{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigjtborkbi563gslcdiyrgu33smafhgwvu2rujsi5e4yyko5jseae",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mojmyy6nny42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreie2zkoptqz3xc75qycbwmkunakij5wkcmpgdznul4jbx2szjeimhy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 90318
  },
  "path": "/node/186380",
  "publishedAt": "2026-06-17T16:28:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران جنگ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "اسلام آباد امن معاہدہ",
    "جنیوا",
    "پاکستان",
    "قطر",
    "آبنائے ہرمز",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ انہیں توقع ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر جلد دستخط ہو جائیں گے۔**\n\nتاہم انہوں نے اس کی حتمی تاریخ کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کا بھی اظہار کیا۔\n\nجی سیون سربراہی اجلاس میں ٹرمپ نے کہا ’اتوار کو ایران کے ساتھ جس معاہدے پر اتفاق ہوا تھا، اس پر جلد دستخط ہو جائیں گے، کل (جمعرات) یا شاید اگلے دن (جمعہ)۔‘\n\nاس سے قبل اعلان کیا گیا تھا کہ معاہدے پر جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط ہوں گے۔\n\nانہوں نے مزید کہا ’زیادہ امکان یہی ہے کہ ہم معاہدے پر دستخط کر لیں گے۔‘\n\nٹرمپ نے جی سیون کی اختتامی پریس کانفرنس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اگر ایران نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو وہ اس پر شدید بمباری کرنے کے لیے تیار ہیں۔\n\n’اگر وہ مناسب رویہ اختیار نہیں کرتے تو ان پر دوبارہ حملہ کیا جائے گا۔‘ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا ’وہ بمباری نہیں چاہتے، وہ نشانہ بننا نہیں چاہتے۔‘\n\nایران کے ساتھ اپنے معاملات پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے یاد دلایا کہ انہوں نے 2020 میں پاسداران انقلاب کے بیرونی آپریشنز کے سربراہ قاسم سلیمانی کو مارنے کا حکم دیا تھا، جنہیں انہوں نے بار بار ’پاگل ذہین‘ قرار دیا۔\n\nٹرمپ نے 28 فروری کے اس فضائی حملے کا بھی ذکر کیا جس میں ان کے بقول سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ شخصیات جان سے گئیں اور دعویٰ کیا کہ اس وقت وہ ناشتہ کر رہے تھے۔\n\nٹرمپ سے جنگ کے پہلے روز ایرانی شہر میناب کے ایک سکول پر ہونے والے مہلک حملے کے بارے میں بھی سوال کیا گیا، جس میں ایرانی حکام کے مطابق 155 افراد جان سے گئے تھے۔\n\nسوال کو ’عجیب‘ قرار دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا ’کسی نے یہ جان بوجھ کر نہیں کیا۔ غلطیاں ہو جاتی ہیں، جنگ ایک خوف ناک چیز ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’میں جانتا ہوں کہ اس کی تحقیقات جاری ہیں‘ اور صحافی کو مشورہ دیا کہ یہ سوال وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ سے کیا جائے۔\n\nنیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی فوج کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک امریکی ٹوماہاک کروز میزائل ہدف کے تعین میں غلطی کے باعث سکول سے جا ٹکرایا تھا۔\n\nٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کی جنگ کے دوران غیر جانب دار رہنے پر روسی صدر ولادی میر پوتن اور چینی صدر شی جن پنگ کا بھی شکریہ ادا کیا۔\n\nامریکی صدر نے مزید کہا کہ امریکہ، ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے ساتھ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام اور اس کے مبینہ پراکسی نیٹ ورکس پر بھی بات کرے گا۔\n\nانہوں نے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور قطر نے اس معاہدے کے لیے بہت محنت کی ہے۔\n\nصدر ٹرمپ نے امید ظاہر کی کہ یہ ممکنہ امن معاہدہ مشرق وسطیٰ میں وسیع تر امن کے قیام کی بنیاد بن سکتا ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ خطے میں استحکام کے لیے لبنان کے معاملے پر بھی کام کرنا ہو گا۔\n\n**معاہدے کے متن کا کچھ حصہ جاری**\n\nخبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق امریکی حکام نے بدھ کو کئی روز کی رازداری کے بعد ایران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (میمورنڈم آف انڈرسٹینڈنگ) کا متن صحافیوں کو پڑھ کر سنایا۔\n\nحکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مسودہ پڑھ کر سنایا، جسے ایران نے ابھی تک جاری نہیں کیا جبکہ اس پر باضابطہ دستخط کی تقریب جمعے کو متوقع ہے۔\n\nحکام کے مطابق معاہدے کے مسودے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کی افزودگی کم کرنے کے لیے ایک نیا ’کم از کم‘ معیار شامل ہے جبکہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف اسرائیل کے حالیہ حملوں کے بعد لبنان کی ’علاقائی سالمیت‘ کو یقینی بنانے سے متعلق شقیں بھی شامل کی گئی ہیں۔\n\nامریکہ معاہدے پر دستخط ہوتے ہی ایران پر عائد بعض وسیع پابندیوں میں نرمی کے لیے اقدامات کرے گا تاہم انہیں مکمل طور پر ختم نہیں کیا جائے گا۔\n\nحکام نے بتایا کہ امریکی مسودے کے تحت آبنائے ہرمز سے بلا معاوضہ گزرنے کی سہولت صرف 60 روز کے لیے دی جائے گی اور مستقبل میں فیس عائد کرنے کا امکان برقرار رکھا گیا ہے۔\n\nیہ معاہدہ جمعے کو سوئٹزرلینڈ میں دستخط کے لیے پیش کیا جائے گا۔ لیک ہونے والے عبوری معاہدے کی نقول کے مطابق ایران کو جنگ کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر ملنے کا تصور بھی شامل ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ یہ دستاویز مجموعی طور پر اسی متن سے مطابقت رکھتی ہے۔\n\nمعاہدے کے تحت امریکہ فوری طور پر ایران کو آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت دے گا جبکہ بعد ازاں تمام پابندیاں ختم کرنے کی پیشکش بھی کی گئی ہے۔\n\nیہ رعایتیں ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے کے مقابلے میں کہیں زیادہ وسیع ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے پہلے دور صدارت میں اس معاہدے سے امریکہ کو الگ کرتے ہوئے اسے ’تاریخ کا بدترین معاہدہ‘ قرار دیا تھا۔\n\nاس نئے معاہدے کو واشنگٹن میں شدید مخالفت کا سامنا ہو سکتا ہے جبکہ یہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا دکھائی دیتا ہے، جو معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے کے بعد ملکی میڈیا، سیاسی مخالفین اور بعض اتحادیوں کی تنقید کی زد میں ہیں۔\n\n**معاہدہ لڑائی ختم کرے گا اور نئے مذاکرات کا آغاز ہو گا**\n\nمعاہدے کی بیشتر شقیں جنگ سے پہلے کی صورتحال بحال کرنے سے متعلق ہیں، جن میں جنگ بندی، ایران کے جوہری پروگرام پر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا شامل ہے۔\n\nمعاہدے میں لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی کے خاتمے کی شق بھی شامل ہے۔\n\nیہ معاہدے کے حساس ترین حصوں میں سے ایک ہے کیونکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے لبنان کے وسیع علاقوں میں موجود رہے گا۔\n\nدوسری جانب ایران کا کہنا ہے کہ معاہدے کے تحت اسرائیل کو لبنان سے نکلنا ہوگا، تاہم لیک ہونے والی دستاویزات میں انخلا کا کوئی ذکر نہیں۔\n\nایک شخص، جسے ایم او یو پر دستخط کے بعد بریفنگ دی گئی تھی اور ایک دوسرے شخص، جس نے اس سے قبل معاہدے کی نقل دیکھی تھی، نے کہا کہ یہ متن بڑی حد تک نشریاتی ادارے العربیہ کی منگل کو شائع کی گئی تفصیلات سے مطابقت رکھتا ہے۔\n\nدونوں نے معاملے کی حساسیت کے باعث نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی۔\n\nمشرق وسطیٰ کے دو دیگر حکام نے بھی نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ العربیہ اور بلومبرگ کی شائع کردہ شقیں حتمی معاہدے سے بڑی حد تک مطابقت رکھتی ہیں۔\n\nوائٹ ہاؤس اور دیگر امریکی حکام نے معاہدے کی شرائط باضابطہ طور پر شائع نہیں کیں اور نہ ہی فوری طور پر سوالات کے جواب دیے۔\n\nتاہم وائٹ ہاؤس کے کمیونیکیشنز ڈائریکٹر سٹیون چیونگ نے بدھ کو سی این این کی جانب سے لیک شدہ متن شائع کیے جانے کے بعد سوشل میڈیا پر لکھا یہ ’حقیقی معاہدے کے متن کی عکاسی نہیں کرتا۔‘\n\nایران نے بھی معاہدے کا کوئی سرکاری متن جاری نہیں کیا۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے، جو پاسداران انقلاب کے قریب سمجھا جاتا ہے، دعویٰ کیا کہ بلومبرگ کے شائع کردہ متن میں بعض حصے شامل نہیں، تاہم مکمل تفصیلات فراہم نہیں کیں۔\n\nٹرمپ نے جنگ کے مختلف اہداف بیان کیے تھے، جن میں ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں کا خاتمہ، حزب اللہ اور دیگر اتحادی گروہوں کی حمایت ختم کرانا اور بعض اوقات ایرانی حکومت کا خاتمہ بھی شامل تھا۔\n\nعبوری معاہدہ ان تمام اہداف سے کم تر ہے، تاہم ٹرمپ نے بدھ کو اس کی تعریف کی۔\n\nانہوں نے فرانس میں جی سیون اجلاس کے موقعے پر کہا ’کسی کو نہیں معلوم کہ اس میں کیا ہے لیکن یہ بہت مضبوط معاہدہ ہے۔‘\n\nتاہم انہوں نے اس سے دستبردار ہونے کا امکان بھی ظاہر کیا۔ ’یہ ایک مفاہمتی یادداشت ہے اور اگر مجھے یہ پسند نہ آئی تو ہم دوبارہ ان پر گولیاں چلائیں گے اور بم برسائیں گے۔‘\n\n**ایران کو بڑی رعایتیں دی گئی ہیں**\n\nپاکستانی حکام، جو اس معاملے میں اہم ثالث کا کردار ادا کر رہے ہیں، کے مطابق بعض رعایتیں، جن میں تمام پابندیوں کا خاتمہ اور منجمد اثاثوں کی واپسی شامل ہے، مرحلہ وار دی جائیں گی اور ان کا انحصار جوہری مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاہم اس دوران امریکہ پابندیوں میں ایسی نرمی دے گا جس سے ایران آزادانہ طور پر تیل فروخت کر سکے گا۔\n\nایران کی تیل برآمدات سے 2024 میں 46 ارب ڈالر سے زائد آمدنی ہوئی تھی۔ اس کا سب سے بڑا خریدار چین ہے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ اس نے پابندیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے عالمی منڈی سے کم قیمت پر تیل خریدا۔\n\n60 روزہ مذاکرات کے آغاز ہی پر تیل کی فروخت کی اجازت دینا امریکہ کے ہاتھ سے ایک اہم دباؤ کا ذریعہ چھین لیتا ہے۔\n\n2015 کے معاہدے میں ایران کے تیل پر عائد پابندیاں صرف حتمی معاہدے کے بعد ہٹائی گئی تھیں۔\n\nیہ 2015 کے معاہدے سے کہیں زیادہ بڑی رعایت ہے، جس میں صرف بعض پابندیاں ہٹائی گئی تھیں اور اس کے بدلے ایران نے یورینیم کی افزودگی اور ذخائر میں نمایاں کمی کی تھی۔\n\nمعاہدے کے تحت ایران کو جنگ کے دوران امریکی اور اسرائیلی بمباری سے ہونے والے نقصانات کے بعد تعمیر نو کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر فراہم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جو ایک غیر معمولی رقم اور ایران کے لیے ایک بڑا فائدہ تصور کی جا رہی ہے۔\n\nتاہم اس کا انحصار بھی آئندہ مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔\n\nامریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ خلیجی عرب ممالک اس رقم کی سرمایہ کاری کریں گے لیکن ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران ایرانی حملوں سے ان ممالک کی تیل تنصیبات اور دیگر مقامات کو نقصان پہنچنے کے بعد ان کی جانب سے ایران کی مدد پر آمادگی یقینی نہیں۔\n\nٹرمپ نے بدھ کو ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اس فنڈ میں کوئی رقم نہیں دے گا اور اگر دیگر ممالک سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا فیصلہ ہوگا۔\n\nمعاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم کرے گا اور 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز میں آمدورفت جنگ سے پہلے کی سطح پر بحال ہو جائے گی، اگرچہ اس بات کا اعتراف بھی کیا گیا ہے کہ ایرانی بارودی سرنگوں کو ہٹانا پڑ سکتا ہے۔\n\n**متعدد امور مستقبل کے مذاکرات کے لیے چھوڑ دیے گئے**\n\nعبوری معاہدے میں ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کرنے سے متعلق مذاکرات کے لیے 60 روزہ مدت مقرر کی گئی ہے، جس میں ضرورت پڑنے پر توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔\n\nٹرمپ کی دوسری مدت صدارت میں اس حوالے سے کئی ادوار کے مذاکرات ہو چکے ہیں، لیکن کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا۔\n\nموجودہ معاہدے کے تحت امریکہ نے وعدہ کیا ہے کہ مذاکرات کے دوران فوجی کارروائی کی دھمکیاں نہیں دی جائیں گی۔\n\nعبوری معاہدے میں ایران نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا، جیسا کہ اس نے 2015 کے جوہری معاہدے میں بھی وعدہ کیا تھا۔\n\nایران جنگ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nاسلام آباد امن معاہدہ\n\nجنیوا\n\nپاکستان\n\nقطر\n\nآبنائے ہرمز\n\nصدر ٹرمپ نے پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ملکوں نے معاہدے کے لیے بہت محنت کی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جون 17, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ جی 7 اجلاس کے اختتام پر فرانس میں میڈیا سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کے 14نکات کیا ہیں؟\n\n30 ایرانیوں کی واپسی میں سہولت فراہم کر رہے ہیں: پاکستان\n\nایران معاہدے کے بعد بجٹ اہداف میں بہتری کی امید: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nایران معاہدے پر دستخط بہت جلد، شاید جمعرات یا جمعے کو: ٹرمپ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران معاہدے پر دستخط بہت جلد، شاید جمعرات یا جمعے کو: ٹرمپ"
}