{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicp6marznkaqhvqz7rvxmfix3es2f3xdpqrliydq6z7pi7mhb2c5m",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojtpnqxji42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreieyqttvqiw3wpvhxtdmbvs3r6quzqwx7y6g6ofle7qydiyayqr2k4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 95938
},
"path": "/node/186379",
"publishedAt": "2026-06-18T03:00:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"فٹ بال",
"اظہار اللہ",
"video"
],
"textContent": "**دنیا بھر میں فیفا فٹ بال ورلڈ کپ کا جوش و خروش عروج پر ہے اور اس کھیل کی دیوانگی پاکستان کے تاریخی شہر پشاور میں بھی نمایاں نظر آ رہی ہے، جہاں اسلامیہ کالج یونیورسٹی آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمن فٹ بال چیمپیئن شپ کی میزبانی کر رہی ہے۔**\n\nٹورنامنٹ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت نو شہروں سے یونیورسٹیوں کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں۔\n\nیہ خواتین کھلاڑی صرف ٹرافی کے لیے نہیں بلکہ اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے عزم کے ساتھ میدان میں اتری ہیں۔\n\nیونیورسٹی آف مینیجمنٹ کی کھلاڑی ماریہ غضنفر نے کہا کہ ایک طرف فیفا ورلڈ کپ کی عالمی سطح پر رونقیں ہیں تو دوسری طرف اس طرح کے ایونٹس پاکستان میں خواتین کے لیے حوصلہ افزائی کا باعث بنتے ہیں۔\n\nان کے مطابق خواتین کھلاڑیوں کے بارے میں یہ تاثر غلط ہے کہ وہ جسمانی طور پر کمزور ہیں اور میدان میں ان کی کارکردگی اس سوچ کو رد کرتی ہے۔\n\nماریہ کا کہنا تھا کہ خواتین کو سب سے بڑا چیلنج معاشرتی رویے اور محدود سہولیات کا سامنا ہے۔\n\n’پاکستان میں خواتین کے لیے فٹ بال کی سہولیات ناکافی ہیں جبکہ مجموعی طور پر ملک میں مردوں کے کھیلوں کو بھی مکمل سپورٹ حاصل نہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپنجاب یونیورسٹی کی کھلاڑی ندا مظہر نے بتایا کہ پشاور میں آ کر اس ایونٹ میں حصہ لینا ان کے لیے حوصلہ افزا تجربہ ہے۔\n\nتاہم ان کا کہنا تھا کہ معاشرتی دباؤ اور تنقید، خصوصاً کھیل کے دوران لباس پر تبصرے، خواتین کھلاڑیوں کے لیے بڑا مسئلہ ہیں۔\n\nدوسری جانب پشاور کے میزبان ہونے کے باوجود خیبر پختونخوا کی کوئی یونیورسٹی ٹیم اس چیمپیئن شپ میں شریک نہیں۔\n\nاسلامیہ کالج یونیورسٹی کے ڈائریکٹر سپورٹس علی ہوتی کے مطابق مالی مشکلات کے باعث مقامی ٹیم مقابلے میں حصہ نہ لے سکی، تاہم صوبے میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ سہولیات کا فقدان بڑا مسئلہ ہے۔\n\nفٹ بال\n\nپشاور میں منعقدہ آل پاکستان انٹر یونیورسٹی ویمن فٹ بال چیمپیئن شپ میں نو یونیورسٹیوں کی کھلاڑی اپنے خوابوں کی تعبیر کے لیے میدان میں اتری ہیں۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعرات, جون 18, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ٹورنامنٹ میں کراچی، لاہور اور اسلام آباد سمیت نو شہروں سے یونیورسٹیوں کی ٹیمیں کھیل رہی ہیں (اظہار اللہ / انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n>\n> <p class=\"rteright\"> </p>\n\nفٹ بال\n\njw id:\n\nS17QAVzG\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’گلوبل ساؤتھ‘ کی علامت مراکش کی فٹ بال ٹیم یہاں تک کیسے پہنچی؟\n\nفیفا ورلڈ کپ: بنگلہ دیش میں برازیل اور ارجنٹائن کے فینز کیوں لڑ رہے ہیں؟\n\nفیفا ورلڈ کپ کے افتتاحی میچ میں پہلی بار تین ریڈ کارڈز\n\nپاکستان کی 74 برس بعد عالمی فٹ بال ٹورنامنٹ میں فتح\n\nSEO Title:\n\nپشاور: سماجی دباؤ سے لڑتی خواتین فٹ بالرز ایکشن میں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پشاور: سماجی دباؤ سے لڑتی خواتین فٹ بالرز ایکشن میں"
}