{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreicxbcegy3nlnhw6ftynb3shbxlgg4mmckedjdu4uplsniv4vt77dy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojmzuhx5i42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaaynfetcj4dy7gxh4jodgi2m2s2xz2cyeqrq7bvwm3lwgzx5uhcm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 53996
  },
  "path": "/node/186371",
  "publishedAt": "2026-06-17T08:00:05.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "ٹیلی گرام",
    "علیشا رحمٰن سرکار",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈیا کی حکومت نے ملک کے سب سے بڑے میڈیکل انٹری ٹیسٹ کی دوبارہ جانچ سے پہلے ٹیلی گرام میسجنگ ایپ کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے۔**\n\nوفاقی وزارتِ تعلیم نے منگل کے روز کہا کہ ٹیلی گرام کو 22 جون تک بند رکھا جائے گا کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ اس ایپ کو میڈیکل انٹری ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کو ’دھوکا دینے‘ کے لیے استعمال کیا گیا۔\n\nکم از کم 23 لاکھ امیدوار 21 جون کو نیشنل ایلیجیبلیٹی انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) دوبارہ دیں گے۔ یہ امتحان مئی میں پیپر لیک کے الزامات کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا۔\n\nامتحان کی منسوخی کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے، جن کی قیادت وائرل ہونے والی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے کی۔ اس کے ساتھ ہی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ بھی زور پکڑ گیا کیونکہ ان کے محکمے پر نیٹ اور دیگر اہم امتحانات کو سنبھالنے میں ناکامی کا الزام لگا۔\n\nٹیلی گرام پر پابندی آئی ٹی قوانین کی ایک سخت شق کے تحت لگائی گئی، جس کے تحت حکومت کو ’انڈیا کی خودمختاری اور سالمیت کے مفاد‘ میں آن لائن پلیٹ فارمز بلاک کرنے کا اختیار حاصل ہے۔\n\nوزارت نے ٹیلی گرام کو ہدایت دی ہے کہ جون کے آخر تک ملک میں میسج ایڈیٹنگ فیچر بھی بند رکھا جائے۔ آزمائش کروانے والے ادارے کا کہنا ہے کہ اس فیچر کو امتحان کے بعد جعلی ’پیپر لیک‘ کا تاثر پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔\n\nکاکروچ جنتا پارٹی کے کارکن 14 جون 2026 کو حیدرآباد میں ملک کے بڑے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کے دوران انڈین وزیرِ تعلیم دھرمندر پردھان کی تصویر والا پلے کارڈ اٹھائے ہوئے ہیں (نوح سیلم / اے ایف پی)\n\n\n\n\nادارے کے مطابق ایڈمنز پرانے پیغامات کو بعد میں ایڈٹ کر کے سوالیہ پرچے شامل کر دیتے تھے، جبکہ اصل وقت (ٹائم اسٹیمپ) برقرار رہتا تھا، جس سے یوں ظاہر کیا جاتا تھا کہ پیپر پہلے ہی لیک ہو گیا تھا۔\n\nانٹری ٹیسٹ کے دوبارہ انعقاد سے پہلے متعدد ٹیلی گرام چینلز بھی بنائے گئے جہاں جعلی سوالیہ پرچے فروخت کیے جا رہے تھے۔ حکام کے مطابق امیدواروں سے پیسے لے کر جعلی مواد دینے والے ایسے چینلز کو ہٹا دیا گیا۔\n\nاحمد آباد شہر میں کم از کم دو افراد کو گرفتار کیا گیا جنہوں نے طلبہ کو سوالیہ پرچہ دینے کا جھوٹا وعدہ کر کے دھوکا دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوزارتِ تعلیم نے کہا کہ ٹیلی گرام بند کرنے سے لاکھوں صارفین کو مشکل پیش آئے گی، اس پر ’افسوس‘ ہے، لیکن یہ ایک ’آخری اقدام‘ تھا کیونکہ اس سے پہلے پلیٹ فارم سے مواد ہٹوانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔\n\nٹیلی گرام انڈیا میں تیزی سے مقبول ہوا ہے اور ڈاؤن لوڈز کے لحاظ سے یہ اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے، اگرچہ واٹس ایپ اب بھی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ایپ ہے۔ اسی وجہ سے اس طرح کی پابندی ایک غیر معمولی اور وسیع اقدام سمجھا جا رہا ہے۔\n\nنیٹ تنازع کے بعد وزیرِ تعلیم نے کہا کہ نریندر مودی حکومت امتحان کے دوبارہ انعقاد کے لیے سخت اقدامات کر رہی ہے، جن میں سوالیہ مواد کی محفوظ ترسیل کے لیے فضائیہ کے طیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔\n\nاس کے علاوہ سوالیہ پرچہ تیار کرنے والے، ماڈریٹرز اور مترجمین کو ایک نامعلوم مقام پر محدود کر دیا گیا ہے تاکہ مزید لیکس روکی جا سکیں۔ ان افراد کے لیے موبائل فون، لیپ ٹاپ، سمارٹ واچز اور دیگر ذرائعِ رابطہ پر پابندی ہے جبکہ انٹرنیٹ اور بیرونی رابطوں کو بھی سختی سے محدود کر دیا گیا ہے۔\n\nرپورٹس کے مطابق اس مقام پر آنے اور جانے کی نگرانی کی جا رہی ہے اور صرف مجاز افراد کو داخلے کی اجازت ہے۔\n\nانڈیا\n\nٹیلی گرام\n\nوزارتِ تعلیم نے کہا کہ ٹیلی گرام بند کرنے سے لاکھوں صارفین کو مشکل پیش آئے گی، اس پر ’افسوس‘ ہے، لیکن یہ ایک ’آخری اقدام‘ تھا۔\n\nعلیشا رحمٰن سرکار\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 13:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">15 ستمبر 2016 کو پیرس میں لی گئی اس تصویر میں ایک سمارٹ فون پر پیغام رسانی کی ایپلی کیشن ٹیلی گرام دکھائی دے رہی ہے (کرسٹوف آرشامبو / اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا: میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ بنانے والے ’لاک ڈاؤن‘ میں کیوں؟\n\nٹیلی گرام کا انتہا پسندی اور پروپیگنڈا کے پھیلاؤ سے کیا تعلق؟\n\n’وٹس ایپ سے دور رہیں:‘ ٹیلی گرام کے بانی کا انتباہ\n\nانتقامی پورن: سربین خواتین کو نشانہ بنانے والے ٹیلی گرام گروپ\n\nSEO Title:\n\nانڈیا میں ٹیلی گرام ایپ کو کیوں بند کیا گیا؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/telegram-ban-neet-exam-paper-leak-b2996353.html\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "انڈیا میں ٹیلی گرام ایپ کو کیوں بند کیا گیا؟"
}