{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiesjseiqnl6rmusjvwtyxy75dc3p3c2nmpkpr4fjvkd5d2vidyoge",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moobanoiag42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibqgglnjtxqabfngg2a54zqzjcqnimr64lwfoypmbnirgqi2xbiee"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104568
  },
  "path": "/node/186414",
  "publishedAt": "2026-06-19T12:47:14.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "قتل",
    "سی سی ڈی",
    "ایف آئی اے",
    "لاہور ہائی کورٹ",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**لاہور ہائی کورٹ نے چکوال میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار کی فائرنگ سے ماری جانے والی نو سالہ بچی سے متعلق معاملے پر درخواست نمٹاتے ہوئے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کو ’قانون کے مطابق کارروائی‘ کرنے کا حکم دیا ہے۔**\n\nدرخواست گزار کا موقف تھا کہ ’جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟‘\n\nدرخواست گزار کے وکیل آصف محمود نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ کسٹوڈیل ٹارچر اینڈ ڈیتھز ایکٹ کے تحت اس نوعیت کے مقدمات کی تحقیقات ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں۔ ’آج ڈی ایس پی انویسٹیگیشن سی سی ڈی عدالت میں پیش ہوئے، تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ جب ملزم کا تعلق سی سی ڈی سے ہو تو اسی ادارے کی جانب سے تحقیقات کیسے کی جا سکتی ہیں؟‘\n\nآسٹریلیا سے تعلق رکھنے والی ایک نو سالہ بچی اس وقت جان سے چلی گئی اور اس کے خاندان کے دو افراد زخمی ہوئے جب ڈاکوؤں کے تعاقب کے دوران چکوال پولیس نے مبینہ طور پر غلط شناخت پر ان کی گاڑی پر فائرنگ کر دی (تصویر: توقیر انور)\n\n\n\n\nوکیل آصف محمود کے مطابق ’اسی لیے عدالت نے ان کی درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے ڈی جی ایف آئی اے کو ہدایت جاری کی ہے۔‘\n\nکیس کی سماعت کے بعد آصف محمود نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ’عدالت سے استدعا کی تھی کہ چکوال میں نو سالہ ہانیہ کے قتل کے مقدمے کی تحقیقات ایف آئی اے کے حوالے کی جائیں کیونکہ قانون کے مطابق ایسے کیسز کی تفتیش ایف آئی اے ہی کر سکتی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمیاں آصف محمود نے الزام عائد کیا کہ ’سی سی ڈی نے کم و بیش دو ہزار افراد کو ماورائے عدالت قتل کیا ہے۔ بعض افراد کو مارنے کے بعد لاوارث قرار دے کر دفن کر دیا گیا اور ان کی قبروں کے بارے میں بھی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔‘\n\nیاد رہے کہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں جب کہ سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔\n\nمیاں آصف محمود نے مزید کہا کہ پولیس آرڈر 2002 میں سی سی ڈی کو قانونی تحفظ فراہم کیا گیا ہے، تاہم چکوال کا واقعہ ٹرپل مرڈر کیس ہے اور اس کی تحقیقات سی سی ڈی نہیں کر سکتی۔ ’چکوال واقعے کے اگلے روز سی سی ڈی کی جانب سے دو مبینہ ڈاکوؤں کو مارنے کا دعویٰ کیا گیا، لیکن اب تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ وہ افراد کون تھے اور کس بنیاد پر ان کے خلاف کارروائی کی گئی؟‘\n\nقتل\n\nسی سی ڈی\n\nایف آئی اے\n\nلاہور ہائی کورٹ\n\nدرخواست گزار کا موقف تھا کہ ’جب سی سی ڈی کے اہلکار کی فائرنگ سے بچی ماری جائے تو اسی واقعے کی تحقیقات بھی سی سی ڈی خود کیسے کر سکتی ہے؟‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, جون 19, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>13 اکتوبر 2020 کی اس تصویر میں لاہور کی ایک عدالت سے جاتی ہوئی پنجاب پولیس کی ایک گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچکوال: ’غلط شناخت‘ پر پولیس فائرنگ، 9 سالہ آسٹریلوی بچی کی موت\n\nکوئٹہ تیزاب حملہ: ملزم کی شناخت سے ’پولیس مقابلے‘ تک کی کہانی\n\n’دو گھر اجڑ گئے‘: بیٹوں کے قاتلوں کے ’پولیس مقابلے‘ میں مارے جانے پر والد کا ردعمل\n\nعمرکوٹ: مبینہ پولیس مقابلے میں موت کے خلاف احتجاجی ریلی\n\nSEO Title:\n\nہانیہ قتل کیس: سی سی ڈی کے بجائے ایف آئی اے کو عدالتی تحقیقات کا حکم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ہانیہ قتل کیس: سی سی ڈی کے بجائے ایف آئی اے کو عدالتی تحقیقات کا حکم"
}