{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig4jes3sx55c5iyrh7u2urok6nf6l445te2evavevnya33q3n3tou",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo7k6td444p2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig3bq32ung77p5k6tsobaathwgevxbs54olc3tx7s4lfvkmfpnylm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 97041
  },
  "path": "/node/186311",
  "publishedAt": "2026-06-13T13:47:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ارشد چوہدری",
    "پاکستان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پنجاب کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی خواتین کو پبلک ٹرانسپورٹ میں ہراساں کرنے کے واقعات رپورٹ ہوتے رہتے ہیں۔ بیشتر خواتین اس کی شکایت بھی نہیں کرتیں۔ اب صوبائی حکومت نے لاہور کی تمام بسوں، ویگنوں، رکشوں اور ٹیکسیوں میں مرحلہ وار کیو آر ’پینک بٹن‘ نصب کرنا شروع کر دیے ہیں تاکہ خواتین کو ہراسانی سے بچایا جا سکے۔**\n\nعوام کو اس نظام کے استعمال، فوائد اور حفاظتی خصوصیات سے بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔ سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کے مطابق کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں مسافر کیو آر پینک بٹن کے ذریعے فوری طور پر پولیس اور سیف سٹی حکام سے رابطہ کر سکیں گے۔ اس نظام کے تحت مسافر کی لائیو لوکیشن اور گاڑی کا ڈیٹا فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچ جائے گا۔\n\nلاہور کی طالبہ تحریم نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اکثر ایسا ہوتا ہے کہ پبلک ٹرانسپورٹ بسوں یا رکشوں میں ہراسمنٹ کی جاتی ہے۔ کوئی ڈوپٹہ کھیچ لیتا ہے کوئی ٹچ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔\n\n’اس دوران مختلف خدشات کا سامنا رہتا ہے۔ اب یہ کیو آر پینک بٹن لگنے سے براہ راست ہیلپ لائن سے رجوع کر کے خاموشی سے شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔ یہ اقدام تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لیکن اس کو بحال رکھنے کے لیے توجہ ضرور دینی چاہیے۔‘\n\nایمرجنسی کی صورت میں مسافر کیو آر پینک بٹن کے ذریعے پولیس اور سیف سٹی حکام سے رابطہ کر سکیں گے (ٹریفک پولیس لاہور)\n\n\n\n\nٹریفک پولیس افسر عرفان علی نے بتایا کہ ’ہم بسوں، رکشوں، آن لائن کیب پر کیو آر پینک بٹن لگا رہے ہیں۔ جس کا طریقہ یہ ہے کہ ڈرائیور کا لائسنس اور شناختی کارڈ نمبر سیف سٹی ایپ میں درج کیا جاتا ہے۔\n\n’اس نمبر کے نام پر کیو آر بار کوڈ صفحے پر پرنٹ کر کے لگایا جاتا ہے۔ جس کو بھی شکایت ہوگی وہ اس کوڈ بار کو اپنے موبائل سےسکین کرے گا اور اس پر پولیس ہیلپ لائن یا شکایت درج کرانے کا آپشن آئے گا۔‘\n\nان کا کہنا تھا کہ کیو آر بار سکین ہوتے ہی ڈرائیور اور گاڑی کی مکمل تفصیل اور لوکیشن پولیس کے پاس آجائے گی۔ شکایت کنندہ کی مدد کے لیے فوری قریبی پولیس ٹیم موقع پر پہنچ جائے گی۔ اس طرح جس کے خلاف شکایت ہوگی فوری کارروائی ممکن ہوسکے گی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ لاہور میں پہلے مرحلہ میں آٹو رکشوں پر کیو آر پینک بٹن لگائے جارہے ہیں ایک لاکھ سے زائد رکشوں کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کی ہر طرح کی گاڑیوں پر یہ لگائے جائیں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرکشہ ڈرائیور اکرم مسیح نے بتایا کہ ٹریفک پولیس اہلکار رکشے کو روکنے کے بعد لائسنس اور شناختی کارڈ لے کر کیو آر پینک بٹن لگا رہے ہیں۔ جس میں تھوڑی دیر لگتی ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’اس اقدام سے مسافروں کو تو تحفظ ملے گا ہی ہمیں بھی سواری سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ جس طرح یہ مسافر کے لیے مدد فراہم کرے گا اسی طرح ہمارے ساتھ واردات کی صورت میں ہم بھی فوری پولیس سے رابطہ کر سکیں گے۔ البتہ جنہوں نے جرم کرنا ہے وہ باز نہیں آئیں گے۔ لیکن اب ان کے فرار اور بچت کے چانس ضرور کم ہوجائیں گے۔‘\n\nشہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کی سروس شروع تو کی جاتی لیکن مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے وجہ سے ایمرجنسی کے وقت کام نہیں کر رہی ہوتی۔ اس کو ہر گاڑی میں یقنی بنایا جائے اور اس کی مستقل طور پر نگرانی کی جائے۔\n\nٹریفک پولیس لاہور نے شہر بھر میں پبلک ٹرانسپورٹ میں کیو آر پینک بٹن لگانے شروع کر دیے ہیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nہفتہ, جون 13, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>(اے ایف پی 2023)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\niXFf4Rmn\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nدوران پرواز ہراسانی: خاموشی بھی جرم ہے\n\nپنجاب: حکومتی رکن کی چار اپوزیشن ارکان کے خلاف ہراسانی کی درخواست\n\nرانا ایوب سائبر ہراسانی کا شکار بھارتی خواتین صحافیوں کا چہرہ\n\nلاہور: ایک ماہ میں 2500 سے زیادہ نوجوانوں نے نفسیاتی مدد کیوں لی؟\n\nSEO Title:\n\nلاہور: ہراسانی کے خلاف پبلک ٹرانسپورٹ میں لگا کیو آر ’پینک بٹن‘ کتنا موثر؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "لاہور: ہراسانی کے خلاف پبلک ٹرانسپورٹ میں لگا کیو آر ’پینک بٹن‘ کتنا موثر؟"
}