{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidac5uxqt43rbcflzeoyjdn6dnamfl4xbouotxhyqxhguxnvqy5gi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moat2ymfkzo2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreif2bov4tfyss7vd2nqp2shm4u2g3mqm4zb4jhr5qosbxcxguudrqm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 75308
  },
  "path": "/node/186252",
  "publishedAt": "2026-06-14T11:53:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لیاری",
    "فٹ بال",
    "سعودی عرب",
    "صالحہ فیروز خان",
    "ملٹی میڈیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**لیاری کی گلیوں میں فٹ بال کا ذکر چھیڑا جائے تو برازیل اور ارجنٹائن کے نام سب سے پہلے زبان پر آتے ہیں، لیکن اس کھیل کے جنون میں ڈوبے لیاری کے رہائشی شاہ مراد سعودی عرب کی قومی فٹ بال ٹیم ’گرین فالکنز‘ کے فین ہیں۔**\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز سے قبل لیاری کا علی محمد محلہ ایک منفرد منظر پیش کر رہا ہے، گویا عالمی فٹ بال میلے کا کوئی حصہ یہیں سجنے والا ہو۔\n\nاسی علاقے کے رہائشی شاہ مراد نے گذشتہ دو دہائیوں سے ایک مختلف راستہ اختیار کر رکھا ہے، جنہیں پورا علاقہ ’شانی القحطانی‘ کے نام سے جانتا ہے۔\n\nشاہ مراد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں ’شانی القحطانی‘ کے نام سے پکارے جانے کی وجہ کچھ یوں بتائی۔ ’یاسر القحطانی میرا پسندیدہ کھلاڑی تھا، اسی لیے دوستوں نے مجھے شانی القحطانی کہنا شروع کر دیا۔‘\n\nانہوں نے بتایا: ’لیاری میں سب برازیل اور ارجنٹائن کے فین ہیں، میں واحد سعودی فین ہوں۔ لوگ مذاق میں کہتے ہیں کہ سعودی فین آگیا، لیکن مجھے اس پر فخر ہے کیونکہ مجھے گرین فالکنز کا کھیل پسند ہے۔‘\n\nان کی سعودی ٹیم سے محبت محض زبانی دعویٰ نہیں بلکہ یادگاروں سے بھرا ایک ایسا خزانہ ہے، جو ان کے جنون کی گواہی دیتا ہے۔ ان کے پاس برسوں پرانے سعودی پرچم محفوظ ہیں۔ 1998 ورلڈ کپ کی سعودی جرسی آج بھی ان کے مجموعے کا حصہ ہے، جبکہ سعودی سٹار سالم الدو سری کی جرسی بھی ان کے پاس موجود ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nشاہ مراد نے ایک یادگار لمحہ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ انہیں 2024 میں جناح سٹیڈیم میں ہونے والے پاکستان اور سعودی عرب کے فٹ بال میچ کے دوران ایک سعودی کھلاڑی کی جانب سے پھینکی گئی ٹی شرٹ ملی تھی، جسے انہوں نے بعد ازاں فریم کروا کر محفوظ کر لیا۔\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ اسی موقعے پر انہیں ایک مفلر بھی ملا تھا، جس پر سعودی ٹیم کے کپتان سالم الدوسری سمیت دیگر کھلاڑیوں کے آٹوگراف موجود ہیں، جو ان کے لیے اس یادگار مقابلے کی ایک قیمتی نشانی ہے۔\n\n2022 کے فیفا ورلڈ کپ میں جب سعودی عرب نے عالمی چیمپیئن بننے والی ارجنٹائن کو حیران کن شکست دی تھی تو یہ لمحہ شانی القحطانی کے لیے کسی خواب کی تعبیر سے کم نہ تھا۔ انہوں نے نہ صرف اس تاریخی کامیابی کا جشن منایا بلکہ اپنی پسندیدہ ٹیم کی کامیابی پر فخر کا اظہار بھی کیا۔\n\nان کا کہنا ہے کہ ’جب کسی ٹیم سے محبت ہو جائے تو پھر آخر تک اس کا ساتھ دینا چاہیے۔ میری سعودی ٹیم سے محبت 20 سال پرانی ہے۔ پہلے سعودی جرسیاں اور شرٹس مشکل سے ملتی تھیں، لیکن 2022 میں ارجنٹائن کےخلاف تاریخی فتح کے بعد ان کی دستیابی بہت آسان ہو گئی۔‘\n\nلیاری\n\nفٹ بال\n\nسعودی عرب\n\nشاہ مراد سعودی عرب کی قومی فٹ بال ٹیم ’گرین فالکنز‘ کے فین ہیں، جنہیں پورا علاقہ ’شانی القحطانی‘ کے نام سے جانتا ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nاتوار, جون 14, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\nملٹی میڈیا\n\njw id:\n\nwAtPSeid\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’اب گولیوں کی نہیں بلکہ گیند کی آوازیں ہیں:‘ لیاری کی لڑکیوں کا فٹ بال جنون\n\nلیاری نیٹ فلکس سیریز میں میرا کردار دبنگ اداکار کرے: نبیل گبول کی شرط\n\nکیا لیاری واقعی وہی ہے جو فلم ’دھرندھر‘ میں دکھایا گیا؟\n\nکراچی: لیاری گینگ وار دوبارہ منظم ہونے سے پہلے ختم کر دی گئی\n\nSEO Title:\n\nلیاری میں برازیل اور ارجنٹائن کے دیوانوں کے درمیان سعودی مداح شاہ مراد\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "لیاری میں برازیل اور ارجنٹائن کے دیوانوں کے درمیان سعودی مداح شاہ مراد"
}