{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidqvwlbb5ylfycwta4fbsbboqqgoylvtcrvmuex6hlbtulvl74a4a",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mokvwy7v2z32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibl7azf7bfhzbpq2ci6drflmate6fnfbfgholq725zgrlo36foloq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 86233
  },
  "path": "/node/186390",
  "publishedAt": "2026-06-18T10:38:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آبنائے ہرمز",
    "تیل",
    "تیل کا بحران",
    "توانائی بحران",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دنیا کی مصروف سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً چار ماہ بعد دوبارہ کھلنے جا رہی ہے۔**\n\nلیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس کے کھلتے ہی سب کچھ معمول پر آ جائے گا؟\n\nآبنائے ہرمز وہ راستہ ہے جہاں سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔\n\nفروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران کی جانب سے اسے بند کیے جانے سے قبل 120 سے 140 جہاز روز اس راستے سے گزرتے تھے۔\n\nیعنی یہ کوئی عام راستہ نہیں بلکہ عالمی توانائی کی ایک بڑی لائف لائن ہے۔ بندش کے دوران صورتحال یہ رہی کہ تقریباً 500 جہاز اور 20 ہزار ملاح وہاں پھنس گئے۔\n\nاب جیسے ہی راستہ کھلے گا، سب جہاز ایک ساتھ نہیں نکل سکیں گے۔ کچھ فوراً چلیں گے لیکن کچھ کو پہلے تکنیکی چیک، انجن کی جانچ اور صفائی کرنی ہو گی کیونکہ اتنے دن کھڑے رہنے سے جہازوں کے نیچے سمندری کائی جم جاتی ہے۔\n\nماہرین کے مطابق شپنگ کمپنیاں اس بار بہت احتیاط سے کام لیں گی۔ بعض جگہوں پر جہازوں کے لیے سکیورٹی یا نیول ایسکورٹ بھی رکھی جا سکتی ہے۔\n\nاے ایکس ایس میرین کے ماہر ہوگو روس کے مطابق سب سے پہلے وہ کمپنیاں حرکت کریں گی جو اپنے جہاز خود چلاتی ہیں اور سٹاک مارکیٹ میں درج نہیں کیونکہ وہ فیصلے جلدی کر سکتی ہیں۔\n\nتجزیہ کار ٹِ سمتھ کہتے ہیں کہ بحری ٹریفک کی بحالی کا عمل کافی سست رہے گا۔\n\nگلوبل رسک مینیجمنٹ کے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ کویت، عراق، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے ٹینکرز ممکنہ طور پر سب سے پہلے اس راستے پر واپس آ سکتے ہیں۔\n\nلیکن ایک بڑا مسئلہ ابھی بھی باقی ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے مرکزی حصے کو بارودی سرنگوں کا خطرناک علاقہ قرار دیا ہے۔\n\nاس لیے اس وقت جہاز صرف ساحلی محفوظ راستوں سے گزریں گے، جو تنگ ہے اور وہاں سے تیزی سے گزرنا ممکن نہیں۔\n\nاسی لیے فرانس، برطانیہ اور امریکہ سمیت کئی ممالک بارودی سرنگیں صاف کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔\n\n**حالات کب تک معمول پر آئیں گے؟**\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nآبنائے ہرمز کا دوبارہ کھلنا صرف پہلا قدم ہو گا۔ اس کے بعد جہازوں کے عملے کی تبدیلی، متاثرہ سپلائی چین کو بحال کرنا اور تیل کے ذخائر کو پھر سے بھرنا جیسے کئی کام باقی ہوں گے۔\n\nتجزیاتی ادارے آرگس میڈیا کے مطابق راستہ کھلنے کے بعد بھی کچھ آئل ٹینکرز کو یورپ پہنچنے میں ایک ماہ سے زیادہ لگ سکتا ہے۔\n\nادارے کا اندازہ ہے کہ خام تیل کی برآمدات کو جنگ سے پہلے کی سطح پر واپس آنے میں چار سے چھ ماہ لگ سکتے ہیں۔\n\nسمندری ٹریکنگ گروپ اے ایکس ایس میرین کے ماہر ہوگو روس کا کہنا ہے کہ ’سب کچھ ایک دم معمول پر نہیں آئے گا۔‘\n\nان کے مطابق اس دوران کئی خریدار امریکہ اور نائجیریا جیسے ممالک سے تیل خریدنے لگے ہیں جبکہ نئے بحری راستے اور تجارتی معاہدے بھی بن چکے ہیں، اس لیے پرانے نظام کی بحالی میں وقت لگے گا۔\n\nآبنائے ہرمز\n\nتیل\n\nتیل کا بحران\n\nتوانائی بحران\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد دنیا کی مصروف سمندری تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز تقریباً چار ماہ بعد دوبارہ کھلنے جا رہی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p>چار مارچ، 2026 کو ایک شخص پیرس میں میرین ٹریفک ویب سائٹ کے ایک صفحے کی طرف اشارہ کر رہا ہے جس میں آبنائے ہرمز کے کنارے، ایرانی ساحل کے قریب تجارتی جہازوں کی آمد و رفت دکھائی گئی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\n0kf4Oe8H\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز کی بندش سے پاکستانی معیشت پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\nامریکہ آبنائے ہرمز میں فوجی طاقت کیوں استعمال نہیں کر رہا؟\n\nآبنائے ہرمز عالمی تجارت کے لیے اتنی اہم کیوں ہے؟\n\nٹرمپ کی آبنائے ہرمز کی دلدل\n\nSEO Title:\n\nکیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کیا آبنائے ہرمز کھلتے ہی سب کچھ فوراً معمول پر آ جائے گا؟"
}