{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigypsyvohjmblmrl24itttw7jy7dziglqfv5sb72ffocxmq3yojpy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mogvu4kxkkp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibhbcefdinyf3vztkfji3uuyyte7dfoi6zzbju63nqflp2myozay4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 127789
},
"path": "/node/186357",
"publishedAt": "2026-06-16T08:38:39.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"افغان طالبان",
"افغان خواتین",
"اقوام متحدہ",
"سلامتی کونسل",
"ایسوسی ایٹڈ پریس",
"خواتین",
"news"
],
"textContent": "**اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے پیر کو متفقہ طور پر ایک قرارداد منظور کی ہے جس میں افغانستان کے طالبان حکمرانوں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف اپنی سخت پابندیوں کو فوری طور پر واپس لیں اور افغانستان کے اندر سرگرم عسکریت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کریں، جن پر پاکستان سرحد پار حملوں کا الزام عائد کرتا ہے۔**\n\nچین کے اقوام متحدہ میں سفیر فو کونگ، جن کے ملک نے اس قرارداد کی سرپرستی کی، نے کہا کہ امید ہے افغان حکومت ’انسانی حقوق کے تحفظ، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے مزید عملی اقدامات کرے گی اور کھلے پن، شمولیت اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرے گی۔‘\n\nاس قرارداد کے تحت افغانستان میں اقوام متحدہ کے سیاسی مشن کی مدت 17 جون 2027 تک بڑھا دی گئی ہے اور اسے یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ انسانی امداد کی فراہمی ’بلا امتیاز‘ جاری رکھے اور قومی و مقامی سطح پر ایسی حکمرانی کو فروغ دے جس میں جنس، مذہب یا نسل کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو اور خواتین، اقلیتوں، نوجوانوں اور معذور افراد کی مکمل، مساوی اور محفوظ شرکت یقینی بنائی جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ قرارداد ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب رواں ماہ مغربی شہر ہرات میں کم از کم 30 خواتین کو طالبان کے سخت لباس کے ضابطے کی خلاف ورزی پر گرفتار کیا گیا۔ ان گرفتاریوں کے خلاف ایک غیر معمولی احتجاج ہوا جسے طالبان پولیس نے تشدد سے منتشر کر دیا، جس میں اقوام متحدہ کے مشن یوناما کے مطابق ایک شخص کی موت اور متعدد زخمی ہوئے۔\n\nطالبان 2021 سے افغانستان پر حکومت کر رہے ہیں، جب امریکی قیادت میں افواج کے غیر منظم انخلا کے بعد وہ اقتدار میں آئے۔\n\nانہوں نے اسلامی شریعت کی سخت تشریح نافذ کی ہے، جس میں خواتین اور بچیوں پر سخت پابندیاں شامل ہیں، جیسے پرائمری تعلیم کے بعد تعلیم پر پابندی اور کئی ملازمتوں سے محرومی۔ اقلیتیں بھی ان پابندیوں سے متاثر ہوئی ہیں۔\n\nیہ قرارداد اقوام متحدہ کے مشن کو یہ اختیار بھی دیتی ہے کہ وہ طالبان، خطے کے ممالک اور عالمی برادری کے درمیان مذاکرات کو آسان بنائے۔\n\nافغان خواتین 21 مارچ 2024 کو صوبہ بدخشاں کے علاقے فیض آباد میں بارش کے دوران سڑک سے گزر رہی ہیں (عمر ابرار / اے ایف پی)\n\n\n\n\nامریکہ کی نائب سفیر جینیفر لوکیٹا نے کہا کہ ’اس سیاسی عمل کی کامیابی کے لیے طالبان کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہیں دہشت گردی کے خلاف اپنے وعدے پورے کرنے، افغانستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام کرنے، یرغمال بنا کر سفارت کاری ختم کرنے اور خواتین و بچیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکنے ہوں گی۔‘\n\nپاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے شدت پسندوں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان میں حملے کرتے ہیں، تاہم طالبان اس الزام کی تردید کرتے ہیں۔ فروری کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان جھڑپوں میں سینکڑوں افراد جان سے جا چکے ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے فضائی حملوں کے جواب میں کارروائی کی۔\n\nپاکستان کے اقوام متحدہ میں سفیر عاصم افتخار نے کہا کہ ’یہ قرارداد افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی پر سلامتی کونسل کی گہری تشویش ظاہر کرتی ہے، جو بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘\n\nنئی قرارداد یوناما کو افغانستان کی معاشی ترقی کو آگے بڑھانے کا بھی اختیار دیتی ہے، جس میں تجارتی و مالی سرگرمیوں میں سہولت فراہم کرنا اور مرکزی بینک کے اثاثے افغان عوام کے فائدے کے لیے واپس لانے کی کوششوں کی حمایت شامل ہے۔\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nافغان خواتین\n\nاقوام متحدہ\n\nسلامتی کونسل\n\nسلامتی کونسل سے متفقہ طور پر منظور قرارداد میں اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغان حکومت ’انسانی حقوق کے تحفظ، خصوصاً خواتین کے حقوق کے لیے مزید عملی اقدامات کرے گی۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nمنگل, جون 16, 2026 - 13:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">11 جون 2026 کو افغان صوبہ ہرات کے ضلع جبرئیل کے علاقے شہرک المہدی میں ایک مسجد کے باہر پہرہ دیتے ہوئے طالبان کے سکیورٹی اہلکار کے پاس سے ایک برقع پوش افغان خاتون گزر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nخواتین\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nطالبان سے افغان خواتین پر کام کرنے کی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ\n\nسلامتی کونسل میں افغان خواتین پر تازہ پابندیوں پر غور کا امکان\n\nحجاب کی خلاف ورزی پر افغان خواتین کی گرفتاری پر تشویش: اقوامِ متحدہ\n\nافغان خواتین: کیا مغرب خاموشی کا انتخاب کرے گا یا ہمت کا؟\n\nSEO Title:\n\nافغان طالبان خواتین کے خلاف سخت پابندیاں واپس لیں: اقوام متحدہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "افغان طالبان خواتین کے خلاف سخت پابندیاں واپس لیں: اقوام متحدہ"
}