{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreie3pbrvjl5fxdct3lahcy363jvyaarohgnnc5tthz4xa3wayuwl5y",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo7k7uoxhc42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig2jdjcpz7cy5qyaxe5hu7ohoa6jlcza7esid4sxokatcttxjhpam"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 98756
  },
  "path": "/node/186312",
  "publishedAt": "2026-06-13T08:16:50.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آئی ایس پی آر",
    "کالعدم تحریک طالبان پاکستان",
    "شمالی وزیرستان",
    "خیبر پختونخوا",
    "عسکریت پسندی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستانی فوج نے ہفتے کو کہا ہے کہ خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان میں گذشتہ 72 گھنٹے کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف کاررروائیوں میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 21 عسکریت پسند مارے گئے۔**\n\nفوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے ہفتے کو جاری کی گئی پریس ریلیز کے مطابق یہ کارروائیاں میران شاہ اور اس کے گردونواح میں کی گئیں، جہاں ’خوارج کے متعدد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔‘\n\nپاکستانی حکام کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے لیے ’فتنۃ الخوارج‘ کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، جن کے بارے میں اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ اس کے جنگجو افغانستان میں مقیم ہیں اور انہیں افغان طالبان اور انڈیا کی حمایت حاصل ہے، تاہم کابل اور نئی دہلی ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔\n\nآئی ایس پی آر کے بیان میں کہا گیا کہ شمالی وزیرستان میں گذشتہ 72 گھنٹے کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلوں کے بعد انڈین حمایت یافتہ 21 عسکریت پسندوں کو مار دیا گیا، جن میں ’چار خوارجی سرغنہ‘ خالد رضا عرف سالار، مفتون، موسیٰ اور عمران عرف ایان شامل ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبیان کے مطابق مارے جانے والے ’سرغنہ متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث ہونے کے باعث انتہائی مطلوب تھے، جن میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں اور بے گناہ شہریوں کا قتل شامل ہے۔‘\n\nبیان کے مطابق اب تک مجموعی طور پر ان انتہائی مہارت اور درستی پر مبنی کارروائیوں میں48 عسکریت پسند مارے جا چکے ہیں۔\n\nآئی ایس پی آر کے مطابق: ’مارے جانے والے عسکریت پسندوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا ہے، جو متعدد دہشت گرد سرگرمیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل میں فعال طور پر ملوث رہے ہیں۔‘\n\nمزید کہا گیا کہ ’علاقوں میں چھپے ہوئے دیگر خوارج کے خاتمے کے لیے سینیٹائزیشن مہم جاری رہیں گی، جبکہ نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل اپیکس کمیٹی سے منظور شدہ ’عزمِ استحکام‘ کے وژن کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف بلا تعطل کارروائی پوری رفتار سے جاری رہے گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی اور معاونت یافتہ دہشت گردی کے ناسور کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔‘\n\nصدر مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔\nصدر آصف زرداری نے کہا کہ ’قوم اپنی بہادر سکیورٹی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔‘\n\nدوسری جانب وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ’ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک دہشت گردوں کے خلاف ہماری جنگ جاری رہے گی۔‘\n\nآئی ایس پی آر\n\nکالعدم تحریک طالبان پاکستان\n\nشمالی وزیرستان\n\nخیبر پختونخوا\n\nعسکریت پسندی\n\nپاکستانی فوج کے مطابق شمالی وزیرستان میں گذشتہ 72 گھنٹوں کے دوران عسکریت پسندوں کے خلاف کاررروائیوں میں ’انڈین حمایت یافتہ‘ 21 عسکریت پسند مارے گئے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 13, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">18 اکتوبر 2017 کو پاکستان کے قبائلی ضلع شمالی وزیرستان میں واقع کِٹن آرچرڈ پوسٹ پر افغان سرحد کے ساتھ نئی نصب کی گئی باڑ کے قریب پاکستانی فوجی پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: پاکستان\n\nعلم ہے ’خوارجیوں‘ کو کن ممالک سے مدد مل رہی ہے: وزیراعظم\n\nشمالی وزیرستان میں 27 عسکریت پسند مارے گئے: پاکستان فوج\n\nشمالی وزیرستان میں شام کے بعد نقل و حرکت پر پابندی کیوں لگائی گئی؟\n\nSEO Title:\n\nشمالی وزیرستان میں کارروائیاں، 21 عسکریت پسند مارے گئے: فوج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "شمالی وزیرستان میں کارروائیاں، 21 عسکریت پسند مارے گئے: فوج"
}