{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidd2zjt2iqt7nzeo7ljvjymnmiqveq4tatkmk3pew2zdbv3d5iutu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojn25ywpcz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiadlacndlgehodnkxa7ueptzcsx43dmzpspnhehxqfw7gqzq3ufsm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 98105
  },
  "path": "/node/186369",
  "publishedAt": "2026-06-17T06:37:33.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغان طالبان",
    "افغانستان",
    "روس",
    "ارپن رائے",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک روسی نوجوان کو سوشل میڈیا پر افغان طالبان کے بارے میں ایک پوسٹ پر توہین آمیز تبصرہ کرنے پر مبینہ طور پر 10,000 روبل (تقریباً 103 پاؤنڈ) جرمانہ کیا گیا ہے۔**\n\nیہ خبر ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب ماسکو نے افغانستان کی اس تحریک کے رہنماؤں کی میزبانی کر کے سفارتی تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کی۔\n\nروس سے متعلق خبریں دینے والے ادارے ’میڈیوزا‘ نے ٹیلی گرام چینل ’اوسٹوروژنو نووستی‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ19 سالہ یگور اے پر 5 جون کو روس کے شہر روستوف آن ڈان کی ایک عدالت نے جرمانہ عائد کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیگور کے وی کے (VK) نامی روسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کیے گئے تبصرے کا سکرین شاٹ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ایک ایسی پوسٹ کے نیچے کیا گیا تھا، جس میں لکھا تھا کہ ’طالبان روس کو گرینیڈز، کشمش، کوکاکولا، قالین اور کپاس سے بھر دیں گے۔‘\n\nاس کے جواب میں یگور نے لکھا: ’یہ لوگ روس میں کیا کر رہے ہیں، غاروں میں رہنے والے۔۔۔‘\n\nدی انڈپینڈنٹ اس اصل پوسٹ اور یگور کے تبصرے کی تصدیق نہیں کر سکا۔\n\nعدالت نے قرار دیا کہ یہ تبصرہ نسلی منافرت کو ہوا دینے کے مترادف ہے۔\n\nپراسیکیوٹرز نے یگور کی دو دیگر پوسٹس کی بھی نشاندہی کی جن میں اس نے ملک میں تارکین وطن کے خلاف تشدد کی اپیل کی تھی۔ میڈیوزا کے مطابق ملزم نے جرم قبول کیا اور ندامت کا اظہار کیا۔\n\nروس کئی مغربی ممالک کے برعکس طالبان کو افغانستان کی قانونی حکومت کے طور پر تسلیم کرتا ہے۔ روس کی سپریم کورٹ نے گذشتہ سال اپریل میں طالبان کی ’دہشت گرد‘ تنظیم کی حیثیت ختم کر دی تھی۔\n\n2003 میں عائد کی گئی یہ حیثیت روس میں طالبان سے کسی بھی قسم کے رابطے کو جرم بناتی تھی۔\n\nاس فیصلے کے بعد روسی حکام افغانستان کے استحکام کے لیے طالبان سے روابط بڑھانے پر زور دے رہے ہیں۔\n\nاسی سلسلے میں طالبان رہنماؤں کو روس کے مختلف فورمز میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔ مئی میں افغان وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ماسکو کا دورہ کیا اور ’بین الاقوامی سلامتی فورم‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے روس کے ساتھ سوویت دور کے افغان اسلحے کی مرمت اور بحالی کے لیے ایک معاہدے پر بھی دستخط کیے۔\n\nروسی سفیر دیمتری زرنوف کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات بھی بڑھ رہے ہیں اور افغانستان روس کو سافٹ ڈرنکس، مصالحہ جات اور خشک میوہ جات برآمد کر رہا ہے۔\n\nافغان طالبان\n\nافغانستان\n\nروس\n\nروس سے متعلق خبریں دینے والے ادارے ’میڈیوزا‘ نے ٹیلی گرام چینل ’اوسٹوروژنو نووستی‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ19 سالہ یگور اے پر 5 جون کو روس کے شہر روستوف آن ڈان کی ایک عدالت نے جرمانہ عائد کیا۔\n\nارپن رائے\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 11:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">روس کی جانب سے تین جولائی 2025 کو طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے فیصلے کے بعد افغان حکام ماسکو میں افغانستان کے سفارت خانے پر اپنا سفید پرچم آویزاں کر رہے ہیں (افغان سفارت خانہ، ماسکو)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nروس افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کرنے والا پہلا ملک\n\nافغان طالبان کی حکومت سے ’مکمل شراکت داری‘ قائم کر رہے ہیں: روس\n\nروس اور افغان طالبان کے درمیان گرمجوشی کی وجوہات کیا؟\n\nماسکو: افغان سفارت خانہ طالبان کے مقرر کردہ سفیر کے حوالے\n\nSEO Title:\n\nافغان طالبان کے خلاف سوشل میڈیا پوسٹ پر روسی نوجوان پر 100 پاؤنڈ جرمانہ\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/europe/russia-man-fined-taliban-post-afghanistan-b2996550.html\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "افغان طالبان کے خلاف پوسٹ پر روسی نوجوان پر 100 پاؤنڈ جرمانہ"
}