{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie73clzrn5cak6ec47jvxlqeojhxj6nrqi4nikxtwkwwudxqblzj4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mokvwnlao6d2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiaw27nr3bmjo3qy2x2nmodwurubd23csm4swvbmhl7z4sazthmdja"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 764657
},
"path": "/node/186395",
"publishedAt": "2026-06-18T12:49:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بجٹ 2026",
"بلاول بھٹو زرداری",
"پیٹرولیم لیوی",
"این ایف سی ایوارڈ",
"بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"سیاست",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے معاملے کو صوبائی مالی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔**\n\nاپنے خطاب بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ یہ لیوی این ایف سی ایوارڈ اور 18ویں آئینی ترمیم کی روح کے منافی ہے کیونکہ اس کا پورا ریونیو وفاق اپنے پاس رکھتا ہے جبکہ صوبوں کو ان کا حصہ نہیں دیا جاتا۔\n\nانہوں نے کہا کہ یہ لیوی ابتدا میں عارضی ضرورت کے طور پر متعارف کرائی گئی تھی مگر آج بھی مسلسل وصول کی جا رہی ہے، جس کے باعث صوبے اپنے آئینی مالی حقوق سے محروم ہیں۔\n\nپیپلز پارٹی کے چیئرمین کے مطابق این ایف سی فارمولے کے تحت اس آمدن کو وفاق اور صوبوں کے درمیان تقسیم ہونا چاہیے تھا، لیکن عملی طور پر ایسا نہیں ہو رہا۔\n\nبلاول بھٹو نے مجموعی طور پر وفاقی مالی ڈھانچے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے پہلے ہی قومی معاشی استحکام کے لیے اپنی ترقیاتی گنجائش محدود کر رہے ہیں اور بجٹ سرپلس دکھا کر مرکز کو سہارا دے رہے ہیں۔\n\nان کے بقول یہ ایک ’خاموش قربانی‘ ہے جو صوبے قومی مفاد میں دے رہے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ پنجاب نے گذشتہ سال 700 ارب روپے اور رواں سال 900 ارب روپے کا سرپلس دیا، جو اگر دستیاب ہوتا تو مقامی ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کیا جا سکتا تھا۔\n\nاسی طرح دیگر صوبے بھی مالی دباؤ کے باوجود قومی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔\n\nپیپلز پارٹی کے چیئرمین نے زور دیا کہ صوبوں اور وفاق کے درمیان مالی توازن کو آئینی اصولوں کے مطابق بحال کرنا ضروری ہے تاکہ اعتماد میں کمی نہ آئے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم یقینی بنائی جا سکے۔\n\nبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے اس سکیم کو معاشی اور قومی سلامتی کا اہم منصوبہ قرار دیا۔\n\nانہوں نے اس پروگرام پر ہونے والی تنقید کو ’افسوس ناک اور شرمناک‘ قرار دیا اور اس کے خاتمے یا محدود کرنے کی کوششوں کی مخالفت کی۔\n\nبلاول بھٹو نے کہا کہ بی آئی ایس پی کی کامیابی کو عالمی اداروں نے تسلیم کیا ہے اور دنیا اسے ایک مؤثر سماجی تحفظ کا پروگرام سمجھتی ہے۔ ان کے مطابق اس پروگرام کو کم کرنے کے بجائے مزید وسعت دینے کی ضرورت ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو نشانہ بنانا افسوسناک اور شرمناک ہے اور یہ کہ معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کیا جائے۔\n\nانہوں نے زور دیا کہ پاکستان کی معیشت اس وقت تک پائیدار ترقی نہیں کر سکتی جب تک مزدور اور کسان کی حالت بہتر نہ ہو۔ ان کے مطابق ’جب مزدور ترقی کرے گا تو ملک ترقی کرے گا، اور جب کسان ترقی کرے گا تو زراعت مضبوط ہوگی۔‘\n\nبلاول نے ملک کی مالی صورت حال پر بات کرتے ہوئے قرضوں پر بڑھتے انحصار پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان اب بھی اپنے بجٹ اور قرضوں کی ادائیگی کے لیے مسلسل قرض لے رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے خطے میں امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ مذاکرات اور پرامن حل کی حمایت کی ہے کیونکہ غیر یقینی صورت حال کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔\n\nان کے مطابق امن کے بغیر نہ سرمایہ کاری بڑھ سکتی ہے اور نہ ہی روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔\n\nبلاول بھٹو نے حالیہ علاقائی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے افغانستان کی سرحدی سکیورٹی، انڈیا کی دھمکیوں اور سندھ طاس معاہدے پر نئی دہلی کے مؤقف کو چیلنجز قرار دیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ پاکستان نے ان چیلنجز کا جواب سیاسی اتحاد اور جمہوری روایات کے ساتھ دیا ہے۔\n\nانہوں نے یہ بھی بتایا کہ وفاق اور صوبوں نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالی دباؤ کے باوجود دفاع اور قومی سلامتی کے اخراجات کو مشترکہ طور پر برداشت کرنے پر اتفاق کیا ہے۔\n\nان کے مطابق صوبے پہلے ہی ترقیاتی بجٹ میں قربانیاں دے کر قومی معیشت کو سہارا دے رہے ہیں۔\n\nانہوں نے سابق فاٹا کے انضمام کے باوجود وہاں ترقیاتی وعدوں پر عمل نہ ہونے پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ ان علاقوں کو اب بھی مناسب آئینی اور مالی حقوق نہیں مل رہے۔\n\nاپنی تقریر میں انہوں نے خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کے تعاون کو بھی سراہا اور کہا کہ سیاسی اختلافات کے باوجود قومی دفاعی ضروریات پر اتفاق ایک مثبت پیش رفت ہے۔\n\nبعد ازاں بلاول نے گلگت بلتستان کے عوام کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پیپلز پارٹی نے وہاں 11 نشستیں حاصل کی ہیں۔\n\nانہوں نے جی بی کے عوام کو پاکستان کے انتہائی محب وطن شہری قرار دیا اور ان کے آئینی حقوق کے تحفظ کا عزم دہرایا۔\n\nانہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان کے عوام نے ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کر کے پاکستان سے الحاق کیا تھا لیکن آج بھی انہیں مکمل آئینی حقوق حاصل نہیں۔\n\nان کے مطابق اس مسئلے کا حل قومی اتفاق رائے اور پارلیمانی نمائندگی میں ہے۔\n\nبلاول بھٹو زرداری نے زور دیا کہ ملک کو معاشی استحکام، سماجی انصاف اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہے تاکہ ترقی اور امن کا سفر آگے بڑھایا جا سکے۔\n\nبجٹ 2026\n\nبلاول بھٹو زرداری\n\nپیٹرولیم لیوی\n\nاین ایف سی ایوارڈ\n\nبے نظیر انکم سپورٹ پروگرام\n\nبلاول بھٹو نے قومی اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ پیٹرولیم لیوی کا پورا ریونیو وفاق کے پاس جانے سے صوبے اپنے آئینی حصے سے محروم ہو رہے ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 17:45\n\nMain image:\n\n> <p>پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری 18 جون، 2026 کو قومی اسمبلی میں خطاب کر رہے ہیں (نیشنل اسمبلی میڈیا سیل)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمسلح افواج نے پھر ثابت کیا کہ ملکی سرحدیں محفوظ ہیں: بلاول بھٹو\n\nآرٹیکل 243 میں ترمیم، آئینی عدالت پر حکومت کا ساتھ دینے کو تیار: بلاول بھٹو\n\nلگژری گاڑیوں کے ایندھن پر لیوی 300 روپے فی لیٹر کر دی گئی\n\nبجٹ میں برآمدات اور ٹیکس کے نظام پر کام کیا گیا: وزیر خزانہ\n\nSEO Title:\n\nپٹرولیم لیوی آئین اور صوبائی حقوق کی خلاف ورزی: بلاول بھٹو\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پٹرولیم لیوی آئین اور صوبائی حقوق کی خلاف ورزی: بلاول بھٹو"
}