چاہتے ہیں تاکہ آگے بڑھنے کے لیے سب سے تعمیری راستہ تلاش کیا جا سکے۔\n\nیہ تصویر 17 جولائی 2020 کو لی گئی، جس میں ایران کے دارالحکومت تہران کے امام خمینی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ایک چیک اِن کاؤنٹر پر روانہ ہونے والے مسافر اپنے سامان کے ساتھ پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nنظریاتی طور پر 40 روزہ جنگ کے بعد ابھرنے والے نئے نظام کو چار بنیادی خصوصیات کے ذریعے بیان کیا جا سکتا ہے جو اسے سابق نظام سے ممتاز بناتی ہیں۔\n\nسب سے پہلے، نیا علاقائی نظام ایک غیر قطبی (Non-Polar) فریم ورک پر مبنی ہو گا جس میں خطے کے ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعاون مساوات کی بنیاد پر استوار ہو گا، اور اس پرانے طرزِ عمل سے ہٹ کر ہو گا جس میں مختلف بلاک ایک دوسرے کے مقابل کھڑے ہوتے تھے۔ اس مجوزہ نظام کی ذمہ داری اس کے آٹھ بنیادی رکن ممالک پر ہو گی، کسی کو خارج کیے بغیر، اور باہمی انحصار کے مستقل فریم ورک کے تحت۔\n\nاس ماڈل میں علاقائی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہو گی، جبکہ بیرونی طاقتوں کا کوئی براہِ راست کردار نہیں ہو گا بلکہ وہ نئے نظام کے ساتھ تعاون کریں گی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدوسری اہم خصوصیت یہ ہے کہ خطے کے تمام حل طلب مسائل کے حل کے لیے سیاسی راستوں کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے، نہ کہ پورے منظرنامے کو صرف 40 روزہ جنگ تک محدود کر دیا جائے۔ جب تک دیگر تنازعات حل نہیں ہوتے اور اقتصادی پابندیاں ختم نہیں کی جاتیں، اس وقت تک پائیدار امن اور استحکام کا حصول ممکن نہیں۔\n\nتیسری خصوصیت یہ ہے کہ خطے کے ممالک کے باہمی تعلقات میں جغرافیائی سیاسی عوامل پر ضرورت سے زیادہ انحصار سے آگے بڑھا جائے، خصوصاً اس تناظر میں کہ ان ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون نسبتاً کمزور ہے۔ مستقبل کا کوئی بھی حل اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک تجارت کو فروغ نہ دیا جائے، علاقائی ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو وسعت نہ دی جائے اور ترقیاتی منصوبوں کو زیادہ اہمیت نہ دی جائے۔\n\nچوتھی اور آخری خصوصیت یہ ہے کہ سلامتی اور ترقی کے معاملات میں خطے کے ممالک کی مشترکہ تقدیر کا احترام کیا جائے، کیونکہ خطے کے ایک حصے میں استحکام دوسرے حصے میں عدم استحکام کی قیمت پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایک ایسا جامع فریم ورک تشکیل دیا جائے جو تمام ممالک کو اپنے اندر سمو لے اور سلامتی یا ترقی کو تقسیم کرنے کی بجائے مشترکہ بنیادوں پر آگے بڑھائے۔\n\nجنگ کے تجربے نے واضح کر دیا ہے کہ سلامتی ناقابلِ تقسیم ہے اور اس کے تحفظ میں تمام ممالک کو مساوی طور پر کردار ادا کرنا اور اس کے فوائد سے یکساں طور پر مستفید ہونا چاہیے۔\n\nیہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ جائز مفادات کے حصول کے لیے خطے میں ہونے والی پیش رفت کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر باہمی انحصار اور تعاون کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ تاہم اس بات پر بھی زور دینا ضروری ہے کہ صہیونی ریاست کی ان مساوات میں کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے کیونکہ دیگر ممالک کے برعکس وہ خطے کا فطری حصہ نہیں ہے بلکہ وہ ایک نوآبادیاتی منصوبہ ہے جو فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز پر مبنی نظام کے ذریعے مسلط کیا گیا اور جو پورے خطے میں بحرانوں کو جنم دینے کی کوشش کرتا ہے۔\n\nاگر خطے کو موجودہ سکیورٹی مخمصے سے نکلنا ہے تو اسے سابق نظام سے آگے بڑھتے ہوئے غیر قطبیت، تمام تنازعات کے پُرامن حل، مشترکہ تقدیر کے اعتراف اور اپنی صلاحیتوں پر انحصار کو زیادہ اہمیت دینا ہو گی۔\n\nنئے سکیورٹی نظام کی تشکیل کے مطلوبہ اہداف کے حصول کے لیے ایران اپنے ہمسایہ ممالک، بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے تاکہ مل کر ایک روشن مستقبل کی تشکیل کی جا سکے جس میں خطے کے ممالک اقتصادی اور تجارتی ترقی سے مستفید ہوں اور آنے والی نسلوں کے لیے خوشحالی اور فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔\n\n_علی رضا عنایتی ایران کے مملکتِ سعودی عرب میں سفیر ہیں۔_\n\nایران\n\nامریکہ\n\nخلیج عرب\n\nسعودی عرب\n\nکیا امریکی جنگ اس روایتی علاقائی نظام کے لیے دھچکا ہیں جسے ہم کئی دہائیوں سے جانتے آئے ہیں، یا پھر یہ ایک نئے علاقائی نظم کی تشکیل کی جانب اہم موڑ کی نشاندہی کرتے ہیں؟\n\nعلی رضا عنایتی\n\nجمعہ, جون 19, 2026 - 15:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">بائیں جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 17 جون 2026 کو فرانس میں جی سیون سربراہی اجلاس کے موقعے پر ایران جنگ کے خاتمے کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کرتے ہوئے جبکہ دائیں جانب ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کی جاری کردہ تصویر میں صدر مسعود پزشکیان کو مفاہمت کی یادداشت کی دستخط شدہ دستاویز تھامے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ ایران معاہدہ: پاکستان کی سفارتی کامیابی پر قومی اسمبلی میں قرارداد منظور\n\nسوئٹزرلینڈ میں امریکہ اور ایران کے مجوزہ مذاکرات ملتوی\n\nامریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی\n\nامریکہ ایران ثالثی سے پاکستان کو کیا حاصل ہوا؟\n\nSEO Title:\n\nامریکی جنگ کیا نئے علاقائی نظم کی نشاندہی؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکی جنگ کیا نئے علاقائی نظم کی نشاندہی؟"
}