{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihxd7br6jfvmidlyc5iwwg6dpprfhhj6fgwlvm2uxud62rhdfk4ia",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moe6oencatj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiccxbukt5qct4sf5j7eybkrnirdzhgufczm3cqgwtmmrpdgqytlyy"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 522416
  },
  "path": "/node/186343",
  "publishedAt": "2026-06-15T11:11:58.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "احتجاج",
    "مطالبات",
    "کالعدم تنظیم",
    "طارق فضل چوہدری",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "سیاست",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے پیر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام جموں و کشمیر میں احتجاج کرنے والوں کے 35 مطالبات میں سے 32 پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ تین مطالبات ابھی زیر التوا ہیں جن میں سے ایک معاملہ 12 نشستوں سے متعلق ہے، جس پر مذاکرات جاری ہیں۔**\n\nانہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی وزرا اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مقامی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے جبکہ وزیراعظم کشمیر بھی مذاکراتی عمل میں شامل رہے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ مسئلے گفتگو کے راستے سے نکلنا ہے لیکن کالعدم تنظیم کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی۔\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ کشمیر کے وزیراعظم فیصل راٹھور اگر بلواسطہ اس معاملے کو سلجھا سکیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔\n\nوفاقی وزیر کے مطابق حکومت نے تجویز دی ہے کہ معاملے کو آل پارٹیز کانفرنس، سپریم کورٹ ریفرنس یا اسمبلی کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ آئینی اور قانونی طریقہ کار کے بغیر تبدیلی ممکن نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ حکومت نے کلعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بھی اپیل کی ہے کہ احتجاج کو پرامن رکھا جائے اور مذاکرات کا راستہ اپنایا جائے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے احتجاج کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے جن میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جان سے گئے، جو افسوس ناک ہے۔\n\nطارق فضل چوہدری نے مزید کہا کہ مسائل کا حل صرف مذاکرات اور بات چیت میں ہے جبکہ تشدد سے کسی فریق کو فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ مستقبل میں معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو جائے گا۔\n\nطارق فضل چوہدری نے کہا کہ کشمیر میں متعدد میگا پروجیکٹس، سڑکوں اور دیگر ترقیاتی منصوبوں سے متعلق مالی معاملات اور مراعات پر حکومت نے اہم فیصلے کیے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ معاہدے کے تحت متاثرین کے لیے الاٹمنٹس، بجلی کے بلوں کی معافی اور دیگر مطالبات پر بھی پیش رفت کی گئی ہے۔\n\nان کے مطابق پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کابینہ کا حجم 36 سے کم کر کے 20 کر دیا گیا ہے جبکہ وزارتوں کی تعداد بھی نمایاں طور پر کم کی گئی ہے، جو معاہدے کا حصہ تھا۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nاحتجاج\n\nمطالبات\n\nکالعدم تنظیم\n\nطارق فضل چوہدری\n\nطارق فضل چوہدری نے پیر کو کہا کہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 35 مطالبات میں سے 32 پر عملدرآمد ہو چکا ہے جبکہ تین مطالبات ابھی زیر التوا ہیں جن میں سے ایک معاملہ 12 نشستوں سے متعلق ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 15, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p>وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری 15 جون 2026 کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے (سکرین گریب/پی ٹی وی)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکالعدم کشمیر کمیٹی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان\n\nکشمیر میں احتجاج کرنے والے غدار نہیں، اپنے لوگ ہیں: وزیراعظم\n\nکشمیر کمیٹی کے صرف 3 مطالبے پورے کرنے کا تاثر غلط: حکومت\n\nایکشن کمیٹی سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں: کشمیری وزیراعظم\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی کشمیر، کالعدم تنظیم کے ساتھ براہ راست بات چیت نہیں ہو رہی: وزیر پارلیمانی امور\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کالعدم کشمیر کمیٹی کے ساتھ بات چیت نہیں ہو رہی: طارق فضل"
}