{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidm7uhgfv2qxoinpi26pfemwv6dfdxz5jhfvvqmte7s47ig5petke",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4t26jhohj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibcxzq2om4o6uakzf52pxhubf3pag5kfflbz2ijrhtfkv64bt54ue"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 130456
  },
  "path": "/node/186296",
  "publishedAt": "2026-06-12T10:50:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "سولر پینل",
    "توانائی",
    "زراعت",
    "اظہار اللہ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**رواں مالی سال کے پاکستان اکنامک سروے کے مطابق قابلِ تجدید توانائی سے بجلی کی پیداوار میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس میں ہائیڈل، نیوکلیئر اور سولر توانائی کے ذرائع شامل ہیں۔**\n\nسروے میں بتایا گیا ہے کہ گھریلو اور زرعی صارفین زیادہ تر سولر توانائی کی طرف منتقل ہوئے ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں بجلی کے استعمال میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nگذشتہ روز جاری کیے گئے اکنامک سروے کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ سال بجلی کا مجموعی استعمال 80 ہزار گیگا واٹ آور سے زیادہ تھا، جو رواں سال بڑھ کر 83 ہزار گیگا واٹ آور سے تجاوز کر گیا ہے تاہم اس میں گھریلو صارفین کا استعمال کم ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nسروے کے مطابق گذشتہ سال پاکستان میں بجلی کے مجموعی استعمال کا تقریباً 50 فیصد، یعنی 39 ہزار 730 گیگا واٹ آور، گھریلو صارفین نے استعمال کیا تھا، جو رواں مالی سال کم ہو کر تقریباً 47 فیصد، یعنی 39 ہزار 472 گیگا واٹ آور رہ گیا ہے۔\n\nپاکستان اکنامک سروے کے مطابق گھریلو صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال میں کمی کی بنیادی وجوہات بجلی کے نرخوں میں اضافہ اور قابلِ تجدید توانائی کی طرف منتقلی ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی طرح زرعی مقاصد کے لیے بجلی کے استعمال میں بھی گذشتہ سال کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سروے کے مطابق اس کی وجوہات میں سولر انرجی کا بڑھتا استعمال، آبپاشی کے طریقۂ کار میں تبدیلی، بارشوں کے پیٹرن میں تبدیلی اور ڈیزل سے چلنے والے نظاموں کا متبادل ذرائع کی جانب منتقل ہونا شامل ہو سکتا ہے۔\n\nسولر کمپنی ’وولٹ مائنز‘ سے وابستہ محمد اعجاز کے مطابق اس میں کوئی شک نہیں کہ سولر توانائی کی طرف منتقلی بہت تیزی سے ہو رہی ہے اور زیادہ تر صارفین یہی شکایت کرتے ہیں کہ وہ بڑھتے ہوئے بجلی کے بلوں سے تنگ آ چکے ہیں۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اب نیٹ میٹرنگ کے ساتھ ساتھ صرف دن کے اوقات میں استعمال کے لیے سولر نظام لگانے کو بھی ترجیح دی جا رہی ہے لیکن حکومت کو بھی سولر سسٹمز پر عائد ٹیکسوں میں کمی کرنی چاہیے۔\n\nملک میں بجلی کی نصب شدہ پیداواری صلاحیت کی بات کی جائے تو سروے کے مطابق رواں سال مجموعی نصب شدہ صلاحیت 49 گیگا واٹ سے زیادہ رہی، جبکہ بجلی کی مجموعی پیداوار 92 ہزار گیگا واٹ آور ریکارڈ کی گئی، جس میں 50 فیصد سے زائد بجلی قابلِ تجدید ذرائع سے حاصل کی گئی۔\n\nپاکستان\n\nسولر پینل\n\nتوانائی\n\nزراعت\n\nسروے میں بتایا گیا ہے کہ گھریلو اور زرعی صارفین زیادہ تر سولر توانائی کی طرف منتقل ہوئے ہیں جبکہ صنعتی شعبے میں بجلی کے استعمال میں گذشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً چھ فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 15:45\n\nMain image:\n\n> <p>کراچی میں دو جولائی 2025 کو تکنیکی ماہرین سولر پینل نصب کر رہے ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسولر کے بعد اب لیتھیم بیٹری، پاکستان کی توانائی مارکیٹ نئے مرحلے میں داخل\n\nتوانائی کی رکاوٹیں برقرار رہیں تو مشکلات طویل ہوں گی: پاکستان\n\nپاکستان، توانائی کے بحران سے کیسے نمٹ رہا ہے؟\n\nتوانائی کا تحفظ مستقبل کی منصوبہ بندی کےلیے اہم ہے: وزیراعظم\n\nSEO Title:\n\nقابل تجدید توانائی میں 13 فیصد اضافہ، گھریلو اور زرعی صارفین کی منتقلی: پاکستان اکنامک سروے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’قابل تجدید توانائی میں 13 فیصد اضافہ: گھریلو، زرعی صارفین کی منتقلی‘"
}