{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicsvld7by2uebecmcytliypx3q33im2kkozxotbm2alapg6oj2pwy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4szu2kjwh2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihwoiukouzdcvu3hszfvych4njjntdt4p7nhd7uykvh4hymyqdmnm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 49706
},
"path": "/node/186300",
"publishedAt": "2026-06-12T12:36:54.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بجٹ",
"بجٹ 2026",
"اراکین اسمبلی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**وفاقی حکومت کی جانب سے نئے مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کے موقعے پر جمعے کو قومی اسمبلی کا اجلاس شدید ہنگامہ آرائی کی زد میں رہا۔**\n\nوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے بجٹ تقریر کا آغاز کرتے ہی اپوزیشن ارکان اپنی نشستوں سے کھڑے ہو گئے اور حکومت کے خلاف بھرپور نعرے بازی شروع کر دی۔\n\nاجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’بجٹ نامنظور‘ سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ایوان کا ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔\n\nہنگامے کے باوجود وزیرِ خزانہ نے اپنی تقریر جاری رکھی۔\n\nاپوزیشن رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ حکومت مہنگائی، بے روزگاری اور دیگر معاشی مسائل پر قابو پانے میں ناکام رہی ہے، اس لیے اس بجٹ کو عوام دوست قرار نہیں دیا جا سکتا۔\n\nدوسری جانب حکومتی ارکان نے اپوزیشن کے طرزِ عمل کو غیر پارلیمانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ ایک اہم قومی دستاویز ہے، جس پر سنجیدہ اور بامقصد بحث ہونی چاہیے۔\n\nپاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں بجٹ اجلاس اکثر سیاسی کشیدگی کا باعث بنتے رہے ہیں۔\n\nماضی میں بھی اپوزیشن جماعتیں بجٹ تقاریر کے دوران نعرے بازی، واک آؤٹ اور احتجاج کے ذریعے اپنا ردعمل ظاہر کرتی رہی ہیں۔\n\nتاہم بعض مواقع پر صورتحال اس قدر کشیدہ ہو جاتی ہے کہ ایوان کی کارروائی بھی متاثر ہوتی ہے۔\n\n**پارلیمنٹ کے باہر احتجاج**\n\nوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے اعلان کیا تھا کہ وہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کے مطالبے کے لیے بجٹ تقریر کے موقعے پر پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی دھرنا دیں گے۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’عوام کے مینڈیٹ، جمہوریت کے تحفظ اور سیاسی حقوق کی بحالی کے لیے یہ جدوجہد بھرپور انداز میں جاری رہے گی۔‘\n\nتاہم آج ان کا قافلہ اسلام آباد میں 26 نمبر چوک کے مقام پر پہنچا تو انہیں روک دیا گیا۔\n\nوفاقی بجٹ پیش کیے جانے سے قبل مختلف سرکاری محکموں کے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں احتجاجی مظاہرہ کیا اور پارلیمنٹ ہاؤس کی جانب مارچ کیا۔\n\nاس دوران مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے درمیان ہاتھا پائی اور دھکم پیل کے واقعات بھی پیش آئے۔\n\nسرکاری ملازمین کی تنظیموں کے زیر اہتمام ہونے والے احتجاج میں مختلف اداروں کے ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔\n\nمظاہرین تنخواہوں اور الاؤنسز میں اضافے، پنشن سے متعلق تحفظات کے خاتمے اور مہنگائی کے تناسب سے مراعات بڑھانے کے مطالبات کر رہے تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبجٹ سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ تمام چیلنجز کا مقابلہ کرنے کےباوجود معیشت آج مستحکم ہے۔\n\n’موجودہ حکومت کے تیسرے بجٹ سے معیشت کا پہیہ تیزی سے چلنا شروع ہو جائے گا، عوام نے جس صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور مہنگائی برداشت کی اس پر پاکستان کے 24 کروڑ عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے مابین ہم آہنگی سے تمام چیلنجز پر قابو پایا جا سکتا ہے اور ان کے بقول آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی کارکردگی اور ہماری کاوشوں کو سراہا ہے۔\n\n’پہلے دو بجٹوں میں ملک اور آئی ایم ایف کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ملکی ترقی کے راستے کھولنے کے لیے کئی سالوں سے ہچکولے کھاتی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے ٹیکسز لگانا پڑے جس سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔‘\n\nوزیراعظم نے کہا کہ ہمیں عام آدمی کی مشکلات کا بخوبی اندازہ ہے، گذشتہ 2 سال کے دوران حکومتی کاوشوں سے مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر سنگل ڈیجٹ پر آ گئی، پالیسی ریٹ بھی 22.5 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد پر آیا۔\n\n’خلیج کی صورتحال کے باعث کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تاہم تمام معاشی چیلنجز کے باوجود ہماری معیشت آج مستحکم ہے۔‘\n\nانہوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ تیسرا بجٹ ہماری معیشت کو مزید تیزی سے آگے لے کر جائے گا۔\n\n**پاکستان تحریک انصاف کی تنقید**\n\nپاکستان تحریک انصاف نے جمعے کو وفاقی بجٹ مسترد کرتے ہوئے اسے اشرافیہ کو ریلیف دینے اور عام آدمی کو نظرانداز کرنے کا منصوبہ قرار دیا ہے۔\n\nسیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کی جانب سے جاری بیان میں پی ٹی آئی نے قومی اسمبلی میں پیش کیے گئے بجٹ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ دستاویز معاشی حقائق کو مسخ کر کے پیش کرنے کی ایک کوشش ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ حکومت 3.7 فیصد شرح نمو کو معاشی بحالی قرار دے رہی ہے جبکہ پی ٹی آئی دور حکومت میں عالمی وبا کے باوجود شرح نمو تقریباً چھ فیصد رہی تھی اور کرنٹ اکاؤنٹ اور ترسیلات زر بھی بہتر ہوئے تھے۔\n\nانہوں نے کہا کہ ملک میں غربت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور لاکھوں افراد خط غربت سے نیچے چلے گئے ہیں، جبکہ حکومت محدود سبسڈیز کو بڑی کامیابی کے طور پر پیش کر رہی ہے۔\n\nان کے مطابق تنخواہ دار طبقہ پہلے ہی سب سے زیادہ ٹیکس دے رہا ہے اور مہنگائی (8.2 فیصد) کے باعث اس کی حقیقی آمدن مزید کم ہو گئی ہے جبکہ بجٹ میں زیادہ ریلیف اعلیٰ آمدنی والے طبقات اور کاروباری حلقوں کو دیا گیا ہے۔\n\nبجٹ\n\nبجٹ 2026\n\nاراکین اسمبلی\n\nاجلاس کے دوران اپوزیشن ارکان نے ’بجٹ نامنظور‘ سمیت حکومت مخالف نعرے لگائے جس کے باعث ماحول خاصا کشیدہ ہو گیا جبکہ بعض اراکین کے درمیان ہاتھا پائی بھی ہوئی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">12 جون، 2026 کی اس تصویر میں حزب اختلاف کے ارکان قومی اسمبلی اجلاس میں آتے ہوئے بجٹ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں(پی ٹی آئی کینیڈا آفیشل ایکس)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبجٹ 2026 میں کس کو کتنا ریلیف ملا؟\n\nبجٹ میں ٹیکس بڑھنے کی خبریں، سولر پینلز مہنگے ہو گئے\n\nدفاعی بجٹ 3000 ارب روپے، تنخواہ داروں کے ٹیکس میں کمی: وزیر خزانہ\n\nپاکستان کا بجٹ اور آئی ایم ایف: فیصلے کے اثرات کس پر پڑتے ہیں؟\n\nSEO Title:\n\nبجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بجٹ تقریر کے دوران قومی اسمبلی کے اندر اور باہر احتجاج"
}