{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiftazahdbgzmchdr6fxttyjablr6vvcepg2cfjd7mgi2k3r5t76fm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mokvwqfgczq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreify5goa6rvvwctzxg6wdq5rw7ikp2nsbv5uhrqkzihiawivc6m4oy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 153018
  },
  "path": "/node/186393",
  "publishedAt": "2026-06-18T12:07:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "افغانستان",
    "طالبان حکومت",
    "سرحدی کشیدگی",
    "تجارت",
    "نقصان",
    "اظہار اللہ",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے جمعرات کو دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارتی گزرگاہوں اور سرحدوں کی بندش سے پاکستان کے تاجروں کو گذشتہ آٹھ مہینوں میں 278 ارب روپے سے زائد نقصان ہوا ہے۔**\n\nدوسری جانب، پاکستان کی طرح افغانستان کے صنعت کاروں کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے اور گذشتہ آٹھ مہینوں میں چیمبر کے مطابق افغانستان کو تجارت کی مد میں تقریباً 140 ارب پاکستانی روپے جتنا کا نقصان ہوا ہے۔\n\nحالیہ دنوں میں جاری پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق افغانستان سے بارڈر سکیورٹی مینجمنٹ کے مسائل کی وجہ سے پاکستان کی سالانہ برآمدات 2025 میں 4.5 فیصد سے کم ہو کر 1.5 فیصد رہ گئی ہیں۔\n\nاسی سروے کے مطابق افغانستان اس سے پہلے پاکستان کے پہلے 10 ممالک میں شامل تھا جہاں پاکستان کی برآمدات زیادہ ہوتی تھیں، لیکن اب وہ اس فہرست سے نکل گیا ہے۔\n\nپاک افغان جوائنٹ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر ضیاالحق سرحدی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ افغانستان پاکستانی مصنوعات کے لیے قریب ترین منڈی ہے جہاں سامان کی ترسیل سے پہلے ادائیگی کی جاتی ہے، اور اسی وجہ سے سرحدی بندش سے پاکستان اور افغانستان دونوں کو معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔\n\nدونوں ممالک کے مابین سرحدی کشیدگی کی وجہ سے گذشتہ سال 13 اکتوبر کو طورخم، چمن سمیت تمام بارڈرز بند کر دیے گئے تھے اور اب صرف پاکستان سے افغان پناہ گزینوں کو واپس افغانستان جانے کی اجازت ہے۔\n\nاس بندش سے دونوں ممالک کے مختلف شعبے متاثر ہو رہے ہیں، جن میں سرِ فہرست معاشی شعبہ ہے، اور دو طرفہ تجارت کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ دیگر شعبوں میں میڈیکل ٹورزم بھی متاثر ہوا ہے۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے مابین سالانہ تجارت کا حجم پاکستان اکنامکس سروے کے مطابق تقریباً ایک ارب ڈالر ہے، تاہم سرحدوں کی بندش سے تجارت شدید متاثر ہوئی ہے۔\n\nضیاالحق سرحدی نے بتایا کہ صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ وسطی ایشیائی ممالک کو بھی پاکستان کی برآمدات متاثر ہوئی ہیں کیونکہ افغانستان کے راستے پاکستانی مصنوعات وہاں پہنچتی تھیں۔\n\nانہوں نے بتایا: ’افغانستان کے راستے وسطی ایشیائی ممالک کو پاکستان کی برآمدات تقریباً 80 کروڑ امریکی ڈالر ہیں (سی آر ایس ایس کے مطابق 90 کروڑ امریکی ڈالر) اور گذشتہ آٹھ ماہ میں اسی مد میں پاکستان کو تقریباً 22 کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان ہوا ہے۔‘\n\nاسی طرح ضیاالحق سرحدی کے مطابق پاکستان وسطی ایشیائی ممالک سے کپاس، دالیں اور دیگر مختلف اشیا درآمد کرتا تھا اور افغانستان کے راستے یہ درآمدات کم لاگت پر ہوتی تھیں، جس سے ٹیکسوں کی مد میں پاکستان کو اربوں روپے کی آمدن ہوتی تھی جو اب متاثر ہوئی ہے۔\n\nافغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی بات کی جائے تو ضیاالحق سرحدی کے مطابق افغانستان کے کراچی کی بندرگاہ پر سالانہ 40 سے 45 ہزار کنٹینرز آتے تھے اور ہر کنٹینر پر ٹرانسپورٹ، انشورنس، گارنٹی، ٹرمینل ہینڈلنگ، پورٹ چارجز، کلیئرنگ و فارورڈنگ کی مد میں چار ہزار امریکی ڈالر لیے جاتے تھے، جس سے سالانہ خاطر خواہ فائدہ پاکستان کو ہوتا تھا۔\n\n22 فروری 2026 کو افغان صوبہ ننگرہار پر رات گئے مبینہ پاکستانی فضائی حملے کے بعد طالبان سکیورٹی اہلکار امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nصرف پاکستان میں افغان کارگو ٹرک ہی نہیں پھنسے بلکہ گذشتہ آٹھ ماہ سے افغانستان میں بھی تقریباً 1600 پاکستانی کارگو ٹرک پھنسے ہوئے ہیں، جس سے پاکستانی تاجروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے، اور اسی حوالے سے ضلع خیبر میں ٹرانسپورٹرز اور تاجروں کی جانب سے دھرنا بھی جاری ہے۔\n\nان ٹرکوں کی واپسی کے لیے گذشتہ ہفتے کمشنر پشاور اور پشاور میں افغان قونصل جنرل کی ملاقات بھی ہوئی تھی اور 11 جون سے افغانستان سے ان ٹرکوں کی واپسی شروع کرنے کا کہا گیا تھا، لیکن ابھی تک ٹرکوں کی واپسی شروع نہ ہو سکی۔\n\nٹرانسپورٹرز کے نمائندے رحمان زیب، جن کے ٹرک افغانستان میں پھنسے ہیں، نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ٹرکوں کی واپسی کے لیے لائحہ عمل بنایا گیا تھا لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہ ہو سکا، اور اسی وجہ سے ہم نے احتجاجی دھرنا دیا ہوا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرحمان زیب نے بتایا: ’ہم نے افغان پناہ گزینوں کے ٹرکوں کو پاکستان سے واپسی روک دی ہے اور سڑک بند کر دی ہے۔ جب تک ہمارے مطالبات نہیں مانے جاتے اور ٹرکوں کی واپسی شروع نہیں ہوتی، پاک افغان شاہراہ بند رہے گی۔‘\n\n**افغانستان کو معاشی نقصان**\n\nاب تجارتی گزرگاہوں کی بندش سے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ افغانستان بھی متاثر ہو رہا ہے، اور چیمبر آف کامرس کے مطابق گذشتہ آٹھ ماہ میں افغانستان کی برآمدات کم ہونے سے تقریباً 140 ارب روپے کا نقصان ہوا ہے۔\n\nافغانستان کی سالانہ برآمدات مجموعی طور پر 80 کروڑ امریکی ڈالر سے زائد ہیں، جبکہ سی آر ایس ایس کے مطابق پاکستان کے واہگہ بارڈر کے راستے انڈیا کو بھی افغانستان کی مصنوعات سپلائی کی جاتی تھیں، جو اب بند ہے۔ اس سے افغانستان کو ابتدائی تین مہینوں میں تقریباً سات کروڑ امریکی ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑا، جبکہ چیمبر کے مطابق چھ ماہ میں یہ نقصان 20 کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔\n\nضیاالحق سرحدی نے بتایا: ’اکتوبر 2025 سے اپریل 2026 تک پاکستان میں افغانستان کے تقریباً 11 ہزار کارگو کنٹینرز پھنسے رہے، جن پر یومیہ 120 امریکی ڈالر جرمانہ عائد ہوتا تھا، اور گذشتہ چھ ماہ میں اسی مد میں افغان تاجروں کو 21 کروڑ امریکی ڈالر سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nافغانستان\n\nطالبان حکومت\n\nسرحدی کشیدگی\n\nتجارت\n\nنقصان\n\nطویل سرحدی بندش نے پاک افغان تجارت کو مفلوج کر دیا، تاجروں کو اربوں کا نقصان، برآمدات میں تیزی سے کمی اور ٹرانسپورٹ نظام درہم برہم ہوا ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>16 جنوری 2024 کو طورخم کے مقام پر پاک افغان سرحد کے قریب کھڑے پھنسے ہوئے کارگو ٹرکوں کا منظر (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآبنائے ہرمز کی بندش: افغانستان کے لیے تجارت اور امداد کا بحران سنگین\n\nپاکستان کے ساتھ تجارت بند، اب ایران جنگ کا افغانستان پر کیا اثر ہوگا؟\n\nپاک افغان کشیدگی خطے کی خوش حالی میں بڑی رکاوٹ\n\nپاک افغان تعلقات کا مستقبل ٹی ٹی پی سے نمٹنے پر منحصر\n\nSEO Title:\n\nسرحدی بندش: 8 ماہ میں افغانستان کو 140 ارب، پاکستان کو 278 ارب روپے کا نقصان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "سرحدی بندش: 8 ماہ میں افغانستان کو 140 ارب، پاکستان کو 278 ارب روپے کا نقصان"
}