{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicgmbuoneabe7qm3l7ac6y6xwdcbgbjsxgsj2zuoxp5oqj4qhkine",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4szlfqxhq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreigim3zp4zxajxmmxpg5x5jxvly5hhsgtyaiq3uyvzbo3qgddlcydy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 119749
},
"path": "/node/186302",
"publishedAt": "2026-06-12T14:15:22.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"افغان خواتین",
"حجاب",
"روئٹرز",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**اقوام متحدہ کے خواتین کے حقوق کے ادارے نے کہا ہے کہ افغانستان کے مغربی شہر ہرات میں طالبان حکام نے کم از کم 30 خواتین کو حجاب کے قوانین کی خلاف ورزی کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تاہم بعد ازاں ان میں سے کچھ کو رہا بھی کر دیا گیا۔**\n\nاقوام متحدہ ویمن کی جانب سے جمعرات کو جاری بیان میں کہا گیا کہ ہرات کے ضلع انجیل میں منگل کے روز ہونے والی گرفتاریوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کے بعد کریک ڈاؤن کیا گیا۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ’ان گرفتاریوں نے افغانستان بھر میں خواتین اور لڑکیوں میں خوف اور بے چینی بڑھا دی ہے‘۔\n\nاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقرر کردہ ماہرین کے حوالے سے ادارے نے کہا کہ ہرات میں احتجاج کے دوران طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nرپورٹ کے مطابق ان آزاد ماہرین نے دعویٰ کیا کہ طالبان سیکیورٹی فورسز نے احتجاج کرنے والے مردوں، خواتین اور بچوں پر فائرنگ کی اور بعض کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا۔ اس واقعے میں کم از کم دو افراد جن میں ایک لڑکا بھی شامل ہے، ہلاک ہوئے جبکہ 20 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔\n\nمقامی میڈیا کے مطابق طالبان کی اخلاقی پولیس یعنی امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے اہلکاروں نے احتجاج سے قبل بھی بعض خواتین کو حجاب کے قوانین پر عمل نہ کرنے کے الزام میں حراست میں لیا تھا۔\n\nتاہم مقامی حکام نے خواتین کی گرفتاریوں کی رپورٹس کی تردید کی ہے۔\n\n2021 میں کابل پر قبضے کے بعد سے طالبان حکومت نے خواتین اور لڑکیوں پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جن میں تعلیم، روزگار اور کھیلوں تک رسائی کی پابندیاں شامل ہیں۔ ان اقدامات پر عالمی سطح پر شدید تنقید کی جاتی رہی ہے۔\n\nافغانستان\n\nافغان خواتین\n\nحجاب\n\nاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کونسل کی جانب سے مقرر کردہ ماہرین کے حوالے سے ادارے نے کہا کہ ہرات میں احتجاج کے دوران طاقت کے مبینہ حد سے زیادہ استعمال پر شدید تشویش پائی جاتی ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">10 جون 2026 کو نورستان صوبے کے واما ضلع کے سارے پل گاؤں میں برقع پہنے ایک افغان خاتون رہائشی علاقے سے گزرتی ہوئی نظر آ رہی ہے(تصویر: اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’ افغانستان میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا: پاکستان\n\nافغانستان ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے خلاف اقدامات اٹھائیں: پاکستان\n\nچندی گڑھ ٹیسٹ: انڈیا نے افغانستان کو تین دن میں شکست دے دی\n\nافغانستان میں دہشت گرد کیمپس خطرہ: پاکستان اور تاجکستان متفق\n\nSEO Title:\n\nافغانستان میں حجاب قوانین کی خلاف ورزی، 30 خواتین گرفتار\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "افغانستان میں حجاب قوانین کی خلاف ورزی، 30 خواتین گرفتار"
}