{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreies4j4ufwhahzollyacbqvp4hhidtmu2t3frkx72inetxg5hd53wi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moe6nroyxei2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib7ebbiirz4yerb4xd2lu7evwfp5qm25ulooieacluwpcvcoetijm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 104554
  },
  "path": "/node/186347",
  "publishedAt": "2026-06-15T13:06:52.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "پنجاب",
    "پنجاب پولیس",
    "پولیس مقابلہ",
    "رمنا سعید",
    "news"
  ],
  "textContent": "**آسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے پیر کو پاکستان کے ضلع چکوال میں سی سی ڈی فائرنگ میں جان سے جانے والی آسٹریلوی بچی کی موت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔**\n\nجبکہ سی سی ڈی راولپنڈی کے ریجنل افسر حسن جہانگیر وٹو نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، 'یہ ایک انتہائی افسوس ناک اور چونکا دینے والا واقعہ ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی گئی ہے، جو جلد اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ یہ ایک نہایت بدقسمت واقعہ ہے۔‘\n\nجب کہ آسٹریلین ہائی کمیشن نے آج بالخصوص میڈیا کے لیے جاری پیغام میں کہا ہے کہ پاکستان میں جان سے جانے والی آسٹریلوی شہری کے اہلِ خانہ اور زخمی ہونے والے دو آسٹریلوی شہریوں کی مدد کے لیے آسٹریلوی ہائی کمیشن اسلام آباد رابطے میں ہے اور ہر ممکن تعاون فراہم کر رہا ہے۔\n\nسی سی ڈی کے مطابق ’پنجاب کے ضلع چکوال میں 10 جون کی رات اس وقت یہ واقعہ پیش آیا جب متاثرہ خاندان کے سربراہ عدیل احمد، جو آسٹریلیا میں مقیم ہیں، اپنے اہل خانہ کے ہمراہ رات تقریباً 11 بج کر 40 منٹ پر نوگزہ دربار کے قریب پہنچے جہاں ان کی گاڑی کو مبینہ طور پر دو مسلح افراد نے روکا اور اسلحہ کے زور پر زیورات اور دیگر قیمتی سامان چھین لیا۔‘\n\nعدیل احمد نے ایف آئی آر میں بتایا ہے کہ ’مسلح افراد نے ان کی اہلیہ سے زیورات چھینے اور اسی دوران ان پر ایک فائر ہوا اور زیورات چھیننے والے مسلح شخص نے گاڑی کی اوٹ لے کر جوابی فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں گاڑی مختلف سمتوں سے گولیوں کا نشانہ بنی۔ فائرنگ کے نتیجے میں عدیل احمد، ان کا 10 سالہ بیٹا عفان احمد اور 9 سالہ بیٹی ہانیہ احمد زخمی ہوئے جبکہ اہلیہ محفوظ رہیں۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق آسٹریلوی وزیرِاعظم انتھونی البانیز نے پیر کو اس واقعے پر کہا کہ ’جان سے جانے والی بچی نو سال کی تھی‘۔\n\nانہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی حکومت ’ان حالات میں شفافیت اور مکمل تحقیقات کی توقع رکھتی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’میری معلومات کے مطابق نہ صرف ایک کم عمر بچی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھی ہے بلکہ اسی واقعے میں خاندان کے دیگر افراد بھی زخمی ہوئے ہیں، اور یہ حالات واقعی نہایت سنگین ہیں۔‘\n\nآسٹریلیا کی وزارتِ خارجہ نے بھی کہا کہ وہ ایک آسٹریلوی شہری کے اہلِ خانہ کی مدد فراہم کر رہی ہے جو اس واقعے میں جان سے گیا، جبکہ دو دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔\n\nاس سے قبل صوبہ پنجاب میں کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ نے اتوار کو بتایا تھا کہ ضلع چکوال میں سی سی ڈی کے ایک پولیس کانسٹیبل کو نو سالہ پاکستانی نژاد آسٹریلین بچی کی موت کے بعد حراست میں لیا گیا ہے جو اپنے اہل خانہ کے ہمراہ گاڑی پر جاتے ہوئے پولیس اہلکاروں کی فائرنگ میں جان سے چلی گئی تھی۔\n\nسی سی ڈی نے اس واقعے پر اپنی پریس ریلیز میں کہا کہ ’اہلکاروں نے گاڑی پر فائرنگ یہ سمجھ کر کی کہ وہ مبینہ طور پر ڈاکوؤں کی گاڑی ہے، اور غلط شناخت کے باعث یہ واقعہ پیش آیا۔‘\n\nایف آئی آر کے متن کے مطابق: عدیل احمد نے اپنے بچوں کو بچانے کے لیے تیزی سے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن گاڑی پر پیچھے سے گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی جس سے وہ اور دونوں بچے زخمی ہو گئے۔ اہل خانہ کو قریبی ہسپتال لے جایا گیا جہاں نو سالہ بچی کو مردہ قرار دے دیا گیا۔‘\n\nتھانہ کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (تصویر: توقیر انور)\n\n\n\n\nدوسری جانب سی سی ڈی نے اپنی باضابطہ پریس ریلیز میں کہا ہے کہ 10 جون کی رات ایک مسلح ڈکیتی کی اطلاع پر کارروائی کی گئی جہاں ڈاکوؤں نے پہلے فائرنگ کی اور بعد ازاں مبینہ مقابلہ شروع ہوا۔\n\nپریس ریلیز کے مطابق ’ایک اہلکار نے صورت حال کو غلط طور پر سمجھا اور فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔‘ ادارے نے اہلکار کو فوری طور پر معطل اور گرفتار کرنے کی تصدیق کی ہے۔\n\nسی سی ڈی نے کہا ہے کہ ’ادارہ انسانی جان کے تحفظ کو اولین ترجیح دیتا ہے اور واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات جاری ہیں۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’متاثرہ خاندان سے مسلسل رابطہ رکھا جا رہا ہے۔‘\n\nادارے نے یہ بھی کہا ہے کہ اصل ڈکیتی میں ملوث دو ملزمان بعد ازاں مختلف مقابلوں میں مارے گئے۔\n\nابتدائی اطلاعات کے مطابق واقعے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 302، 394 اور 440 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے جبکہ مزید تفتیش جاری ہے۔\n\nترجمان کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) پنجاب عبدالواحد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ چکوال واقعہ پر رنجیدہ ہیں اور متاثرہ فیملی سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں.\n\nانہوں نے کہا کہ ’واقعے کی تحقیقات میں شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو ہر قیمت پر یقینی بنایا جائے گا۔‘\n\nان کے مطابق فائرنگ کرنے والے سی سی ڈی اہلکار کو معطل کر کے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اور گرفتار اہلکار کی رائفل اور استعمال شدہ گولیوں کے خول ریکارڈ کا حصہ بنائے گئے ہیں ۔\n\nجب ان سے پوچھا گیا کہ انسانی حقوق پر کام کرنے والی تنظیموں کی جانب سے سی سی ڈی پر اکثر تنقید کی جاتی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ ’ہمارا کام لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔‘\n\nجب ان اس پوچھا گیا کہ ادراہ اس واقعے کے بعد کیا کارروائی کر رہا ہے تو اس پر ترجمان کا کہنا تھا کہ ’فائرنگ کرنے والے اہلکار نے محکمانہ ایس او پیز کی صریح خلاف ورزی کی ہے اور اہلکار کا یہ غیر قانونی اقدام کسی بھی صورت میں ادارے کی پالیسی، تربیت اور اقدار کا عکاس نہیں ہے۔‘\n\nترجمان کے مطابق: ’واقعہ کے حقائق جاننے کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے جو کہ شفاف تحقیقات کر رہی ہے اور متاثرہ فیملی کو تحقیقات میں ہونے والی ہر پیشرفت سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nادھر راولپنڈی کے بے نظیر بھٹو ہسپتال میں چکوال سی سی ڈی فائرنگ میں جان سے جانے والی نو سالہ ہانیہ کے والد اور بھائی کا علاج جاری ہے۔\n\nایم ایس بے نظیر بھٹو ہسپتال ڈاکٹر شرجیل کے مطابق ہانیہ کے والد مکمل صحت یاب ہیں اور فی الحال زیر نگرانی ہیں۔\n\nڈاکٹر شرجیل کے مطابق ہانیہ کے 12 سالہ بھائی عافان کے پیٹ کی سرجری کی گئی ہے جبکہ ان کی ٹانگ بھی فریکچر ہے اور عافان آرتھوپیڈک ڈاکٹروں کی مکمل نگرانی میں ہیں۔\n\nڈاکٹر شرجیل نے بتایا کہ چند روز بعد والد اور بیٹے کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا جائے گا۔\n\nہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ اس نے اپریل 2025، جب سی سی ڈی کی تشکیل ہوئی تھی، اور دسمبر 2025 کے درمیان کم از کم 670 مقابلوں کو ریکارڈ کیا ہے، جس کے نتیجے میں 924 اموات ہوئیں۔\n\nتاہم سی سی ڈی ماورائے عدالت قتل کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔\n\nپاکستان\n\nپنجاب\n\nپنجاب پولیس\n\nپولیس مقابلہ\n\nآسٹریلیا کے وزیراعظم انتھونی البانیز نے پاکستان کے ضلع چکوال میں سی سی ڈی فائرنگ میں جان سے جانے والی آسٹریلوی بچی کی موت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔\n\nرمنا سعید\n\nسوموار, جون 15, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">13 اکتوبر 2020   کی اس تصویر میں لاہور کی ایک عدالت سے جاتی ہوئی پنجاب پولیس کی ایک گاڑی کو دیکھا جا سکتا ہے(اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچکوال: ’غلط شناخت‘ پر پولیس فائرنگ، 9 سالہ آسٹریلوی بچی کی موت\n\nٹی ٹی پی کے ڈرون سپلائی نیٹ ورک کا رکن گرفتار: سندھ پولیس\n\nمری ایکسپریس وے پر وین میں آتشزدگی سے 10 اموات: پولیس حکام\n\nعوامی ایکشن کمیٹی سے جھڑپ میں چار پولیس اہلکار جان سے گئے\n\nSEO Title:\n\nوزیراعظم آسٹریلیا کا پاکستان سے پولیس فائرنگ میں نو سالہ آسٹریلوی بچی کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "وزیراعظم آسٹریلیا کا پاکستان سے پولیس فائرنگ میں آسٹریلوی بچی کی موت کی تحقیقات کا مطالبہ"
}