{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreif43gm3yciqqqcndmkvj3tvhlf6ylr6zghkwblhsj6ddzlnhxlbqm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4szpxctyq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreif2rsvrp7h2kuxpu3mgfllsptlevaurjuf2slm5y6abk74qplccmq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 68890
},
"path": "/node/186301",
"publishedAt": "2026-06-12T13:21:26.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پی آئی اے",
"پاکستان",
"نجکاری",
"ایوان صدر",
"نعمت خان",
"video"
],
"textContent": "**صدر آصف علی زرداری نے آج پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے اثاثوں، واجبات اور انتظامی کنٹرول کو نئے مالکان کے حوالے کرنے سے متعلق بل کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد قومی ایئرلائن کی نجکاری کے عمل کی تکمیل کے لیے درکار قانونی تقاضے پورے ہو گئے ہیں۔**\n\nصدر مملکت کے دفتر کی جانب سے جمعے کو جاری بیان کے مطابق ’پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کارپوریشن (کنورژن) (ریپیل) بل 2026‘ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے 10 اور 11 جون کو منظور ہونے کے بعد اب باقاعدہ قانون بن گیا ہے۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ بل کی منظوری کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کمپنی لمیٹڈ (پی آئی اے سی ایل) کی نجکاری مکمل کرنے کے لیے ضروری قانونی شرائط پوری ہو گئی ہیں۔\n\nپی آئی اے، جو کئی برسوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر سے زائد خسارے کا شکار رہی، کو دسمبر 2025 میں نجکاری کے عمل کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔ عارف حبیب گروپ کی قیادت میں قائم کنسورشیم نے مسابقتی بولی کے عمل میں 135 ارب روپے کی پیشکش کے ذریعے ایئرلائن کے 75 فیصد حصص حاصل کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔\n\nاس بولی کے تحت پی آئی اے کی مجموعی مالیت تقریباً 180 ارب روپے لگائی گئی تھی۔\n\nتاہم حکام کے مطابق نجکاری کے عمل میں بعض قانونی، انتظامی اور ریگولیٹری شرائط کی تکمیل نہ ہونے کے باعث حتمی منتقلی تاخیر کا شکار تھی۔ ان شرائط کے تحت حکومت اور خریدار دونوں کو ملکیت اور انتظامی کنٹرول کی منتقلی سے قبل مختلف تقاضے پورے کرنا تھے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنجکاری کمیشن اور وزارت دفاع کے حکام نے حال ہی میں بتایا تھا کہ متعدد ’کنڈیشنز پریسیڈنٹ‘ ابھی تک مکمل نہیں ہو سکیں، جس کے باعث لین دین کا عمل مکمل نہیں ہو سکا۔\n\nعارف حبیب، جو پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کی قیادت کر رہے ہیں، نے بل کے قانون بننے کو مثبت پیش رفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پی آئی اے کے لیے اچھا قدم ہے۔ تاہم انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔\n\nنجکاری کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار کے مطابق کنسورشیم اب تک پانچ ارب روپے ادا کر چکا ہے جبکہ تقریباً 85 ارب روپے کی مزید ادائیگی پہلے مرحلے کی تکمیل پر واجب الادا ہے۔\n\nعہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت نے ابھی تک کنسورشیم کو انتظامی کنٹرول منتقل نہیں کیا، اس لیے توقع ہے کہ باقی رقم حکومت کی جانب سے حوالگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد ادا کی جائے گی۔\n\nکنسورشیم پہلے ہی یہ عندیہ دے چکا ہے کہ وہ پی آئی اے کے باقی ماندہ 25 فیصد حصص بھی خریدنے کا ارادہ رکھتا ہے، جس کے نتیجے میں قومی ایئرلائن مکمل طور پر نجی ملکیت میں جا سکتی ہے۔\n\nپی آئی اے\n\nپاکستان\n\nنجکاری\n\nایوان صدر\n\nپی آئی اے، جو کئی برسوں کے دوران 2.8 ارب ڈالر سے زائد خسارے کا شکار رہی، کو دسمبر 2025 میں نجکاری کے عمل کے تحت فروخت کیا گیا تھا۔\n\nنعمت خان\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کا ایک طیارہ 10 جنوری 2025 کو اسلام آباد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیرس جانے والی پرواز سے قبل رن وے کی طرف بڑھ رہا ہے (فاروق نعیم / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nvZ2QFeww\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپی آئی اے کا بیجنگ اور کوالالمپور آپریشن عارضی معطل، ہفتے میں 16 اماراتی پروازیں: ترجمان\n\nپی آئی اے اور ایئرکرافٹ انجینیئروں میں تنازع ہے کیا؟\n\nپی آئی اے کا ڈھاکہ کے لیے براہ راست پروازیں دوبارہ شروع کرنے پر غور\n\nپی آئی اے کا لاہور سے باکو کے لیے براہ راست پرواز کا آغاز\n\nSEO Title:\n\nپی آئی اے کے اثاثے، واجبات اور کنٹرول منتقل کرنے کے بل کی منظوری: ایوان صدر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پی آئی اے کے اثاثے، واجبات اور کنٹرول منتقل کرنے کے بل منظور"
}