{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigikiszfyvc7lhbngdflmugtrxji22ovsswrbw6pgopvbg74idnsy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moe6nvs3esp2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih6esvbdtmufnkek4v3g4cmvmxvrbmb54pzk6khtbcbpysxxn7zcy"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 81286
  },
  "path": "/node/186346",
  "publishedAt": "2026-06-15T12:16:15.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "برطانیہ",
    "سوشل میڈیا",
    "پابندی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "یورپ",
    "video"
  ],
  "textContent": "**برطانوی وزیراعظم کیئرسٹارمر نے ملک میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس ماڈل کو ’آسٹریلیا پلس‘ ماڈل کہا جا رہا ہے۔**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں کو نہ خوش‘ بنا رہے ہیں اور انہیں خطرناک اور لت کے طور متاثر کر رہے ہیں۔\n\nیہ پابندی ٹک ٹاک، انسٹاگرام، ایکس (ٹوئٹر)، سنیپ چیٹ، یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر لاگو ہوگی، تاہم واٹس ایپ جیسی میسجنگ سروسز اس سے مستثنیٰ رہیں گی۔\n\nاس پالیسی کو آسٹریلیا کے ماڈل سے متاثر قرار دیا جا رہا ہے، جہاں پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد پر ایسی پابندی عائد کی جا چکی ہے۔\n\nان کا کہنا ہے کہ وہ دسمبر تک اس قانون کو منظور کرانے کی کوشش کریں گے ، جبکہ پابندی کا نفاذ آئندہ سال بہار میں متوقع ہے۔ ان کے مطابق یوٹیوب کڈز، لیگو پلے اور گوگل کلاس روم جیسے پلیٹ فارمز کو پابندی سے باہر رکھا جا سکتا ہے۔\n\nحکومت کے مطابق گیمنگ ایپس اور لائیو سٹریمنگ پلیٹ فارمز پر بھی ایسے فیچرز محدود کیے جا سکتے ہیں جن کے ذریعے اجنبی افراد بچوں سے رابطہ کرتے ہیں، جیسے آن لائن چیٹ رومز۔\n\nحکومت ان فیچرز پر بھی پابندی لگانے پر غور کر رہی ہے جن میں خودکار طور پر غائب ہونے والی تصاویر اور لوکیشن شیئرنگ شامل ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبرطانوی اخبار دی سپیکٹیٹر کے مطابق اس پابندی کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کو رومانوی یا جنسی نوعیت کے AI چیٹ بوٹس تک رسائی سے بھی روکا جا سکتا ہے۔\n\nیہ فیصلہ ایک حکومتی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔ تقریباً 91 فیصد والدین نے 16 سال کم از کم عمر مقرر کرنے کی حمایت کی۔\n\nتاہم اس اقدام پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ کچھ بچوں کی فلاحی تنظیموں نے اسے مثبت قدم قرار دیا ہے، جبکہ دیگر نے خبردار کیا ہے کہ اس سے بچے کم ضابطہ یافتہ اور زیادہ خطرناک آن لائن پلیٹ فارمز کی طرف جا سکتے ہیں۔\n\nیوٹیوب کے ترجمان نے بھی خبردار کیا ہے کہ مکمل پابندی بچوں کو ’کم محفوظ سروسز‘ کی طرف دھکیل سکتی ہے۔\n\nوزیراعظم سٹارمر کا کہنا ہے کہ جیسے حقیقی زندگی میں کسی بچے کو کسی اجنبی کے ساتھ اکیلا نہیں چھوڑا جاتا، اسی طرح آن لائن دنیا میں بھی بچوں کو غیر محفوظ حالات سے بچانے کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔\n\nبرطانیہ\n\nسوشل میڈیا\n\nپابندی\n\nیہ فیصلہ ایک حکومتی مشاورت کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں بڑی تعداد میں والدین نے شرکت کی۔ تقریباً 91 فیصد والدین نے 16 سال کم از کم عمر مقرر کرنے کی حمایت کی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, جون 15, 2026 - 17:15\n\nMain image:\n\n> <p>آٹھ دسمبر 2025 کو آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ایک بچہ اپنے گھر پر ٹیبلٹ سے سوشل میڈیا استعمال کر رہا ہے (سعید خان / اے ایف پی)</p>\n\nیورپ\n\njw id:\n\ni8wThiso\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nسوشل میڈیا تمباکو نوشی سے کہیں زیادہ خطرناک؟\n\nآسٹریلیا: پابندی کے باوجود ’دو تہائی بچے سوشل میڈیا استعمال کر رہے ہیں‘\n\nنوجوانوں کے سوشل میڈیا پر پابندی ضروری\n\nیونان میں 15 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان\n\nSEO Title:\n\nبرطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "برطانیہ نے 16 سال سے کم عمر بچوں پر سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی"
}