{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihcy3eevkjqdmxzxbq4qp2u3wli2sa7nzqckxjb4k75xnobgqyn7a",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moe6o77624r2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaqr7mpopgvgnqrscfqgvlvocepnndyu45b2l774szjistdg4bz6a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 71091
  },
  "path": "/node/186344",
  "publishedAt": "2026-06-15T11:41:19.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ٹیسلا",
    "خودکار گاڑی",
    "ٹیکنالوجی",
    "کرس کرخام",
    "news"
  ],
  "textContent": "**الیکٹرک گاڑیاں بنانے والی کمپنی ٹیسلا پر اپنے ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ (ایف ایس ڈی) نظام کے حفاظتی دعووں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے اور گمراہ کن اعدادوشمار استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کی ایک تحقیق کے مطابق ٹیسلا نے یورپ میں اپنے خودکار ڈرائیونگ نظام کی منظوری حاصل کرنے کے لیے سویڈن اور نیدرلینڈز کے ریگولیٹرز کو ایسے حفاظتی اعدادوشمار فراہم کیے جنہیں آزاد محققین نے گمراہ کن قرار دیا ہے۔\n\nروئٹرز کی گذشتہ ماہ شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ ٹیسلا کے چیف ایگزیکٹو ایلون مسک اور کمپنی کے دیگر حکام بارہا یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ٹیسلا کا ایف ایس ڈی نظام انسانی ڈرائیورز کے مقابلے میں دس گنا زیادہ محفوظ ہے۔\n\nتاہم تحقیق میں معلوم ہوا کہ ان دعووں کی بنیاد ایسے تقابلی اعدادوشمار پر رکھی گئی جو درست نہیں تھے اور جن سے نظام کی حفاظت کو حقیقت سے زیادہ مؤثر ظاہر کیا گیا۔\n\nرپورٹ کے مطابق انہی اعدادوشمار کو بعض یورپی ریگولیٹرز کے سامنے بھی پیش کیا گیا۔ ٹیسلا یورپ میں اپنے ایف ایس ڈی نظام کی وسیع منظوری حاصل کرنا چاہتی ہے تاکہ خطے میں اپنی کم ہوتی ہوئی مارکیٹ شیئر دوبارہ حاصل کر سکے۔\n\nکمپنی نے 2024 کے اواخر میں نیدرلینڈز کے روڈ ریگولیٹر آر ڈی ڈبلیو (RDW) کے ساتھ منظوری کا عمل شروع کیا تھا۔ نومبر 2024 میں ریگولیٹر کو بھیجے گئے ایک خط میں ٹیسلا نے اپنی حفاظتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ ایف ایس ڈی کا زیادہ استعمال سڑکوں کو محفوظ بناتا ہے۔\n\n24 جولائی، 2025 کو ٹیکساس کے شہر آسٹن میں ٹیسلا کی ڈیلرشپ کے باہر ٹیسلا کار کھڑی ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nٹیسلا اپنے ایف ایس ڈی نظام کے لیے ماہانہ سبسکرپشن فیس وصول کرتی ہے۔ یہ نظام بعض حالات میں گاڑی خود چلا سکتا ہے، تاہم ڈرائیور کو مسلسل توجہ برقرار رکھنا ضروری ہوتی ہے۔\n\nایک سال سے زیادہ عرصے تک آزمائش اور مذاکرات کے بعد نیدرلینڈز کے ریگولیٹر نے رواں برس اپریل میں ایف ایس ڈی کے استعمال کی منظوری دے دی۔ اب یہی ادارہ یورپی یونین بھر میں اس نظام کی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔\n\nتاہم آر ڈی ڈبلیو نے رائٹرز کی نشاندہی کردہ خامیوں پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلوں کے لیے مارکیٹنگ دعووں یا بیرونی اعدادوشمار پر انحصار نہیں کرتا بلکہ اپنے ٹیسٹ، تجزیے اور تصدیقی عمل انجام دیتا ہے۔\n\nٹیسلا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا۔\n\nروئٹرز کے مطابق اپریل میں نیدرلینڈز کی منظوری کے فوراً بعد ٹیسلا کے پالیسی مینیجر ایوان کوموساناک نے سویڈش حکام کو ایک ای میل ارسال کی جس میں کہا گیا تھا کہ ایف ایس ڈی استعمال کرنے والی ٹیسلا گاڑیاں اوسط امریکی ڈرائیور کے مقابلے میں حادثات کے درمیان سات گنا زیادہ فاصلہ طے کرتی ہیں۔\n\nپیش کردہ سلائیڈز میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اگر ایف ایس ڈی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی تو ممکنہ طور پر 32 ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں اور 19 لاکھ زخمیوں سے بچاؤ ممکن تھا۔\n\nتاہم محققین کے مطابق یہ اندازے غیر حقیقی مفروضوں پر مبنی ہیں، جن میں فرض کیا گیا کہ امریکہ کی تمام گاڑیاں، بشمول ٹرک اور موٹر سائیکلیں، ایف ایس ڈی سے لیس ٹیسلا گاڑیوں سے تبدیل کر دی جائیں گی اور ہر ٹیسلا موجودہ گاڑی سے کم از کم سات گنا زیادہ محفوظ ہوگی۔\n\nتحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ ٹیسلا نے حادثات کے تقابل میں ایسے اعدادوشمار استعمال کیے جن میں ایئر بیگ کھلنے والے سنگین حادثات کا موازنہ امریکہ کے تمام درجے کے حادثات سے کیا گیا، جس سے حفاظت کی شرح حقیقت سے زیادہ نظر آتی ہے۔\n\nاس کے علاوہ کمپنی اپنی نئی گاڑیوں کا موازنہ امریکی سڑکوں پر موجود اوسط گاڑیوں سے کرتی ہے، جو عموماً زیادہ پرانی ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جدید گاڑیوں میں پہلے ہی کئی حفاظتی خصوصیات شامل ہوتی ہیں، اس لیے ایسا تقابل نتائج کو متاثر کر سکتا ہے۔\n\nسویڈن کے ٹرانسپورٹ ادارے کے اہلکار اینڈرز ایرکسن نے کہا کہ ریگولیٹرز صرف نمایاں اعدادوشمار پر انحصار نہیں کرتے بلکہ تمام شواہد کا جائزہ لیتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیورپی ٹرانسپورٹ سیفٹی کونسل کے ترجمان ڈڈلی کرٹس نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر واقعی غیر معتبر امریکی اعدادوشمار ریگولیٹرز کو پیش کیے گئے ہیں تو یہ تشویش کی بات ہے۔ ان کے مطابق اگر ٹیسلا اپنے حفاظتی دعووں کو معتبر بنانا چاہتی ہے تو اسے اپنے اعدادوشمار آزاد محققین اور جامعات سے جانچ کروانی چاہیے۔\n\nٹیسلا کے لیے یورپ میں ایف ایس ڈی کی منظوری خاص اہمیت رکھتی ہے کیونکہ کمپنی گذشتہ برس ایلون مسک کی سیاسی سرگرمیوں، خصوصاً یورپ کی دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت کے بعد ہونے والے احتجاج اور فروخت میں کمی کے اثرات سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے۔\n\nیورپی یونین بھر میں ایف ایس ڈی کی منظوری کے لیے رکن ممالک کی اکثریت کی حمایت درکار ہوگی، تاہم اس دوران انفرادی ممالک اپنی سطح پر بھی اس ٹیکنالوجی کی منظوری دے سکتے ہیں۔\n\nرپورٹ کے مطابق یونان نے بھی ایف ایس ڈی کی منظوری میں دلچسپی ظاہر کی ہے، جبکہ ناروے سمیت مختلف ممالک کے ریگولیٹرز کو ٹیسلا کے حامی ڈرائیورز کی جانب سے منظوری کے حق میں خطوط موصول ہوئے ہیں۔\n\nتاہم ناروے کی پبلک روڈز ایڈمنسٹریشن کے اہلکار اسٹین ہیلگے منڈال نے جواب میں کہا کہ ٹیسلا کے پیش کردہ اعدادوشمار کمپنی کے اپنے تیار کردہ ہیں، اس لیے انہیں سرکاری حادثاتی اعدادوشمار کے ساتھ براہِ راست ملانا مشکل ہے۔\n\nٹیسلا\n\nخودکار گاڑی\n\nٹیکنالوجی\n\nٹیسلا کی ایک پریزنٹیشن میں کہا گیا کہ اگر ایف ایس ڈی ٹیکنالوجی وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی تو ممکنہ طور پر 32 ہزار جانیں بچائی جا سکتی تھیں اور 19 لاکھ زخمیوں سے بچاؤ ممکن تھا۔\n\nکرس کرخام\n\nسوموار, جون 15, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>ایک ڈرائیور 26 مئی 2026 کو بارسلونا میں سڑک پر ٹیسلا کے ’فل سیلف ڈرائیونگ‘ (ایف ایس ڈی) نظام کا تجربہ کر رہا ہے (جوزپ لاگو / اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسام سنگ ٹیسلا کے لیے جدید چپس بنائے گی: مسک\n\nٹیسلا کی ایک دہائی میں بدترین سہ ماہی فروخت\n\nکیا ایلون مسک کو ٹیسلا سے الگ ہو جانا چاہیے؟\n\nبی وائی ڈی کی ٹیسلا سے سستی پانچ منٹ میں چارج ہونے والی کار\n\nSEO Title:\n\nٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ نظام کی حفاظت بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/europe/tesla-elon-musk-self-driving-netherlands-sweden-b2995782.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "ٹیسلا کے خودکار ڈرائیونگ نظام کی حفاظت بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی؟"
}