{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiejewsnlqwcmkm3rzmuqpd27k7cr5ydgqbhe3cx7sbopxpspn47qa",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3molk2u2bfpd2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicaoij6o66hqn5pmvcvfrwodcvt43njfsfh6zw3qxuo373dtttbwm"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 758496
},
"path": "/node/186399",
"publishedAt": "2026-06-18T17:40:32.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"ایران جنگ",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"آبنائے ہرمز",
"پاکستان",
"ثالثی",
"اسلام آباد امن معاہدہ",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ نے جمعرات کو مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران ایرانی بندرگاہوں پر عائد کی گئی ناکہ بندی ختم کر دی۔**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ کا یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تنازع ختم کرنے کے ایک معاہدے پر دستخط کیے۔\n\nتاہم اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے سوئٹزرلینڈ میں مجوزہ مذاکرات کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔\n\nٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے معاہدے پر دستخط کے بعد دونوں حریف ممالک کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام سمیت وسیع تر معاملات پر 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہو گیا۔\n\nتاہم اگلے مراحل کے بارے میں اب بھی غیر یقینی صورتحال موجود ہے اور یہ واضح نہیں کہ دونوں ممالک جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں پہلے سے اعلان کردہ دستخطی تقریب اور مذاکرات منعقد کریں گے یا نہیں۔\n\nمعاہدے پر دستخط کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی، تاہم آبنائے ہرمز میں سرگرمیاں اب بھی محدود ہیں۔\n\nامریکی فوج نے بتایا کہ جمعرات کو اس نے ایرانی بندرگاہوں پر اپنی بحری ناکہ بندی بھی ختم کر دی، جس کے باعث جہاز ایران آنے یا جانے سے روکے جا رہے تھے۔\n\nتاہم امریکی جنگی بحری جہاز ’علاقے میں موجود رہیں گے۔‘ بحری نگرانی کے اداروں کے مطابق جمعرات کو تین سعودی تیل بردار جہاز آبنائے ہرمز کے ذریعے خلیج سے روانہ ہوئے جبکہ مائع قدرتی گیس لے جانے والا فرانسیسی جہاز ’مریح‘ جنگ کے آغاز کے بعد اس راستے سے گزرنے والا اپنی نوعیت کا پہلا جہاز بن گیا۔\n\n**خامنہ ای کی تحفظات کے باوجود اسلام آباد ایم او یو کی منظوری**\n\nایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے جمعرات کو کہا ہے کہ انہوں نے تحفظات کے باوجود امریکہ اور ایران کے صدور کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔\n\nروئٹرز کے مطابق قوم کے نام اپنے تحریری پیغام میں نئے سپریم لیڈر نے بتایا کہ یہ منظوری صدر مسعود پزشکیان اور دیگر اعلیٰ حکام کی یقین دہانیوں کے بعد دی گئی، جنہوں نے کہا کہ معاہدے میں ایران کے حقوق اور ’مزاحمتی محاذ‘ کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جائے گا۔\n\nخامنہ ای کے مطابق صدر پزشکیان نے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ کی حیثیت سے اس بات کی ذمہ داری قبول کی ہے کہ معاہدہ ایران کے مفادات کے مطابق رہے گا اور اگر امریکہ نے حد سے زیادہ مطالبات کیے تو پسپائی اختیار نہیں کی جائے گی۔\n\nانہوں نے مزید واضح کیا کہ مستقبل میں امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا مطلب ہرگز ’دشمن کے مؤقف کو تسلیم کرنا‘ نہیں ہوگا۔\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز بند کیے جانے کے بعد امریکی فوج نے اپنی ناکہ بندی نافذ کی تھی۔ تاہم اب کم از کم 12 جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جا چکی ہے۔\n\nشپنگ جریدے لائیڈز لسٹ کے مطابق جنگ سے قبل آبنائے سے روزانہ تقریباً 120 جہاز گزرتے تھے۔\n\nوینس نے کہا کہ وہ جمعے کی بجائے ’اس ہفتے کے اختتام پر‘ ایران کے ساتھ ’تکنیکی مذاکرات‘ کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nتاہم انہوں نے واضح کیا کہ یہ منصوبہ تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔ ادھر ایران کی خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کہا کہ ایرانی وفد کے سوئٹزرلینڈ جانے کے بارے میں ’ابھی کچھ بھی تصدیق نہیں ہوا۔‘\n\n**’شاید وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں‘**\n\nاس معاہدے سے ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری تنازع کے خاتمے کی توقع ہے، جس میں اپریل کے اوائل میں جنگ بندی سے پہلے پانچ ہفتوں تک شدید جنگ جاری رہی تھی۔\n\nتاہم تہران میں بعض افراد نے امن کے امکانات کے بارے میں مایوسی کا اظہار کیا۔\n\nتہران سے تعلق رکھنے والی 54 سالہ ماہرِ نفسیات مینا نے کہا ’مجھے امید نہیں کہ یہ ایک پائیدار معاہدہ ثابت ہو گا۔ ممکن ہے 60 دن بعد وہ دوبارہ لڑنا شروع کر دیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمعاہدے کے متن کے مطابق واشنگٹن نے ایران کی معیشت کو متاثر کرنے والی تیل کی پابندیاں فوری طور پر ختم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔\n\nاس کے علاوہ ایران کے جوہری پروگرام پر حتمی معاہدہ طے پانے کے بعد امریکہ خطے کے ممالک کی حمایت سے قائم 300 ارب ڈالر کے تعمیرِ نو فنڈ کے اجرا میں سہولت فراہم کرے گا۔\n\nامریکی حکام کے مطابق ایران اپنے افزودہ یورینیم کے ذخائر کو کم درجے پر لائے گا، ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے کی نگرانی میں ’موقع پر ہی افزودگی کی سطح کم‘ کی جائے گی۔\n\nاسرائیل کی طویل عرصے سے خواہش کے باوجود ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کا معاہدے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔\n\nٹرمپ کا جنگ ختم کرنے کا فیصلہ ان کے بعض اتحادیوں کے لیے باعث تشویش بن گیا ہے۔\n\nٹرمپ کی رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے امریکی سینیٹر بل کیسڈی نے اسے ’کئی دہائیوں کی بدترین خارجہ پالیسی کی غلطی‘ قرار دیا۔\n\nانہوں نے کہا ’ایران کے جوہری عزائم پر کوئی روک نہیں لگی اور انہوں نے یہ سیکھ لیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی دھمکی مؤثر ثابت ہوتی ہے۔‘\n\nبظاہر ایسی تنقید کا پیشگی جواب دیتے ہوئے ٹرمپ نے جی-7 اجلاس میں کہا کہ اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ ایران پر ’شدید بمباری‘ کرنے کے لیے تیار ہیں۔\n\nٹرمپ نے جمعرات کو سوشل میڈیا پر لکھا ’یہ احمق لوگ جو سمجھتے ہیں کہ میں ایران کے خلاف کافی سخت نہیں رہا، جبکہ سٹاک مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے اور تیل کی قیمتیں تیزی سے گر رہی ہیں یا تو حاسد ہیں، برے لوگ ہیں یا پھر بے وقوف ہیں۔‘\n\nتاہم ایرانی پارلیمان کے سپیکر اور اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اصرار کیا کہ یہ معاہدہ امریکہ کی ’ناکامی‘ کی علامت ہے جبکہ صدر پزشکیان نے اسے ’تاریخی‘ قرار دیا۔\n\nایران جنگ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nآبنائے ہرمز\n\nپاکستان\n\nثالثی\n\nاسلام آباد امن معاہدہ\n\nایرانی سپریم لیڈر نے بھی تحفظات کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کی منظوری دے دی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 22:30\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی بحریہ کی جانب سے 21 اپریل 2026 کو جاری کردہ اس تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امریکی افواج 20 اپریل 2026 کو بحیرۂ عرب میں ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز کے قریب گشت کر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے\n\nایران - امریکہ معاہدہ، پاکستانی وزیراعظم کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ\n\nایران سے معاہدے پر دستخط ہو چکے، آبنائے ہرمز جمعے کو مکمل کھل جائے گی: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nامریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کر دی"
}