{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig5zyus3pecvhdrubienv3n3jgp6mkqq32sl2ie7gk5boz422yeve",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mogvtndxatd2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihdgnce4e6p2fuerbwut4kc6p7xcv56uotexvcd3pf5xmkawfqfeq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 103354
  },
  "path": "/node/186360",
  "publishedAt": "2026-06-16T13:01:26.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پنجاب",
    "بجٹ",
    "2026",
    "پنجاب اسمبلی",
    "مریم نواز",
    "ارشد چوہدری",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پنجاب حکومت کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 903 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔ جبکہ آئندہ مالی سال کے لیے ترقیاتی پروگرام 752 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔**\n\nصوبائی وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ ٰ شجاع الرحمٰن نے منگل کو پنجاب اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ بجٹ عوامی ضروریات اور ترقیاتی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر تیار کیا گیا ہے اور اس کے ذریعے پنجاب کو معاشی استحکام کی جانب لے جایا جائے گا۔‘\n\nانہوں نے بتایا کہ ’تعلیم کے لیے 750 ارب روپے جبکہ صحت کے شعبے کے لیے بجٹ کا 10 فیصد سے زائد حصہ مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تاکہ بنیادی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔‘\n\nوزیر خزانہ کے مطابق بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سات فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جبکہ بلدیاتی اداروں کے لیے 803 ارب 88 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ ’کفایت شعاری اقدامات کے تحت وزرا، مشیروں اور معاونین کی تنخواہوں میں 25 فیصد کٹوتی اور سرکاری اخراجات میں کمی کی گئی ہے۔‘\n\nتقریر کے مطابق بجٹ میں ہونہار سکالرشپ پروگرام کے لیے فنڈز مختص کرنے اور وزیراعلیٰ لیپ ٹاپ پروگرام جاری رکھنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔\n\nاسی طرح سکول میل پروگرام کو مزید اضلاع تک توسیع دی جائے گی اور سرکاری سکولوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ کالجز میں آئی ٹی لیبز کے قیام اور آٹزم اسکولوں کی توسیع کے منصوبے بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔\n\nبجٹ تقریر کے مطابق ’صحت کے شعبے میں کینسر علاج و تحقیق کے منصوبوں کے لیے فنڈز مختص کیے گئے ہیں، جبکہ معاشی تبدیلی کے لیے PIVOT پروگرام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔\n\n’اس کے ساتھ ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ منصوبوں کو فروغ دینے اور ڈیجیٹل گورننس کے تحت ای گورنمنٹ اقدامات کو وسعت دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پنجاب میں مصنوعی ذہانت کے دفتر کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔‘\n\nمجتبیٰ ٰ شجاع الرحمٰن کے مطابق ’بجٹ میں صوبائی آمدن بڑھانے، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور محصولات میں اضافے کے اقدامات شامل ہیں، جبکہ پنجاب ریونیو اتھارٹی کی وصولیوں میں اضافے کا پلان بھی پیش کیا گیا ہے۔ مقامی حکومتوں کے لیے فنڈز میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدیگر اہم اعلانات میں صاف ستھرا پنجاب پروگرام کی توسیع، 2 ہزار الیکٹرک بسوں کے منصوبے کے لیے 168 ارب روپے، سڑکوں کی بہتری کے لیے 100 ارب روپے اور شجرکاری مہم کے تحت ایک کروڑ سے زائد درخت لگانے کے لیے 8 ارب روپے شامل ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ بجٹ میں جنوبی پنجاب میں 12 ہزار ایکڑ بنجر زمین پر درخت لگانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔\n\nبجٹ تجاویز کے حوالے سے حکومتی ایم پی اے غزالی سلیم بٹ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’پنجاب حکومت نے سب سے زیادہ قربانی دے کر وفاقی معیشت کو مستحکم کیا ہے۔ جتنا ممکن ہوسکتا تھا بجٹ میں عوامی مسائل حل کرنے کی کوشش کی ہے۔‘\n\nان کے مطابق لیکن جب تک آئی ایم ایف پیکج چلا رہا ہے اور معاشی صورت حال بہتر نہیں ہوتی بجٹ میں زیادہ ریلیف نہیں دیا جاسکا۔ لیکن اگلے سال تک معاملات بہتر ہوجائیں گے۔ لیکن محدود وسائل کے باوجود حکومت نے بہتر بجٹ بنایا ہے۔\n\nدوسری جانب اپوزیشن رہنما رانا آفتاب نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’یہ حکومت شاہ خرچیاں کرنے میں مصروف ہے۔ نہ گورننس میں بہتری آئی نہ ہی تعلیم یا صحت کا شعبہ اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکا۔‘\n\nان کے مطابق: ’وزیر اعلی اور وزیروں کی آسائشات پر عوامی خزانہ لٹایا جا رہا ہے۔ اس لیے صوبے کا نام بھی پنجاب کی بجائے مریم نواز رکھ دیا جائے۔ غریب کے لیے کوئی ریلیف نہیں ہے عام آدمی مایوس ہوچکا ہے۔ تیسرا نہیں پی ڈی ایم کا یہ پانچواں بجٹ ہے لیکن ہر سال کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے۔‘\n\nپنجاب\n\nبجٹ\n\n2026\n\nپنجاب اسمبلی\n\nمریم نواز\n\nپنجاب حکومت کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ صوبائی اسمبلی میں پیش کر دیا گیا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 5 ہزار 903 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, جون 16, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">16 جون، 2026 کی اس تصویر میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف بجٹ دستاویز 2026-27 پر دستخط کرتے ہوئے۔ ان کے ساتھ صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمٰن بھی موجود ہیں(تصویر: مریم نواز شریف فیس بک پیج)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبجٹ 2026: پنجاب کو کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟\n\nآئرلینڈ کی نورا رچرڈز، جنہوں نے جدید پنجابی ڈرامے کی بنیاد ڈالی\n\nپنجاب میں تعلیمی سال ’تقریبا 100‘ دن تک محدود، والدین پریشان\n\nپنجاب میں 43 ہزار سرکاری آسامیاں ختم کیوں کی گئیں؟\n\nSEO Title:\n\nپنجاب: تعلیم کے لیے سب سے زیادہ 750 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پنجاب بجٹ: تعلیم کے لیے سب سے زیادہ 750 ارب روپے مختص"
}