{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigtoqsiudds3imzw7rd5mkykvmigatvnmdo422ishfrga7jm644va",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mogvtikkh6n2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreife7lvrdpv4pwiyscr5lyjn5lwcm5zjbyyjbozehdmkngg2nr76hq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 87866
},
"path": "/node/186361",
"publishedAt": "2026-06-16T15:40:35.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"تالاب",
"پنجاب",
"ارشد چوہدری",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پنجاب کے ضلع قصور میں واقع چھانگا مانگا جنگل کے تالاب میں ایک ہی خاندان کے چار بچے ڈوب کر جان سے چلے گئے۔**\n\nمرنے والے بچے فیصل آباد سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔\n\nمحکمہ جنگلات پنجاب کے ترجمان حافظ طیب ستار نے بتایا کہ یہ افسوس ناک واقعہ جنگل کے کمپارٹمنٹ نمبر 65، بلاک نمبر تین میں پیش آیا۔\n\nان کے مطابق جس تالاب میں بچے ڈوبے وہ 2020-21 میں جنگلی حیات کی ضروریات پوری کرنے کے لیے تعمیر کیا گیا تھا اور یہ عوامی تفریح یا نہانے کے لیے مختص نہیں تھا۔\n\nترجمان نے بتایا کہ محکمہ جنگلات نے تالاب کے اطراف حفاظتی انتظامات، غیر مجاز داخلے سے متعلق انتباہی بورڈز اور دیگر وارننگ سائن نصب کیے ہوئے تھے۔\n\nابتدائی معلومات کے مطابق بچے اپنی نانی کے ہمراہ خاردار تار عبور کر کے جنگل کے اس حصے میں داخل ہوئے۔\n\nانہوں نے کہا کہ اطلاع ملتے ہی محکمہ جنگلات، پولیس اور ریسکیو 1122 کی ٹیمیں موقعے پر پہنچیں اور امدادی کارروائیاں شروع کر دیں۔\n\nریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق مرنے والوں میں 12 سالہ مراد اکبر، ان کے 11 سالہ بھائی عرفان اکبر، آٹھ سالہ بہن ماریہ اکبر اور 13 سالہ کزن عمران شامل ہیں۔\n\nریسکیو اہلکاروں نے بچوں کی لاشیں تالاب سے نکال کر پہلے چونیاں ہسپتال منتقل کیں، جہاں ضروری کارروائی کے بعد انہیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا۔\n\nاہل خانہ کے مطابق بچے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے کے لیے گاؤں ویر سنگھ والا میں اپنے ماموں کے گھر آئے ہوئے تھے۔\n\nریسکیو حکام کے مطابق تالاب کی گہرائی تقریباً آٹھ سے 10 فٹ تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nواقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ محکمہ جنگلات نے اس واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مکمل اور شفاف تحقیقات کے لیے متعلقہ اداروں سے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔\n\nمحکمہ جنگلات نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ جنگلاتی علاقوں میں غیر ضروری یا غیر محفوظ مقامات پر داخل ہونے سے گریز کریں اور حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔\n\nدریں اثنا وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کر لی۔\n\nسرکاری ریکارڈ کے مطابق چھانگا مانگا جنگل تقریباً 48.6 مربع کلومیٹر رقبے پر پھیلا ہوا ہے۔\n\nیہ جنگل ضلع قصور اور لاہور کے درمیان واقع ہے اور 1866 میں برطانوی دور حکومت میں لگایا گیا تھا۔\n\nچھانگا مانگا طویل عرصے سے سیاحوں اور تفریح کے شوقین افراد کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔\n\nلاہور ریلوے سٹیشن سے خصوصی ٹرین بھی یہاں تک چلائی جاتی ہے جبکہ جنگل کے اندر سیاحوں کے لیے خصوصی ٹرام سروس موجود ہے۔ اس کے علاوہ جنگل مختلف اقسام کی جنگلی حیات کا مسکن بھی ہے۔\n\nتالاب\n\nپنجاب\n\nمرنے والے بچے فیصل آباد سے گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے اپنے ننھیال آئے ہوئے تھے۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, جون 16, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p>29 جون، 2015 کو لاہور میں ایک گھر کے باہر ایمبولنسیں کھڑی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nنہریں اور تالاب، گرمی سے تنگ پاکستانیوں کی جائے پناہ\n\nکٹاس راج کا تالاب آنسوؤں سے بھرنا اچھا ہے یا؟\n\nSEO Title:\n\nچھانگا مانگا جنگل کے تالاب میں ایک ہی خاندان کے چار بچے ڈوب گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "چھانگا مانگا جنگل کے تالاب میں ایک ہی خاندان کے چار بچے ڈوب گئے"
}