{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiakggqiiyvmj7ivhgex7mkc3qofkawgz4fsgzmhv5txdcmwxhcai4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mokp7ckkxex2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreib3wk5c6mmciaqqa7tlce56eiyptdmbf3yteu63wku6ku5nl2tcge"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 56370
},
"path": "/node/186388",
"publishedAt": "2026-06-18T09:15:23.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ٹیلی گرام",
"سوشل میڈیا",
"انڈیا",
"پابندی",
"ایپ",
"انڈین عدالت",
"علیشا رحمٰن سرکار",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ٹیلی گرام نے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ سے قبل میسیجنگ ایپ پر عارضی پابندی عائد کرنے پر انڈیا کی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کر لیا ہے۔**\n\nحکومت نے منگل کو یہ دعویٰ کرتے ہوئے 22 جون تک ٹیلی گرام پر پابندی کا اعلان کیا کہ اس سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو امتحان دینے والے امیدواروں کو ’دھوکہ‘ دینے کے لیے استعمال کیا گیا۔\n\nاس اعلان پر فوری شدید ردعمل سامنے آیا۔\n\nتقریباً 23 لاکھ ڈاکٹر بننے کے خواہشمند امیدوار 21 جون کو نیشنل ایلیجبلٹی انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) دوبارہ دیں گے۔ مئی میں امتحانی پرچہ عام ہونے کے بعد یہ امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔\n\nپرچے کی منسوخی کے بعد وائرل ہونے والی کاکروچ جنتا پارٹی کی قیادت میں ملک گیر مظاہرے شروع ہو گئے اور وزیر تعلیم دھرمیندر پڑدھان کے استعفے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔\n\nپابندی کا اعلان کرتے ہوئے حکومت نے ٹیلی گرام کو جون کے آخر تک ملک میں اپنا میسیج ایڈیٹنگ فیچر بند کرنے کی ہدایت کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اسے امتحان کے بعد پیپر عام ہونے کے جعلی ثبوت گھڑنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔\n\nیہ پابندی انفارمیشن ٹیکنالوجی قانون کی ایک شق کے تحت عائد کی گئی، جو حکومت کو ’انڈیا کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد‘ میں آن لائن سائٹس تک رسائی روکنے کا اختیار دیتی ہے۔\n\nٹیلی گرام نے اب دہلی ہائی کورٹ میں اس پابندی کو چیلنج کر دیا ہے۔ اس کی درخواست پر بدھ کو سماعت ہو گی۔\n\nچھ جون 2026 کو نئی دہلی میں ملک کے بڑے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں پر احتجاج کے دوران کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے حامی نے کاکروچ کا ماسک اٹھا رکھا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nاس پابندی کے حوالے سے ایکس پوسٹ کے جواب میں ٹیلی گرام نے کہا: ’آپ کو تمام شاپنگ مالز بھی بند کر دینے چاہییں کیوں کہ ان میں سے کسی ایک میں چوری ہو سکتی ہے اور سڑکیں بھی بند کر دیں کیوں کہ میں نے سنا ہے کہ کوئی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔‘\n\nوزارتِ تعلیم نے کہا کہ اسے اس پابندی سے ’ہونے والی زحمت پر افسوس‘ ہے، جس سے ملک میں ٹیلی گرام کے کروڑوں صارفین متاثر ہوں گے۔\n\nتاہم، انہوں نے امتحان کی شفافیت کے تحفظ کے لیے اس اقدام کا ایک ’آخری حربے‘ کے طور پر دفاع کیا۔\n\nانہوں نے دعویٰ کیا کہ امیدواروں کو دھوکہ دہی سے بچانے کے لیے ٹیلی گرام چینلز کو بند کرنے سے نتائج ’برآمد نہیں ہوئے تھے۔‘\n\nوزارت نے کہا کہ وہ داخلہ ٹیسٹ دوبارہ منعقد کرنے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے، جن میں مزید لیکس سے بچنے کے لیے امتحانی مواد کی محفوظ منتقلی کی خاطر ایئر فورس کے طیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔\n\nتقریباً 15 کروڑ صارفین کے ساتھ انڈیا ٹیلی گرام کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اگرچہ 50 کروڑ سے زائد صارفین کے ساتھ واٹس ایپ سب سے بڑا میسیجنگ پلیٹ فارم ہے۔\n\nانٹرنیٹ کی آزادی کے حامیوں کا استدلال ہے کہ نریندر مودی حکومت شفاف امتحان منعقد کرنے میں اپنی ناکامی کا الزام سوشل میڈیا ایپ پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔\n\nٹیلی گرام کے شریک بانی پاول دوروف سان فرانسسکو، کیلیفورنیا میں 21 ستمبر 2015 کو پیئر کانفرنس 70 کے پہلے دن سٹیج پر بات کر رہے ہیں (سٹیو جیننگز / اے ایف پی)\n\n\n\n\nٹیلی گرام کے بانی پاول دوروف نے اس پابندی کو ’غلطی‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ’کچھ نہیں رکا۔‘ پاول دوروف کا کہنا تھا کہ ’لیکس محض دوسری ایپس پر منتقل ہو گئے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ یہ پابندی انڈیا میں عام صارفین کے لیے سزا ہے اور ’امتحانی مواد لیک کرنے والے اندر کے لوگوں کے لیے نہیں۔‘\n\nانہوں نے کہا: ’گذشتہ چند ہفتے کے دوران، ہم نے انڈیا میں لیک ہونے والا امتحانی مواد اور متعلقہ فراڈ شیئر کرنے والے سینکڑوں چینلز بند کیے ہیں۔‘\n\nانٹرنیٹ فریڈم فاؤنڈیشن نے کہا کہ یہ پابندی امتحانی فراڈ کا ’غیر متناسب جواب‘ تھی۔\n\nگروپ نے کہا کہ یہ اقدام ’ردعمل پر مبنی اور غیر موثر‘ تھا اور اس نے امتحانی پرچے لیک ہونے کے بنیادی ذرائع کو دور کرنے کے بجائے عام صارفین کو سزا دی۔\n\nاس نے مزید کہا: ’اس بات پر غور کرنا بھی اہم ہے کہ امتحانی پرچے لیک ہونے کا ذریعہ سسٹم کے اندر، اندر کے لوگوں، پرنٹنگ اور لاجسٹکس چین میں ہو گا، جب کہ یہ پلیٹ فارم ترسیل کا سب سے آخری ذریعہ ہے۔‘\n\nٹیک تجزیہ کار نکھل پاہوا نے کہا کہ اس پابندی نے ان کاروباروں کو غیر متناسب طور پر متاثر کیا ہے جو صارفین سے رابطے کے لیے ٹیلی گرام کمیونٹیز پر انحصار کرتے تھے۔\n\nانہوں نے ایکس پر کہا: ’اب امتحانات کے لیے، آپ ملک بھر میں ایک میسیجنگ پلیٹ فارم کو بلاک کر رہے ہیں۔ یہی کام واٹس ایپ اور ڈسکارڈ پر بھی ہو سکتا ہے۔ کیا آپ اسے بھی بلاک کر دیں گے؟‘\n\nانہوں نے پوچھا، ’یہ آزادی اظہار رائے پر ایک معقول پابندی کیسے ہے؟‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاول دوروف نے انڈین ٹیلی کام کی بڑی کمپنی ریلائنس پر الزام لگایا کہ وہ بارڈر گیٹ وے پروٹوکول ہائی جیکنگ نامی عمل کے ذریعے انڈیا سے باہر کے صارفین کے لیے ٹیلی گرام تک رسائی میں خلل ڈال رہی ہے۔\n\nانہوں نے دعویٰ کیا کہ ’یہ تخریب کاری دانستہ معلوم ہوتی ہے، کیوں کہ ریلائنس نے متعدد رپورٹس کو نظر انداز کیا ہے۔ یہ ایک مسابقتی جنگ کا حصہ ہو سکتا ہے، کیونکہ ریلائنس جزوی طور پر میٹا کی ملکیت ہے، جو واٹس ایپ چلانے والی کمپنی ہے۔‘\n\nمیٹا ارب پتی مکیش امبانی کی ریلائنس انڈسٹریز کے ڈیجیٹل اور ٹیلی کمیونیکیشن ونگ جیو پلیٹ فارمز میں ایک اقلیتی حصہ دار ہے۔\n\nپاول دوروف نے دعویٰ کیا کہ ٹیلی گرام کی ٹریفک کو جان بوجھ کر غلط سمت میں موڑا گیا، جس سے متحدہ عرب امارات کے صارفین بھی متاثر ہو رہے تھے۔\n\nبارڈر گیٹ وے پروٹوکول انٹرنیٹ کا روٹنگ سسٹم ہے، جو نیٹ ورکس کے ذریعے ڈیٹا کو ٹیلی گرام جیسی سروسز تک پہنچاتا ہے۔ اگر کوئی نیٹ ورک خود کو اس ٹریفک کے لیے بہترین راستے کے طور پر غلط طریقے سے پیش کرتا ہے تو وہ ڈیٹا کا رخ موڑ سکتا ہے، اس میں تاخیر کر سکتا ہے یا اسے روک سکتا ہے، یہ ایک مسئلہ ہے جسے بی جی پی ہائی جیکنگ کہا جاتا ہے۔\n\nاس کے نتیجے میں صارفین کو سروس کی بندش، ناکام کنکشنز، سست رفتار یا کسی سروس تک رسائی سے محرومی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nپاول دوروف نے کہا: ’عالمی انٹرنیٹ راؤٹنگ کا ایسا غلط استعمال تشویش ناک ہے۔ مجھے کوئی حیرانی نہیں ہو گی اگر انڈیا میں ٹیلی گرام پر پابندی کی حالیہ کوششوں کے پیچھے بھی ریلائنس اور واٹس ایپ کا ہاتھ ہو‘۔\n\nدی انڈپینڈنٹ نے تبصرے کے لیے ریلائنس انڈسٹریز سے رابطہ کیا ہے۔\n\nٹیلی گرام\n\nسوشل میڈیا\n\nانڈیا\n\nپابندی\n\nایپ\n\nانڈین عدالت\n\nسوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹیلی گرام کا کہنا ہے کہ ’آپ کو شاپنگ مالز بھی بند کر دینے چاہییں کیوں کہ ان میں سے کسی ایک میں چوری ہو سکتی ہے۔‘\n\nعلیشا رحمٰن سرکار\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 14:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">انڈین حکومت نے دھوکہ دہی کا الزام عائد کرتے ہوئے سوشل میڈیا ایپ ٹیلی گرام پر 22 جون 2026 تک عارضی پابندی لگائی (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا میں ٹیلی گرام ایپ کو کیوں بند کیا گیا؟\n\nٹیلی گرام کا انتہا پسندی اور پروپیگنڈا کے پھیلاؤ سے کیا تعلق؟\n\nٹیلی گرام کے بانی، سو سے زائد بچوں کے باپ پاول دوروف کون ہیں؟\n\n’وٹس ایپ سے دور رہیں:‘ ٹیلی گرام کے بانی کا انتباہ\n\nSEO Title:\n\nانڈیا: پابندی کے خلاف ٹیلی گرام کا عدالت سے رجوع\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "انڈیا: پابندی کے خلاف ٹیلی گرام کا عدالت سے رجوع"
}