{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig6kbqyewywhlvahkesmxyhqksbncur3garqrav6kk7x2od2mhlie",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojmzkepmj42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif3j5rasybxkhuhoiqjv3gdg36vdzs6efwf3ia6iigpcxdbtbzw7q"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 885237
  },
  "path": "/node/186375",
  "publishedAt": "2026-06-17T11:52:44.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "جنوبی وزیرستان",
    "لشکر",
    "قبائلی ضلعے",
    "کالعدم تحریک طالبان پاکستان",
    "شدت پسندی",
    "دہشت گردی",
    "اغوا برائے تاوان",
    "دلاور خان وزیر",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں 18 سال بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے خلاف 600 افراد پر مشتمل قومی لشکر بنایا گیا ہے جنہوں نے مختلف علاقوں میں مورچے سنبھال لیے ہیں۔**\n\nحکومت نے اس سے قبل بھی لشکروں کی تشکیل کی کوششیں کی تھیں لیکن قبائل اس کے لیے تیار نہیں تھے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ اب وہ کیوں اور کیسے تیار ہوئے؟\n\nوانا میں پہلی دفعہ ازبکوں، طالبان اور غیر ملکی عسکریت پسندوں کے خلاف 2007 میں ایک قومی لشکر بنا تھا، جس نے کارروائی کرتے ہوئے غیر ملکیوں جنگجوؤں کو علاقے سے بے دخل کیا تھا۔ ازبک اور طالبان 2003 میں پہلی مرتبہ وانا آئے تھے۔\n\nکئی فوجی کارروائیوں اور معاہدوں کے بعد 2018 میں پختون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) نے ان طالبان کی موجودگی کی مخالفت شروع کی۔ تب سے یہ لشکر، جنہیں بعض حلقے ’گوڈ طالبان‘ بھی کہتے ہیں، آہستہ آہستہ کمزور ہونے لگے۔\n\nتحریک طالبان پاکستان نے ان نام نہاد ’گوڈ طالبان‘ کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک دفعہ پھر وانا کے مختلف علاقوں میں ٹھکانے بنا لیے اور سات سالوں میں مزید پھیل گئے۔\n\nاب 18 سال بعد ایک دفعہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قومی لشکر بنا ہے۔\n\nلشکر کے سربراہ ملک جمیل سے رابطہ کیا گیا تو وہ قومی مشران کے ساتھ مشاورت میں مصروف تھے۔ ان کے بھائی ضیا الدین نے بتایا کہ لشکر کامیابی کے ساتھ اپنے اپنے مورچوں میں موجود ہے اور اسے مقامی انتظامیہ اور پولیس کی مکمل حمایت حاصل ہے۔\n\nاعلیٰ پولیس آفیسر آصف خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ لشکر بنانے کے بعد کڑی کوٹ بازار میں دوبارہ رونقیں بحال ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توجئے خیل کے علاوہ دوسری قوموں کے جرگے جاری بھی ہیں، وہ بھی اپنے اپنے لشکر بنانے میں کامیاب ہوں گے، البتہ تاحال کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔\n\nوزیرستان میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد ایک دفعہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قومی لشکر بنا ہے (دلاور خان وزیر)\n\n\n\n\nجنوبی وزیرستان لوئر کے پولیس سربراہ طاہر خان وزیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ پولیس اور سول انتظامیہ کوشش کر رہی ہے کہ امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی کی جائیداد اور کاروبار کو نقصان نہ پہنچے۔\n\nویسے تو پہاڑی علاقوں میں تحریک طالبان پاکستان کی سرگرمیاں لشکر کے کمزور ہونے کے بعد چھ سالوں سے جاری تھیں، تاہم گذشتہ دو سالوں سے وہ میدانی علاقوں میں اتر آئے ہیں، جہاں وہ مساجد اور لوگوں کے گھروں کے سامنے دن رات موجود رہتے ہیں۔\n\nصرف یہ نہیں کہ وہ مساجد اور باغات میں وقت گزارتے ہیں بلکہ لوگوں کے گھروں سے کھانے پینے کے علاوہ پیسوں کے مطالبات بھی کر رہے ہیں۔ جب کوئی نقد رقم دینے سے انکار کرے تو اسے اٹھا لیا جاتا ہے۔\n\nگذشتہ چھ ماہ میں دو درجن سے زیادہ عام شہریوں کے علاوہ سابق وفاقی وزیر غالب خان کے بھائی وارث خان اور موجودہ ایم این اے کے بھائی کو بھی اغوا برائے تاوان کا سامنا رہا ہے۔\n\nممبر قومی اسمبلی زبیر خان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے مسلح جنگجوؤں کے آنے کے بعد علاقے میں تعلیمی اداروں کے علاوہ کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلح افراد ان سے ایک کروڑ روپے کا مطالبہ کر رہے تھے، جس کے انکار پر ان کے بھائی کو اغوا کر لیا گیا، جنہیں بعد میں ایک ڈیل کے ذریعے رہائی ملی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nطالبان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں لوگوں نے علاقہ چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان، پشاور یا ملک کے دیگر حصوں کا رخ کیا ہے، تاہم بعض قبائلی مشران نے علاقہ چھوڑنے کے بجائے طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا، جن میں سے ایک ملک جمیل خان ہیں۔\n\nپانچ ماہ قبل ملک جمیل نے ایک قومی جرگہ طلب کیا تھا، جس میں بتایا گیا تھا کہ طالبان صرف سرکار کے لیے نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے خطرہ بن گئے ہیں، جن کے خلاف کھڑے ہونے کا وقت آ چکا ہے۔\n\nملک صاحب نے اسی جرگے میں طالبان کے خلاف کھڑے ہونے کا اعلان کیا، لیکن ان کی قوم کے بہت کم لوگوں نے ان کا ساتھ دیا۔\n\nاس کے بعد ملک جمیل وانا بازار سے گھر جا رہے تھے کہ کڑی کوٹ کے قریب ان کی گاڑی ایک دھماکے کا نشانہ بنی، جس کے نتیجے میں ان کا 25 سالہ نوجوان بیٹا جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ ملک جمیل پر حملوں کا یہ سلسلہ مزید تیز ہوا اور کئی بار انہیں نشانہ بنانے کی کوششیں کی گئیں۔\n\nجب شدت پسند ملک جمیل کو نشانہ بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے تو ان کے مزید دو نوجوان بیٹوں کو اس وقت فائرنگ کر کے مار دیا گیا، جب وہ کڑی کوٹ بازار سے موٹر سائیکل پر اپنے گھر جا رہے تھے۔ اس واقعے کے بعد توجئے خیل قبائل میں انتہائی غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔\n\nچند ہی دن گزرے تھے کہ مسلح افراد نے ایک بار پھر ملک جمیل کو نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ اس بار ویسے بھی قبائلی عوام میں غم و غصہ پایا جاتا تھا، جیسے ہی حملے کی خبر پھیلی تو لوگ مسلح ہو کر اپنے گھروں سے نکل آئے۔ اتنی بڑی تعداد میں لوگوں کو دیکھ کر طالبان علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔\n\nاس واقعے کے بعد قوم کے مشران نے مساجد کے لاوڈ سپیکروں سے اعلانات کیے کہ توجئے خیل قبائل جہاں بھی ہوں، وہ کڑی کوٹ آ جائیں۔ اس کے نتیجے میں 600 افراد پر مشتمل لشکر بنا، جو مختلف اہم مقامات پر دن رات نگرانی کرنے لگا۔\n\nاس وقت سے لشکر اور طالبان کے درمیان کبھی دن اور کبھی رات کو جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔\n\nجنوبی وزیرستان\n\nلشکر\n\nقبائلی ضلعے\n\nکالعدم تحریک طالبان پاکستان\n\nشدت پسندی\n\nدہشت گردی\n\nاغوا برائے تاوان\n\nوانا اور نواحی علاقوں میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد بننے والے قومی لشکر نے مختلف مقامات پر مورچے سنبھال لیے۔\n\nدلاور خان وزیر\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>وزیرستان میں طالبان کی بڑھتی کارروائیوں، اغوا اور بھتہ خوری کے خلاف قبائل ایک بار پھر متحد ہو گئے اور 18 سال بعد ایک دفعہ پھر تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قومی لشکر بنا ہے (دلاور خان وزیر)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجنوبی وزیرستان کے وانا بازار میں دھماکہ، 7 افراد کی موت: مشیر صحت\n\nقبائلی اضلاع، دوسال بیت گئے پھر بھی لشکرکشیاں کیوں؟\n\nجنوبی وزیرستان خودکش دھماکہ: دو افراد کی موت، 14 زخمی\n\nوزیرستان دھماکے میں زخمی ہونے والے جے یو آئی رہنما چل بسے\n\nSEO Title:\n\nجنوبی وزیرستان: 18 سال بعد طالبان کے خلاف 600 افراد پر مشتمل قومی لشکر تشکیل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "جنوبی وزیرستان میں 18 سال بعد طالبان کے خلاف قومی لشکر تشکیل"
}