{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihbwdfefcxtps4ts7r7scf3nu5cmcgchy4iownrx5gczzkbqjp33u",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo7k7kvwcxn2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibrifjxtyuaifmm7lugidawih6senox4nrn5kqjjnrhre4mz5cmky"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 119319
},
"path": "/node/186309",
"publishedAt": "2026-06-13T10:40:20.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سپریم جوڈیشل کونسل",
"پاکستان سپریم کورٹ",
"ججز",
"چیف جسٹس",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان کی سپریم جوڈیشل کونسل (ایس جے سی) نے عدالتی ضابطہ اخلاق میں ترامیم کی ہیں تاکہ اعلیٰ عدالتوں کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کر سکیں۔**\n\nیہ ترامیم 11 جون کو چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں ہونے والے سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس میں منظور کی گئیں اور ہفتے کو ایک پریس ریلیز کے ذریعے عام کی گئیں۔\n\nان ترامیم کے تحت ججوں کے سیاسی وسفارتی تقریبات میں شرکت پر عائد پرانی پابندی میں نرمی کی گئی ہے۔ یہ ترامیم ضابطہ اخلاق میں وسیع تر تبدیلیوں کا حصہ ہیں جو پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں حالیہ تبدیلیوں کے بعد کی جا رہی ہیں، جن میں وفاقی آئینی عدالت (ایف سی سی) کا قیام بھی شامل ہے۔\n\nترمیم شدہ ضابطے میں کہا گیا ہے کہ ’اعلیٰ عدالتوں کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت کے بغیر کسی سیاسی یا سفارتی تقریب کی صدارت یا اس میں شرکت سے گریز کریں گے۔‘\n\nضابطے کے گذشتہ متن میں کہا گیا تھا کہ جج ’کسی سماجی، ثقافتی، سیاسی یا سفارتی تقریب کی صدارت یا اس میں شرکت سے گریز کریں گے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nترمیم شدہ شق میں اب سماجی اور ثقافتی تقریبات کا ذکر نہیں ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی تقریبات میں ججوں کی شرکت پر عائد پابندیوں میں نسبتاً زیادہ نرمی کی گئی ہے۔ کونسل نے ضابطہ اخلاق کی مختلف شقوں میں بھی تبدیلی کی تاکہ وفاقی آئینی عدالت کو ان طریقہ کار میں شامل کیا جا سکے جو ججوں کے کنڈکٹ اور عدالتی کارروائی پر اثر انداز ہونے کی کوششوں کی اطلاع دینے سے متعلق ہیں۔\n\nضابطے کا عنوان بھی ’سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق‘ سے بدل کر ’وفاقی آئینی عدالت، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے ججوں کے لیے ضابطہ اخلاق‘ کر دیا گیا۔\n\nوفاقی آئینی عدالت حالیہ برسوں میں کی گئی آئینی اصلاحات کے تحت قائم کی گئی تھی تاکہ وہ ایسے آئینی معاملات کی سماعت کرے جو پہلے سپریم کورٹ کیا کرتی تھی۔\n\nسپریم جوڈیشل کونسل\n\nپاکستان سپریم کورٹ\n\nججز\n\nچیف جسٹس\n\nسپریم جوڈیشل کونسل کی طرف سے عدالتی ضابطہ اخلاق میں ترامیم کے بعد اعلیٰ عدلیہ کے جج متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے سیاسی وسفارتی تقاریب میں شرکت کر سکیں گے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 13, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی 11 جون 2026 کو سپریم جوڈیشل کمیشن کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں (پی آئی ڈی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسپریم جوڈیشل کونسل: چیف الیکشن کمشنر، دو ممبران کے خلاف شکایات خارج\n\nمظاہر نقوی مس کنڈکٹ کے مرتکب قرار: سپریم جوڈیشل کونسل\n\nاستعفے کے باوجود جج کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا فیصلہ: سپریم جوڈیشل کونسل\n\nججوں کے خلاف ریفرنس: سپریم جوڈیشل کونسل کا اعلامیہ جاری نہ ہوا\n\nSEO Title:\n\nسپریم جوڈیشل کونسل: اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو سیاسی، سفارتی تقریبات میں شرکت کی اجازت\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سپریم جوڈیشل کونسل: اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کو سیاسی، سفارتی تقریبات میں شرکت کی اجازت"
}