{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicsgmqwyb4ihzixqe4ewv4a63vp4d3ni5nusf6te6hgcaxooxx5gm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3moa6gh6cdpn2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidymvuctvklnmxl747b2tmtuvnvvgkx4c7fmb3dorvdlgl7whsxf4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 88423
},
"path": "/node/186322",
"publishedAt": "2026-06-14T04:30:59.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ڈرون",
"مصنوعی ذہانت",
"روس یوکرین جنگ",
"روس",
"یوکرین",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**یوکرین کی دفاعی صنعت کے ایک سینیئر عہدے دار الیگزینڈر کوخانوسکی نے دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے روسی فوجیوں کو مارنے کے لیے پہلی بار انسانی نگرانی کے بغیر مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز استعمال کیے۔**\n\nڈرون بنانے والے کوخانوسکی نے بتایا کہ محاذ جنگ پر ایک تجرباتی آزمائش کے دوران اے آئی کے زیر کنٹرول ڈرونز استعمال کیے گئے تھے۔\n\nانہوں نے یوکرینی سفارت خانے کے زیر اہتمام ایک تقریب میں سائنسی جریدے نیو سائنٹسٹ کو بتایا کہ دو سال قبل ہونے والے اس تجربے کے بعد اس ٹیکنالوجی کو وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا گیا۔\n\nکوخانوسکی کے مطابق ’ہم نے اسے آزمایا تھا۔ یہ صرف ایک تجربہ تھا۔ ہم نے اسے بعد میں وسیع پیمانے پر استعمال نہیں کیا۔‘\n\nاس تجربے میں کواڈ کاپٹر ڈرونز کو پروگرام کیا گیا تھا کہ وہ محاذ جنگ کی جانب پرواز کریں اور تقریباً 10 منٹ میں تین سے پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد ’ٹرمینیٹر موڈ‘ فعال کر دیں، جس میں ایک اے آئی ماڈل اہداف کو تلاش کر کے ان پر حملہ کرے گا۔\n\nکوخانوسکی نے کہا ’ہم صرف اسے روانہ کرتے ہیں اور ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ وہاں جو کچھ بھی ملے گا، سب تباہ ہو جائے گا۔\n\n’اس مخصوص علاقے میں جو کچھ بھی ڈرون کو نظر آئے گا، وہ مار دیا جائے گا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ان ڈرونز سے کسی قسم کا رابطہ نہیں تھا، نہ ویڈیو دیکھی جا سکتی تھی اور نہ ہی ان کی کارروائی کو براہ راست مانیٹر کیا جا سکتا تھا۔\n\nچونکہ یہ معلوم کرنے کا کوئی طریقہ نہیں تھا کہ خودکار ڈرون نے کیا دیکھا یا کس ہدف کو نشانہ بنایا، اس لیے تجربے کے بعد انسانی پائلٹوں کے زیر کنٹرول ڈرونز علاقے میں بھیجے گئے تاکہ نتائج کی جانچ کی جا سکے۔\n\nکوخانوسکی کے مطابق حملے کے شکار ہونے والوں میں ’چند فوجی اور ایک ٹرک‘ شامل تھے۔ اگرچہ حملوں کی کوئی ویڈیو ریکارڈنگ موجود نہیں، تاہم یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ انہی خودکار ڈرونز نے انہیں مارا تھا۔\n\nدنیا بھر کی افواج میں اے آئی کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے۔ یہ انٹیلی جنس ڈیٹا کے وسیع ذخیرے میں اہداف کی شناخت اور بعض ہتھیاروں کے افعال کو خودکار بنانے میں مدد دیتا ہے۔\n\nلیکن اب تک کسی نہ کسی مرحلے پر انسان فیصلہ سازی کے عمل میں شامل رہتا ہے۔\n\nدفاعی کمپنیوں کے ذرائع کے مطابق یوکرینی حکومت فی الحال اہداف کو نشانہ بنانے کے آخری مرحلے میں اے آئی کے استعمال پر پابندی عائد کرتی ہے۔\n\nاگرچہ اس سے پہلے کے کئی مراحل میں مختلف نظام مصنوعی ذہانت استعمال کرتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nکوخانوسکی کا کہنا ہے کہ حکومت اے آئی کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں سے آگاہ ہے اور دفاعی کمپنیوں کے ساتھ اس بارے میں بات چیت جاری ہے کہ آیا قوانین میں نرمی کی جانی چاہیے یا نہیں۔\n\n2023 میں ایسی رپورٹس سامنے آئی تھیں کہ اے آئی سے لیس یوکرینی حملہ آور ڈرونز بغیر انسانی مدد کے اہداف تلاش کر کے ان پر حملے کر رہے تھے۔\n\nتاہم اس وقت ان کا استعمال ٹینکوں اور دیگر گاڑیوں کے خلاف کیا جا رہا تھا نہ کہ پیدل فوج کے خلاف اور کسی انسانی موت کی تصدیق نہیں ہوئی تھی۔\n\nاگرچہ ایسے خودمختار ہتھیاروں پر کوئی عالمی پابندی نہیں جو انسانی مداخلت کے بغیر جان لے سکتے ہوں۔\n\nتاہم اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے گذشتہ سال ان پر پابندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا ’ہماری دنیا میں مہلک خودمختار ہتھیاروں کے نظام کی کوئی جگہ نہیں۔‘\n\nاقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ایسے ہتھیار بین الاقوامی انسانی اور انسانی حقوق کے قوانین کی خلاف ورزی کر سکتے ہیں کیونکہ یہ جنگ میں انسانی فیصلہ سازی کو ختم کر دیتے ہیں۔\n\nمزید یہ کہ خودکار نظام غلطی سے اپنے ہی فوجیوں یا سازوسامان کو نشانہ بنا سکتے ہیں یا شہریوں پر حملہ کر سکتے ہیں۔\n\nکوخانوسکی کے مطابق یوکرین کے موجودہ قوانین کی وجہ سے ’ٹرمینیٹر‘ منصوبہ اس تجربے کے بعد آگے نہیں بڑھ سکا۔\n\nڈرون\n\nمصنوعی ذہانت\n\nروس یوکرین جنگ\n\nروس\n\nیوکرین\n\nیوکرین کی دفاعی صنعت کے ایک سینیئر عہدے دارکے مطابق یوکرین نے روسی فوجیوں کو مارنے کے لیے پہلی بار انسانی نگرانی کے بغیر اے آئی سے چلنے والے ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز کا تجربہ کیا تھا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, جون 14, 2026 - 09:15\n\nMain image:\n\n> <p>آٹھ مئی، 2026 کو جاری کی گئی اس ہینڈ آؤٹ تصویر میں یوکرینی فوج کی گاڑیاں ایک ایسی سڑک پر جا رہی ہیں جسے ڈرون حملوں سے تحفظ کے لیے جال سے ڈھانپا گیا ہے (ہینڈ آؤٹ/اے ایف پی)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹی ٹی پی کے ڈرون سپلائی نیٹ ورک کا رکن گرفتار: سندھ پولیس\n\nاسرائیلی ڈرونز نے بیروت کے لوگوں کا آسمان سے تعلق بدل دیا\n\nچین کے اے آئی نے ایک دہائی پرانا ریاضی کا مسئلہ حل کر لیا\n\nمصنوعی ذہانت کے استعمال پہ معذرت کیسی؟\n\nSEO Title:\n\nیوکرین کا پہلی بار روس کے خلاف اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز کا استعمال: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "یوکرین کے اے آئی ’ٹرمینیٹر‘ ڈرونز"
}