{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreif3ldybomkdx467idkmswzbayepvmjjli6hnshxwgflt2g5j7nkle",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo7k7frxxqz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreid5ydawi6ducnuk4ncpe6bjrrdrbztubkpzc2oce6nh2dcgkp372a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 34735
  },
  "path": "/node/186314",
  "publishedAt": "2026-06-13T11:10:44.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "انڈین فضائیہ",
    "طیارہ حادثہ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈین فضائیہ کا ایک اے این-32 طیارہ ہفتے کو آسام کے ضلع جورہاٹ میں لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار 5 اہلکار جان سے گئے۔**\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق فضائیہ کے ایک اہلکار نے جنہوں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی، کہا کہ معاون پائلٹ اس حادثے میں زندہ بچ گیا ہے۔\n\nانڈین فضائیہ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری ایک بیان میں حادثے کی تصدیق کرتے ہوئے جان سے جانے والے اہلکاروں کے خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔\n\nیہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب 43 سکواڈرن سے تعلق رکھنے والا کارگو (سامان بردار) طیارہ جورہاٹ کے علاقے روڑیاہ میں واقع فضائیہ کے ایئربیس پر لینڈنگ کر رہا تھا۔\n\nانڈین فضائیہ کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔\n\nفضائیہ کے مطابق، فرائض کی ادائیگی کے دوران ’سکواڈرن لیڈر پرشانت سنگھ، فلائٹ لیفٹیننٹ شبھم کمار، سارجنٹ جتیندر شرما، اگنی ویر وایو کھیمارام کماوت اور اگنی ویر وایو دانش عالم‘ نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔\n\nواقعے کے فوراً بعد انڈین فضائیہ کے اعلیٰ حکام جائے وقوعہ پر پہنچ گئے ہیں۔ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر پورے ایئر فورس سٹیشن کو سیل کر دیا گیا ہے اور کسی بھی غیر متعلقہ شخص کو اندر جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنیوز چینل این ڈی ٹی وی نے حادثے کے مقام کی تصاویر نشر کیں، جن میں سیاہ دھوئیں کا گھنا بادل اور طیارے کے ٹکڑے نظر آ رہے ہیں۔\n\nفضائیہ کے مطابق روسی ساختہ انٹونوف این-32 طیارہ معمول کی پرواز پر تھا جب لینڈنگ کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔\n\nاین-32 ایک دو انجن والا ٹربو پروپ طیارہ ہے، جو خاص طور پر بلند پہاڑی علاقوں اور سخت موسمی حالات میں بہتر کارکردگی کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔\n\nانڈین فضائیہ کے پاس اس طرز کے لگ بھگ 100 طیارے موجود ہیں، جو ملک کے دور دراز پہاڑی علاقوں میں فوجی سامان اور شہری امداد پہنچانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔\n\nاس طیارے کا آخری بڑا حادثہ 2019 میں ریاست اروناچل پردیش میں چین کی سرحد کے قریب پیش آیا تھا، جس میں 13 افراد ہلاک جان سے گئے تھے۔\n\nانڈیا میں گذشتہ سال 12 جون کو احمد آباد میں پیش آنے والے ایک اور طیارہ حادثے میں 242 مسافروں سے صرف ایک شخص بچ سکا تھا اور باقی سب جان سے گئے تھے، مسافروں کے علاوہ زمین پر موجود کم از کم 38 افراد بھی اس حادثے میں مارے گئے تھے۔\n\nانڈیا\n\nانڈین فضائیہ\n\nطیارہ حادثہ\n\nانڈین فضائیہ کے ترجمان کے مطابق حادثے کی اصل وجہ معلوم کرنے کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, جون 13, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">زیرنظر تصویر میں انڈین ایئرفورس کے زیر استعمال اے این 32 انٹونوف طیارے کو دیکھا جا سکتا ہے(تریشول ڈیفنس اکیڈمی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا میں ’کاکروچ سونامی‘\n\nایئر انڈیا حادثہ: بچ جانے والا واحد مسافر مالی اور نفسیاتی مسائل کا شکار\n\n’جہاز دیکھ کر ڈر لگتا ہے‘: ایئر انڈیا حادثے میں بچ جانے والوں کی کہانی\n\nانڈیا: میڈیکل انٹری ٹیسٹ کا پرچہ بنانے والے ’لاک ڈاؤن‘ میں کیوں؟\n\nSEO Title:\n\nآسام میں انڈین فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، 5 اہلکار جان سے گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آسام میں انڈین فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ، 5 اہلکار جان سے گئے"
}