{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreif4iqnojehqe6ifjrt3hyhr7ee6aqoshknvhbqvna2b5jechq2ip4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mok32sczaf42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiacobauxoxvnstbv5jy5jfl5d2utvg6swo44thnt43zxxqxalryhu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 144472
},
"path": "/node/186373",
"publishedAt": "2026-06-18T03:15:31.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"گلگت بلتستان",
"پاکستان پیپلز پارٹی",
"حکومت",
"عاشق فراز",
"بلاگ",
"news"
],
"textContent": "**گلگت بلتستان کے حالیہ انتخابات کے بعد اکثریتی بنیاد پر پاکستان پیپلز پارٹی نے اپنی حکومت بنانی ہے۔ اس پارٹی کو اچھا خاصا مینڈیٹ ملا ہے جس کی وجہ سے حکومت سازی اور اس سے آگے ترقیاتی اقدامات کے لیے بظاہر کوئی بڑی رکاوٹ یا مجبوری بھی سامنے نظر نہیں آ رہی ہے۔**\n\n2009 کے بعد یہ اس کی دوسری حکومت ہے اور اسے سابق حکومتوں سے زیادہ کارکردگی دکھانا ہوگی۔\n\nاگرچہ اسلام آباد میں مسلم لیگ ن کی اکثریتی حکومت ہے لیکن پیپلز پارٹی کہیں ظاہر میں اور کہیں باطنی طور پر شامل ضرور ہے۔ صدر مملکت کا عہدہ ان کے پاس ہے، ایوان بالا یعنی سینیٹ کا چیئرمین پیپلز پارٹی کا ہے، بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام کی چیئرپرسن ان کی ہے۔\n\nصرف اسی پہ اکتفا نہیں بلکہ سندھ اور بلوچستان میں پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومتیں بھی موجود ہیں اور مزید برآں پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کی گورنری بھی ان ہی کے دستِ قبضے میں ہیں۔ قومی سطح کے پاور سٹرکچر میں اتنا حصہ ہونے کے بعد یہ کہنے کا کوئی جواز نہیں رہ جاتا کہ ’اختیارات ہمارے پاس نہیں تھے لہذا ترقیاتی کام میں خلل پڑگیا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاب نئے وزیراعلیٰ پر منحصر ہوگا کہ وہ کس طرح کی کابینہ اور ٹیم بناتا ہے۔ سب سے پہلے تو جرات کے ساتھ یہ احسن قدم اٹھائے کہ کابینہ کا حجم مختصر رکھے اور بےجا وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج اکٹھی نہ کرے۔ دوسرا قدم یہ اٹھائے کہ سرکاری پروٹوکول اور کابینہ و وزیراعلیٰ کی سطح کے اخراجات میں یکدم کمی لائے۔\n\nوہ بھی اس پس ماندہ خطے میں جہاں اکثریت غربت کے منحوس چکر (vicious circle) میں پھنسی ہوئی ہے۔ باقی اہم ترجیحات سے پہلے یہ ابتدائی اقدامات اس لیے ضروری ہے کہ کچھ تبدیلی دکھائی دے اور عوام بھی محسوس کرے کہ کچھ اچھا ہونے جا رہا ہے۔\n\nاس کے بعد اگلی ترجیحات میں اہم بجلی کا بحران ہے جو تمام طبقہ ہائے روزگار کو شدید متاثر کر رہا ہے۔ بدقسمتی دیکھیے کہ ہاییڈرو انرجی کے بے پناہ مواقع کے باوجود گلگت، سکردو اور چلاس جو کہ تین انتظامی ڈویژنز کے ہیڈکوارٹرز ہیں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے بری طرح متاثر ہیں۔\n\nعلاوہ ازیں خپلو، استور، ہنزہ، نگر اور غذر کے صدر مقام بھی اسی طرح کی صورت حال سے دو چار ہیں۔ بجلی کی تنگ دستی کی وجہ سے علاقے کی معاشی حالت بھی ٹھیک نہیں۔ کاروبار خواہ وہ ایک چھوٹے سے کھوکھے پر مشتمل ہو یا بڑے بڑے ہوٹل، شاپنگ سینٹر سب بجلی کے لیے دہائی دے رہے ہیں۔\n\nسکردو میں تو یہ حالت ہے کہ جون کا مہینہ آدھا ہوگیا ہے لیکن بجلی آدھی بھی نہیں مل رہی ہے۔ واپڈا کی افسانہ طرازی بدستور جاری ہے اور وہ یہ کہ سردیوں میں پانی کم ہے اور گرمیاں آتے ہی سدپارہ ڈیم کے بجلی گھروں کی مشینیں کھانس رہی ہیں۔ غالباً گلگت اور دیگر اضلاع میں بھی بجلی گھر زکام زدہ ہوں گے۔\n\nنہ جانے داسو اور دیامر بھاشا ڈیمز کب بنیں گے اور کب نیشنل گرڈ سے منسلک ہوکر بجلی ملے گی؟ تب تک کیا علاقہ اندھیروں میں ڈوبا رہے گا؟ یہ سب طویل مدتی منصوبے ہیں، جن کی تعمیر میں وقت، حالات اور سرمائے کا اپنا کردار ہے جن کی بروقت دستیابی ایک علیحدہ سوال ہے۔\n\nایک تازہ ترین رپورٹ کے مطابق ہائیڈرو پراجیکٹس کے لیے نئے بجٹ میں کم رقم رکھی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وجہ سے ڈیمز پر کام کی رفتار معمول سے کم ہوگی اور اندیشہ ہے کہ داسو اور بھاشا دیامر جیسے ڈیم کی مدت تکمیل میں فرق پڑے گا۔\n\nایسے میں سکردو، گلگت، چلاس اور دیگر ضلعی صدر مقام کے شہریوں کے لیے کوئی متبادل حل تلاش کیا جائے۔ چھوٹے پن بجلی گھر، اچھی کوالٹی کی ہائیڈرو انرجی پیدا کرنے والی مشینوں کی خریداری، سولر پارک یا run of river کچھ تو حل ہوگا، اسے ڈھونڈیں اور عملی جامہ پہنانے کے لیے کمر کس لیں۔\n\nواپڈا اور پی ڈبلیو ڈی کے انجینیئرز بھی صرف بیئرنگ بدلنے اور ڈائنمو کے پسٹن بدلنے سے آگے کچھ کر نہیں پا رہے ہیں۔ تخلیقی صلاحیتوں کا فقدان ہے یا جدید ٹیکنالوجی کی افادیت سے بے خبر ہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے۔\n\nP&D کی ایک رپورٹ کے مطابق سردیوں میں موجودہ بجلی کا شارٹ فال 376 میگا واٹ جبکہ گرمیوں میں 121 میگاواٹ ہے۔ ایسی صورت حال میں گھریلو روشنی سے لے کر چھوٹی سطح کا کاروبار تک متاثر ہوتا ہوگا، اس کا تصور ہی تکلیف دہ ہے۔\n\nاس سے پہلے نئی حکومت کے لیے ایک سماجی مسئلہ بھی درپیش ہے اور وہ یکم مارچ کو امریکہ ایران جنگ کی وجہ سے گلگت بلتستان میں پیدا ہونے والا لا اینڈ آرڈر اور اس کے مضمرات ہیں۔ اس وجہ سے گلگت بلتستان کی فضا کافی مکدر رہی اور بڑا جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔ جوڈیشنل انکوائری کی گئی ہے جس کے نتائج بھی آنا ہیں اور اس کے نتیجے میں سماجی تناؤ ممکن ہے، جس یکجا کرنا سیاسی تدبر کے لیے ایک الگ چیلنج ہوگا۔\n\nصحت عامہ کے حوالے سے علاج معالجے کے لیے مرکزی ہسپتالوں اور بڑے قصبات کے ہیلتھ سینٹرز کو اپ گریڈ کرنا نہایت ضروری ہے۔ کچھ سالوں سے گلگت بلتستان میں ہارٹ اٹیک، معدے کے کینسر اور شوگر تیزی سے بڑھ گیا ہے۔ ماہرین اس کا ایک بڑا سبب غیر معیاری کوکنگ آئل اور دیگر اشیا خوردونوش بتاتے ہیں۔\n\nدوسری طرف ہسپتالوں میں سی ٹی سکین اور ایم آر آئی جیسی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہں جس کی وجہ سے بیماریوں کی صحیح تشخیص نہیں ہوتی ہے اور پھر کئی گنا زیادہ خرچ کرکے اسلام آباد یا لاہور جانا پڑتا ہے، تب تک بہت دیر ہو جاتی ہے۔\n\nوزیراعلیٰ گلگت بلتستان حاجی گلبر خان یکم ستمبر 2023 کو ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (گلگت بلتستان حکومت)\n\n\n\n\nاس حوالے سے اب نئی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ایک طرف تو وہ غیر معیاری اشیا خوردونوش پر کڑی نظر رکھے اور کوئی رعایت نہ برتیں۔ اس کے ساتھ صحت عامہ کے مراکز میں ڈایگنوسٹک سہولیات کی فراہمی کے لیے کوئی کوتاہی یا سستی قابل قبول نہیں ہے۔ حد یہ ہے کہ بلتستان ڈویژن کے واحد سرکاری ہسپتال سکردو میں گذشتہ دو سال سے ایک نامکمل ایم آر آئی مشین گرد آلود پڑی ہوئی ہے۔\n\nموسمیاتی تبدیلی بھی روز بہ روز بڑا خطرہ بن کر سامنے آ رہی ہے۔ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے، گلوف اور برفانی طغیانی کی وجہ سے زمین اور انسان دونوں کو خطرہ ہے۔ ایسی صورت میں ممکنہ خطرے والی جگہوں پر جدید طرز کے قبل از وقت وارننگ سسٹم کی تنصیب سے لے کر کمیونٹی کے اشتراک عمل کے ذریعے اس آفت سے نمٹنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔\n\nجہاں تک نوجوانوں کے لیے روزگار مہیا کرنا یا خطے کے قدرتی وسائل میں ان کی ملکیت اور شراکت داری کو تسلیم کرتے ہوئے بزنس کے مواقع پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے تحت کیے گئے MICS-17 سروے کے مطابق گلگت بلتستان کا کثیر الجہتی غربت (MPI) انڈیکس بھی دعوت فکر دے رہا ہے۔\n\nقابل کاشت اور زرعی زمین بہت کم ہے اور ایک فیملی کے پاس اوسطاً 0.6 سے 0.7 ایکڑ زمین ہے۔ ایسے میں منرلز، سیاحت اور چائنہ بارڈر ٹریڈ بہت اہم ذرائع ہیں، جہاں سے اس خطے کے نوجوانوں کو روزگار کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔\n\nاس کے لیے حکومتی پالیسی اور قانون سازی بھی اسی موافق بننی چاہیے جو اس خطے کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کی ضمانت بن سکے نہ کہ انویسٹمنٹ کے نام پر سب حقوق غیر علاقائی کارپوریٹ سیکٹر کو منتقل ہوں۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر بلاگر کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nگلگت بلتستان\n\nپاکستان پیپلز پارٹی\n\nحکومت\n\nحکومتی پالیسی اور قانون سازی بھی اسی موافق ہونی چاہیے جو اس خطے کے لوگوں خاص کر نوجوانوں کے لیے روزگار اور کاروبار کی ضمانت بن سکے نہ کہ انویسٹمنٹ کے نام پر سب حقوق غیرعلاقائی کارپوریٹ سیکٹر کو منتقل ہوں۔\n\nعاشق فراز\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 08:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">گلگت بلتستان اسمبلی کا بیرونی منظر (گلگت بلتستان حکومت ویب سائٹ)</p>\n\nبلاگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nگلگت بلتستان انتخابات غیر حتمی نتائج، پی پی پی کو برتری حاصل\n\nگلگت بلتستان الیکشن: انتخابی مہم جاری، عوام کی بڑی امید کیا ہے؟\n\nگلگت بلتستان کے الیکشن اور اسلام آباد میں صف بندیاں\n\nSEO Title:\n\nگلگت بلتستان کی نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "گلگت بلتستان کی نئی حکومت کی ترجیحات کیا ہونی چاہییں؟"
}