{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifzuihnrxxwt7ehf4ztcyja2d7o7xr64cafl35ewt2n6qc3iu2h6i",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojmz5uexa42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigl2wxzv5kctxdptaxnxzn6hipmftvqv3aimfyyftcqaieeoefo6u"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 603117
},
"path": "/node/186378",
"publishedAt": "2026-06-17T15:54:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بلوچستان",
"بجٹ 2026",
"ترقیاتی منصوبے",
"امن و امان",
"ملازمتیں",
"محمد عیسیٰ",
"معیشت",
"news"
],
"textContent": "**بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے بدھ کو مالی سال 2026-27 کا 1089 ارب روپے حجم کا صوبائی بجٹ پیش کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں سات فیصد اضافے اور پانچ ہزار نئی سرکاری آسامیوں کا اعلان کیا ہے۔**\n\nبلوچستان حکومت نے بجٹ میں عام شہریوں کو مختلف شعبوں میں ریلیف اور سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکس فری بجٹ ہے اور اس میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا۔\n\nبجٹ کا مجموعی حجم 1089 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ کا حجم 206 ارب روپے رکھا گیا ہے، جن میں نئی سکیموں کے لیے 106 ارب روپے اور صوبے بھر میں جاری ترقیاتی سکیمز کے لیے 100 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nترقیاتی بجٹ میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں کے 44 ارب 55 کروڑ روپے شامل ہیں۔ این ایف سی ایوارڈ کے تحت بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے لیے وفاقی محاصل سے آمدنی کا اندازہ 834 ارب 44 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ بلوچستان کے اپنے وسائل سے آمدنی کا تخمینہ 170 ارب روپے ہے۔\n\nوزیر خزانہ نے کہا کہ بلوچستان کی آمدنی کا مجموعی تخمینہ ایک ہزار 134 ارب 92 کروڑ روپے ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے مجموعی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 89 ارب 36 کروڑ روپے ہے۔\n\nبجٹ میں 45 ارب 56 کروڑ روپے کا سرپلس ظاہر کیا گیا ہے۔\n\nآئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کے شعبے کے لیے 157 ارب 28 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ امن و امان کے شعبے کے لیے مجموعی طور پر 107 ارب 92 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ اسی طرح صحت کے شعبے کے لیے 73 ارب 99 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nوزیر خزانہ نے بتایا کہ سماجی تحفظ کے شعبے کے لیے 15 ارب 13 کروڑ روپے، جبکہ کھیل اور تفریحی سرگرمیوں کے لیے 8 ارب 54 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔\n\nبلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں زراعت کے ترقیاتی بجٹ کی مد میں 4 ارب 40 کروڑ روپے اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 19 ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ محکمہ انتظام اجناس کے ترقیاتی اخراجات کے لیے 90 لاکھ جبکہ غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے 5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nاسی طرح محکمہ بلدیات کا ترقیاتی بجٹ 85 لاکھ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 41 ارب 40 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ محکمہ مواصلات و تعمیرات کا ترقیاتی بجٹ 27 ارب جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nمحکمہ ٹرانسپورٹ کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 50 کروڑ روپے جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ ایک ارب 29 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کا ترقیاتی بجٹ 12 ارب 80 کروڑ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 5 ارب 79 کروڑ روپے ہے۔ آبنوشی کے شعبے کا ترقیاتی بجٹ 7 ارب 60 کروڑ جبکہ غیر ترقیاتی بجٹ 12 ارب 40 کروڑ روپے ہے۔\n\nوزیر خزانہ شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ محکمہ کان کنی کا ترقیاتی بجٹ ایک ارب 45 کروڑ اور غیر ترقیاتی بجٹ 4 ارب 70 کروڑ روپے ہے، جبکہ محکمہ ماہی گیری و ساحلی ترقی کا ترقیاتی بجٹ 34 کروڑ 60 لاکھ اور غیر ترقیاتی بجٹ 2 ارب 27 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔\n\nآئندہ مالی سال میں صوبے کو این ایف سی کے تحت ٹیکس محصولات کی مد میں 771 ارب روپے وصول ہوں گے۔ بلوچستان حکومت نے صوبائی ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کیا ہے۔\n\nمیر شعیب نوشیروانی نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ ٹیکس فری ہے اور کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جا رہا۔ پبلک ٹرانسپورٹ پر سیلز ٹیکس ختم کیا گیا ہے، جبکہ نئی الیکٹرک گاڑیوں پر 100 فیصد ٹیکس معاف کیا گیا ہے۔ پبلک جائیداد کی بیمہ پر سیلز ٹیکس بھی ختم کر دیا گیا ہے۔\n\nآئندہ مالی سال میں صوبے میں صنعتی ترقی کے لیے ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں بیرونی سرمایہ کاری پر صوبائی ٹیکس بھی معاف کیے گئے ہیں۔ اسی طرح تعلیمی خدمات پر سیلز ٹیکس صفر فیصد کر دیا گیا ہے۔\n\nوزیراعلیٰ کی مائیکرو فنانس اسکیم کے تحت ایک ارب روپے کے بلاسود قرضوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔ عوامی فلاح کے لیے عوام انڈومنٹ فنڈ کے لیے 1.3 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبلوچستان ایجوکیشن سپورٹ فنڈ کے ذریعے طلبہ کی معاونت کے لیے 2.8 ارب روپے، بلوچستان ہیلتھ کارڈ پروگرام کے لیے مزید 1.5 ارب روپے، جبکہ شہید بے نظیر بھٹو سکالرشپ کے لیے 54 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nبجٹ دستاویز کے مطابق توانائی کے شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 5.3 ارب اور غیر ترقیاتی مد میں 4.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ ماحولیات و ماحولیاتی تبدیلی کے غیر ترقیاتی بجٹ کو 862 ملین سے بڑھا کر ایک ارب کر دیا گیا ہے، جبکہ ترقیاتی مد میں 62 ملین روپے رکھے گئے ہیں۔\n\nمحکمہ لائیو اسٹاک کے لیے ترقیاتی مد میں ایک ارب اور غیر ترقیاتی مد میں 8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ لیبر اینڈ مین پاور کے لیے ترقیاتی مد میں 58 ملین جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 5.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔\n\nمحکمہ صنعت و حرفت کے لیے ترقیاتی مد میں 4.2 ارب جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 4.76 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ سماجی بہبود کے لیے ترقیاتی مد میں 329 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں 6.39 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔\n\nمحکمہ کھیل و امور نوجوانان کے لیے ترقیاتی مد میں 645 ملین جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 2.62 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ جنگلات و جنگلی حیات کے لیے ترقیاتی مد میں 978 ملین اور غیر ترقیاتی مد میں 3.76 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔\n\nمحکمہ ثقافت و سیاحت کے لیے ترقیاتی مد میں 285 ملین جبکہ غیر ترقیاتی مد میں 1.81 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن و اینٹی نارکوٹکس کے لیے 3.31 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nبلوچستان\n\nبجٹ 2026\n\nترقیاتی منصوبے\n\nامن و امان\n\nملازمتیں\n\nوزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی نے 45 ارب روپے سے زائد سرپلس بجٹ پیش کیا جس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے لیے زیادہ فنڈز مختص کرنے اور عوامی ریلیف اقدامات شامل ہیں۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 20:45\n\nMain image:\n\n> <p>بلوچستان کے وزیر خزانہ میر شعیب نوشیروانی 17 جون 2026 کو کوئٹہ میں صوبائی بجٹ پیش کر رہے ہیں (اے پی پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسندھ بجٹ: گوگل گلاسز، مفت سولر سسٹم اور 50 ڈبل ڈیکر بسیں\n\nپنجاب بجٹ: تعلیم کے لیے سب سے زیادہ 750 ارب روپے مختص\n\nایران معاہدے کے بعد بجٹ اہداف میں بہتری کی امید: پاکستان\n\nبجٹ میں برآمدات، صنعتوں کے لیے کوئی خوشخبری نہیں: تاجر\n\nSEO Title:\n\nبلوچستان بجٹ: نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس معاف، 5 ہزار نئی نوکریاں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بلوچستان بجٹ: نئی الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس معاف، 5 ہزار نئی نوکریاں"
}