{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiglebrod4nv2ouesonm7opoifr2dtfqarmj7lw4bx6gyyv2dcn22e",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mogvuolhfka2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihu7fmuyfcreh3d5si3phgsjebu7adbnrtzeb3yw473mq2gixigne"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 79172
  },
  "path": "/node/186351",
  "publishedAt": "2026-06-16T04:06:45.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "وزیر خزانہ",
    "پاکستانی معیشت",
    "بجٹ",
    "روئٹرز",
    "معیشت",
    "video"
  ],
  "textContent": "**وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے پیر کو روئٹرز سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان 2027 کے لیے اپنی معاشی پیش گوئیوں میں بہتری لا سکتا ہے، کیونکہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد صورت حال بہتر ہو سکتی ہے، تاہم بجٹ میں ترمیم ابھی قبل از وقت ہے۔**\n\nمحمد اورنگزیب کے مطابق جنگ کے دوران توانائی کی ترسیل کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا، جس کے باعث سپلائی چینز کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا، جبکہ اس تنازعے نے مہنگائی کو دوبارہ دوہرے ہندسے ’ڈبل ڈیجیٹ‘ میں دھکیل دیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع جاری رہتا تو اس کے دوسرے اور تیسرے درجے کے اثرات کو سنبھالنے کی حکمت عملی پر غور کیا جا رہا تھا۔ ان کے بقول توانائی کا ڈھانچہ متاثر ہوا ہے، اس لیے سپلائی چینز کو معمول پر لانے میں وقت درکار ہوگا۔\n\nوزیر خزانہ نے مزید کہا کہ آئندہ سال کے لیے بنائی گئی معاشی پیش گوئیوں میں بہتری کی گنجائش موجود ہے، لیکن بجٹ میں رد و بدل کرنا ابھی ’بہت قبل از وقت‘ ہوگا۔\n\nپاکستان کے مالی سال 2027 کے بجٹ میں معاشی شرحِ نمو 4 فیصد اور مہنگائی 8.2 فیصد رکھنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ دفاعی اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کر کے انہیں 3 کھرب روپے کر دیا گیا ہے، جبکہ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے کے لیے زیادہ ٹیکس وصولیوں پر انحصار کیا جا رہا ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**تجارتی قرضہ اور قرض دہندگان کا ڈھانچہ**\n\nوزیرِ خزانہ نے کہا کہ پاکستان مالی سال 2027 میں تجارتی قرضوں کا استعمال کر کے اپنے قرض دہندگان کے ڈھانچے میں تبدیلی لا سکتا ہے، تاہم بیرونی قرضے کے مجموعی حجم میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’حکومت کی کوشش ہے کہ دو طرفہ قرضوں کو جزوی طور پر کمرشل ذرائع سے تبدیل کیا جائے۔‘\n\nپاکستان نے گذشتہ ماہ متحدہ عرب امارات کے 3.4 ارب ڈالر کے ڈپازٹس واپس کیے، تاہم اسی کے بینکوں سے کمرشل فنانسنگ بھی حاصل کی، جو اسی تبدیلی کا حصہ ہے۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان پانڈا بانڈ، یورو بانڈ، امریکی ڈالر میں بانڈز اور پہلی بار روپے سے منسلک مگر ڈالر میں ادا ہونے والے بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتا ہے، تاہم ان کے حجم کا حتمی فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔\n\nبجٹ میں 2.82 ارب ڈالر کے کمرشل اور یورو بانڈ فنانسنگ کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ پاکستان کو 1 ارب ڈالر کے مساوی پانڈا بانڈ جاری کرنے کی منظوری بھی حاصل ہے، جس میں 25 کروڑ ڈالر کے ابتدائی اجرا کو ایشیائی ترقیاتی بینک اور ایشیائی انفراسٹرکچر سرمایہ کاری بینک کی 95 فیصد ضمانت حاصل تھی۔\n\n**تین بجٹ پیش کرنے والے وزیرِ خزانہ**\n\nمحمد اورنگزیب، جو ایک سابق بینکر ہیں، مسلسل تین بجٹ پیش کر چکے ہیں، جو پاکستان میں ایک کم ہی دیکھے جانے والا سلسلہ ہے کیونکہ یہاں حکومتیں اکثر اپنی مدت مکمل نہیں کرتیں اور وزرائے خزانہ بھی جلد بدل جاتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nگذشتہ سال انڈیا کے ساتھ تنازعے کے بعد پاکستان کی دفاعی صنعت میں عالمی دلچسپی بڑھی ہے، تاہم وزیرِ خزانہ کا کہنا ہے کہ دفاعی برآمدات میں ممکنہ اضافے کا اندازہ لگانا ابھی جلدی ہوگا۔\n\nانہوں نے کہا کہ حکومت کی فوری ترجیح دفاعی اخراجات کی تقسیم ہے کیونکہ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ سرحدوں پر کشیدگی ہے۔\n\nپاکستان کی دفاعی صنعت اس وقت تیزی سے سرگرم ہے کیونکہ اس کے لڑاکا طیارے، ڈرونز اور میزائلز کو جنگی میدان میں آزمودہ قرار دیا گیا ہے، جس کے بعد کئی خریداروں کی دلچسپی بڑھی ہے۔\n\n**ڈیجیٹل اثاثے اور کرپٹو ریگولیشن**\n\nپاکستان نے اس سال ڈیجیٹل اثاثوں کے شعبے کو باقاعدہ بنانے کے اقدامات کیے ہیں، جن میں بائنانس اور ورلڈ لبرٹی فنانشل کے ساتھ معاہدے شامل ہیں۔\n\nوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت کرپٹو کرنسی، ٹوکنائزیشن اور ڈیجیٹل ایکسچینجز کو ریگولیٹ کرے گی، جس کے بعد اس شعبے سے ٹیکس وصولی شروع کی جائے گی۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’کسی وقت اسے ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا، لیکن ابھی اس کا وقت نہیں ہے۔‘\n\nوزیر خزانہ\n\nپاکستانی معیشت\n\nبجٹ\n\nوزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق پاکستان 2027 کے لیے اپنی معاشی پیش گوئیوں میں بہتری لا سکتا ہے، کیونکہ ایران جنگ کے خاتمے کے بعد صورت حال بہتر ہو سکتی ہے۔\n\nروئٹرز\n\nمنگل, جون 16, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستان کے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 15 جون 2026 کو اسلام آباد میں روئٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو کے دوران گفتگو کرتے ہوئے (روئٹرز/اختر سومرو)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبجٹ میں برآمدات اور ٹیکس کے نظام پر کام کیا گیا: وزیر خزانہ\n\nبجٹ 2026 میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟\n\nدفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ\n\nبجٹ میں برآمدات، صنعتوں کے لیے کوئی خوشخبری نہیں: تاجر\n\nSEO Title:\n\nایران معاہدے کے بعد بجٹ اہداف میں بہتری کی امید: پاکستانی وزیر خزانہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "ایران معاہدے کے بعد بجٹ اہداف میں بہتری کی امید: پاکستان"
}