{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiae64i6r5qasq2zj6uhsr3ol52xlgop2cynj54futlrjr3f2gf7s4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojmzowou372"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreie6jbqv7bolgh6nuah56ip7h2ui2btmucphnua7dd2zpb73udeipe"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 69129
},
"path": "/node/186372",
"publishedAt": "2026-06-17T08:38:32.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"ایران جنگ",
"امریکہ",
"مفاہمت",
"امن معاہدہ",
"جوہری تنصیبات",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط جعمے کو متوقع ہیں، جس کے نتیجے میں ایک نئے 60 روزہ مذاکراتی عمل کا آغاز ہوگا۔**\n\nخبررساں ادارے بلوم برگ کے مطابق ان مذاکرات کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ کا مستقل خاتمہ اور ایران کے جوہری پروگرام کے مستقبل کا حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔\n\nاس مفاہمت میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔\n\nمعاہدے میں یہ وعدہ بھی کیا گیا ہے کہ امریکہ ایران پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کرے گا، اس کی اقتصادی ترقی کے لیے مالی وسائل فراہم کرے گا اور ایرانی معیشت کی بحالی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا۔\n\n**14 نکاتی مسودے کا مکمل اردو ترجمہ پیش ہے:**\n\n**1۔** اسلامی جمہوریہ ایران اور ریاستہائے متحدہ امریکہ، موجودہ جنگ میں شامل اپنے اتحادیوں کے ساتھ، اس مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کے ساتھ ہی تمام محاذوں بشمول لبنان میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔\n\nفریقین اس بات کا عہد کرتے ہیں کہ آئندہ ایک دوسرے کے خلاف کوئی جارحانہ کارروائی نہیں کریں گے اور نہ ہی ایک دوسرے کے خلاف طاقت کے استعمال یا اس کی دھمکی کا سہارا لیں گے۔\n\nحتمی معاہدہ اس شق اور دیگر تمام شقوں کی توثیق کرے گا۔\n\n**2۔** ایران اور امریکہ ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔\n\nوائٹ ہاؤس کی جاری کردہ اس تصویر میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ 21 جون، 2025 کو وائٹ ہاؤس کے سچویشن روم میں بیٹھے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**3۔** ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ وہ زیادہ سے زیادہ 60 دن کے اندر مذاکرات مکمل کرکے ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کریں گے۔\n\nیہ مدت باہمی رضامندی سے بڑھائی جا سکتی ہے۔\n\n**4۔** اس یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکہ ایران کے خلاف بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور ایران کی نقل و حرکت میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا مداخلت کو روکے گا۔\n\n30 دن کے اندر بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کیا جائے گا۔ ایران سے متعلق جہاز رانی کی سرگرمیاں جنگ سے پہلے کی سطح کے مطابق بحال ہوں گی۔\n\nامریکہ اس بات کا بھی پابند ہوگا کہ حتمی معاہدے کے بعد 30 دن کے اندر اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلا لے۔\n\n**5۔** اس مفاہمت پر دستخط کے بعد ایران فوری اقدامات کرے گا تاکہ خلیج عرب سے بحیرہ عمان اور بحیرہ عمان سے خلیج عرب تک تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 دن کے اندر جنگ سے پہلے والی سطح پر بحال ہو سکے۔\n\nاس عمل میں تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے اور ایران کی جانب سے بارودی سرنگوں کی صفائی کو مدنظر رکھا جائے گا۔\n\n**6۔** امریکہ اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا جس پر فریقین متفق ہوں گے اور جس کا مقصد ایران کی اقتصادی بحالی اور ترقی ہوگا۔ اس منصوبے کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔\n\nاس منصوبے پر عمل درآمد کا طریقۂ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 دن کے اندر تیار کیا جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n**7۔** امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ حتمی معاہدے کے تحت طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام قسم کی پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے گا۔\n\nان پابندیوں میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادیں، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کے اقدامات اور امریکہ کی تمام یک طرفہ بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہوں گی۔\n\n**8۔** ایران ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔\n\nایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ جوہری مواد کے مستقبل اور دیگر تمام جوہری معاملات، بشمول ایران کی جوہری ضروریات کو حتمی معاہدے میں مناسب انداز سے حل کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کی بھی توثیق کرے گا۔\n\n**9۔** ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے تک موجودہ صورت حال برقرار رکھی جائے گی۔\n\nاس دوران:\n\nایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا۔\n\nامریکہ ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا۔\n\nامریکہ خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ نہیں کرے گا۔\n\n**10۔** امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ اس مفاہمت پر دستخط کے فوراً بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ ایران کے خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلقہ مصنوعات کی برآمدات کے لیے خصوصی اجازت نامے جاری کرے گا۔\n\nان اجازت ناموں میں بینکاری، انشورنس، نقل و حمل اور دیگر متعلقہ خدمات بھی شامل ہوں گی۔\n\n**11۔** امریکہ اس بات کا عہد کرتا ہے کہ جیسے جیسے حتمی معاہدے کی جانب مذاکرات میں پیش رفت ہوگی، ایران کے منجمد یا محدود مالی اثاثے اور فنڈز جاری کیے جائیں گے اور ایران کو ان تک مکمل رسائی حاصل ہوگی۔\n\nیہ فنڈز، خواہ مرکزی اکاؤنٹس میں موجود ہوں یا منتقل کیے جا چکے ہوں، ایران کے مرکزی بینک کی ہدایات کے مطابق استعمال کیے جا سکیں گے۔\n\nامریکہ اس مقصد کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور لائسنس جاری کرے گا۔\n\nایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 11 اپریل 2026 کو اسلام آباد پہنچے تھے (فائل فوٹو پاکستان وزارت خارجہ)\n\n\n\n\n**12۔** ایران اور امریکہ اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے کے کامیاب نفاذ اور مستقبل میں اس کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی طریقۂ کار قائم کیا جائے گا۔\n\n**13۔** اس مفاہمت پر دستخط کے بعد اور شق 4، 5، 10 اور 11 پر عمل درآمد شروع ہونے کی ضمانت ملنے اور ان اقدامات کے تسلسل کی یقین دہانی کے بعد ایران اور امریکہ باقی ماندہ شقوں کے بارے میں حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔\n\n**14۔** حتمی معاہدے کی منظوری اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک پابند قرارداد کے ذریعے دی جائے گی، جس کے بعد یہ بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل کر لے گا۔\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nامریکہ\n\nمفاہمت\n\nامن معاہدہ\n\nجوہری تنصیبات\n\nاس مفاہمت میں جنگ کے فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ امریکہ کی جانب سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور اردگرد کے علاقوں سے اپنی افواج واپس بلانے کی شقیں بھی شامل ہیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 13:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">11 اپریل 2026 کو وزیر اعظم شہباز شریف امریکہ-ایران امن مذاکرات سے قبل ملاقات کے دوران ایرانی وفد کا استقبال کر رہے ہیں (وزیر اعظم آفس)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nek73PJCa\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ-ایران معاہدے کی سب سے تشویشناک شق\n\nایران نے ’اچھا رویہ‘ نہ اپنایا تو دوبارہ بم برسائیں گے، ٹرمپ کی وارننگ\n\n30 ایرانیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں: پاکستان\n\nایران میں سرمایہ کاری نہیں کر رہے: صدر ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان 14 نکاتی معاہدے کے نکات کیا ہیں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے 14نکات کیا ہیں؟"
}