{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieervwcxx6yqeurz5kg2d5y6o5722layut7zrc7wqpkc5elmmgwjq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4t2gvuljq2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifyxuy6b2dbs3mwbxz44po4d6udfwjx2vyfwooh7aeyz6sktxilkm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 99818
  },
  "path": "/node/186294",
  "publishedAt": "2026-06-12T08:45:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "شہری",
    "شہریت",
    "امریکی",
    "امیگریشن",
    "پاسپورٹ",
    "ویزا",
    "آریانا بائیو",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی انٹرنل ریونیو سروس (آئی آر ایس) کے ڈیٹا کے مطابق 2025 میں تقریباً 5000 افراد نے اپنی امریکی شہریت ترک کر دی، جو 2020 کے بعد امریکہ سے مستقل طور پر تعلق توڑنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔**\n\nفیڈرل رجسٹر میں شہریت ترک کرنے کا انتخاب کرنے والے ہزاروں افراد کے نام شامل تھے۔ یہ رجسٹر شہریت چھوڑنے والوں کی تعداد کا ریکارڈ رکھتا ہے۔\n\nبیرون ملک مقیم امریکی شہریوں یا طویل عرصے سے مقیم ایسے افراد جنہیں آئی آر ایس کی جانب سے امریکی شہری سمجھا جاتا ہے، ان کے اس فیصلے کی وجہ اکثر ٹیکس کے معاملات ہوتے ہیں۔\n\nلیکن کچھ لوگوں کے لیے، یہ ایک ذاتی فیصلہ ہے۔\n\nسوئٹزرلینڈ میں مقیم اور بیلجیئم کی شہریت رکھنے والی ایک امریکی خاتون لِلی نے بیرون ملک امریکی شہریوں کو ٹیکس کے حوالے سے مدد فراہم کرنے والی تنظیم امریکنز اوورسیز کو بتایا کہ ان کا شہریت ترک کرنا امریکہ کے خلاف ’بغاوت کی ایک شکل‘ تھا۔\n\nنیوزی لینڈ میں مقیم ایک امریکی خاتون ایرن کلاٹ نے سی این این کو بتایا کہ انہوں نے مستقل طور پر وہیں بسنے کا فیصلہ کرنے کے بعد مالی اور سیاسی وجوہات کی بنا پر اپنی شہریت ترک کرنے کا انتخاب کیا۔\n\nایرن کلاٹ نے سی این این کو بتایا: ’میں نے کبھی بھی ملک کے لیے بہت زیادہ حب الوطنی یا اس سے لگاؤ محسوس نہیں کیا۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ وہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں ملک کی سیاسی سمت سے مایوس تھیں۔\n\nلندن میں مقیم ایک شخص نے اکتوبر میں واشنگٹن پوسٹ کو بتایا کہ ’اگر انتخابات نہ ہوتے تو میں ایسا نہ کرتا۔‘\n\nاس نامعلوم برطانوی شخص نے کہا: ’میں بس یہ نہیں سمجھ سکا اور اب بھی نہیں سمجھ سکتا کہ کس طرح ایک تہائی امریکی یہ سوچ سکتے ہیں کہ ایک مجرم اور جنسی درندہ اس عہدے کے لیے صحیح شخص ہے۔‘\n\nوائٹ ہاؤس کا دوبارہ کنٹرول سنبھالنے کے بعد سے، ٹرمپ نے ایسی پالیسیاں نافذ کی ہیں جنہوں نے امریکہ میں لوگوں کے کچھ گروہوں کے لیے زندگی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔\n\nخواجہ سراؤں کے حوالے سے، صدر نے پاسپورٹ پر اپنی پسند کی صنف ظاہر کرنے کا اختیار ختم کر دیا ہے، ان کے فوج کا حصہ بننے پر پابندی لگا دی ہے اور ایتھلیٹس کو ان سپورٹس ٹیموں میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کی ہے, جو ان کی صنف سے مطابقت رکھتی ہوں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nہر سال تقریباً 3000 سے 5000 لوگ امریکہ سے ترک وطن کررہے ہیں۔\n\nزیادہ تر یہ فیصلہ مالی وجوہات کی بنا پر ہوتا ہے کیوں کہ امریکہ منفرد طور پر رہائش کے بجائے شہریت کی بنیاد پر آمدنی پر ٹیکس لگاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ بیرون ملک مقیم امریکیوں کو آئی آر ایس میں سالانہ ریٹرن فائل کرنا لازمی ہے، چاہے انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ سے باہر ہی کیوں نہ گزارا ہو۔\n\nسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی جانب سے بیان کردہ طریقہ کار کے مطابق، شہریت ترک کرنا یا طویل مدتی رہائش ختم کرنے کی طرف بڑھنا ایک طویل عمل ہے جو انتظامی مسائل سے بھرا ہوا ہے۔\n\nکسی بھی شخص کو سب سے پہلے اس قونصل خانے یا سفارت خانے سے رابطہ کر کے ترک شہریت کے سرٹیفکیٹ کی درخواست دینا ہوتی ہے، جہاں وہ مقیم ہے۔\n\nانہیں بیرون ملک امریکی سفارتی یا قونصلر دفتر میں دو انٹرویوز دینا ہوتے ہیں، جن میں سے ایک میں ان کی ذاتی طور پر موجودگی لازمی ہے۔ انہیں ذاتی طور پر ترک شہریت کا حلف بھی اٹھانا ہوتا ہے اور یہ تسلیم کرنا ہوتا ہے کہ ایسا کرنے کے نتیجے میں وہ کسی بھی ملک کی شہریت سے محروم ہو سکتے ہیں۔\n\n2024 میں بھی تقریباً 4800 لوگوں نے امریکہ سے اپنی وابستگی ختم کرنے کا انتخاب کیا، لیکن 2025 میں اس سے قدرے زیادہ تقریباً 4,900 افراد نے یہی فیصلہ کیا۔\n\nتوقع کی جا رہی ہے 2026 میں اس سے بھی زیادہ لوگوں امریکی شہریت ترک کر دیں گے جس کی ایک وجہ یہ ہے کہ امریکہ نے قونصلر فیس میں نمایاں کمی کر دی ہے۔ اپریل سے پہلے، یہ فیس 2350 ڈالر تھی، لیکن اب یہ 450 ڈالر ہے۔\n\nامریکہ\n\nشہری\n\nشہریت\n\nامریکی\n\nامیگریشن\n\nپاسپورٹ\n\nویزا\n\nقونصلر فیس میں کمی کے بعد توقع کی جا رہی ہے کہ 2026 میں زیادہ لوگ امریکی شہریت ترک کر دیں گے۔\n\nآریانا بائیو\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">12 نومبر 2025 کو مسافر لاس اینجلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے روانہ ہونے والی پروازوں کے چیک ان کے لیے پہنچ رہے ہیں (روئٹرز)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟\n\nہر پانچ میں ایک امریکی شہری کو بھوت کیوں دکھائی دیتے ہیں؟\n\n50 لاکھ ڈالر میں ’گولڈ کارڈ‘ خریدیں اور امریکی شہریت پائیں: ٹرمپ\n\nافغانستان سے رہائی پانے والا امریکی شہری ابوظبی پہنچ گیا\n\nSEO Title:\n\nپانچ ہزار امریکی شہریوں نے 2025 میں ملک چھوڑ دیا\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/americas/americans-renounce-citizenship-2025-trump-b2994326.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "پانچ ہزار امریکی شہریوں نے 2025 میں ملک چھوڑ دیا"
}