{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicg7heuhpnh2ujgo4fcf7nr4ohr2owq4h6n6zfocdvtnar3xrtvt4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo4szgqryc22"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibzbelurefhblhwb5evv5lnr3emgnzgaegqg736kspp7bewpzntmi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 92260
},
"path": "/node/186303",
"publishedAt": "2026-06-12T16:01:11.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بجٹ",
"کراچی",
"تاجر",
"کاروبار",
"ممتاز جمالی",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کیے جانے کے بعد کاروباری برادری نے کہا ہے کہ برآمدات اور صنعت، دونوں کے لیے اس بجٹ میں کوئی خوشخبری نہیں ہے۔**\n\nکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے بجٹ میں صنعتوں، برآمدات اور توانائی کے شعبے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔\n\nکراچی میں بجٹ کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بزنس مین گروپ (بی ایم جی) کے چیئرمین نے کہا کہ اکنامک سروے میں پیش کیے گئے بعض سرکاری اعدادوشمار پر کاروباری برادری کو تحفظات ہیں، جبکہ بجٹ میں برآمدی شعبے کے فروغ کے لیے کوئی نمایاں پالیسی یا عملی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔\n\nانہوں نے کہا: ’پاکستان کو معیشت چلانے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کے لیے برآمدات میں اضافہ کرنا ہو گا، لیکن بجٹ میں صنعتوں اور برآمدی شعبے کی ترقی کے لیے کوئی واضح پروگرام پیش نہیں کیا گیا۔‘\n\n’لائن لاسز کا بوجھ صنعتوں پر ڈالا جا رہا ہے‘\n\nزبیر موتی والا نے توانائی کے شعبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بجلی کے نظام میں موجود نقصانات کا بوجھ مسلسل صنعتوں پر منتقل کیا جا رہا ہے۔\n\nان کے بقول: ’بجلی کے نظام میں 47 فیصد تک لائن لاسز موجود ہیں، لیکن بجٹ میں اس مسئلے کے حل یا صنعتی صارفین پر پڑنے والے اضافی بوجھ کو کم کرنے کے لیے کوئی اقدام نظر نہیں آتا۔‘\n\nتاہم انہوں نے تنخواہ دار طبقے کو دیے گئے ریلیف، تعمیراتی شعبے کے لیے بعض مراعات اور زراعت سے متعلق چند اقدامات کو مثبت قرار دیا۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے اگرچہ محصولات کے اہداف مقرر کر دیے ہیں، لیکن یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) ان اہداف کو حاصل کرنے کے لیے کس نوعیت کے اصلاحاتی اقدامات کرے گا۔\n\n**’صنعتیں چلیں گی تو معیشت چلے گی‘**\n\nکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جاوید بلوانی نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ بجٹ میں صنعتوں اور برآمدی شعبے کو وہ سہولتیں نہیں دی گئیں جن کی معیشت کو اس وقت ضرورت ہے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ملک کی معیشت کا پہیہ صنعتوں سے چلتا ہے۔ اگر صنعتیں فعال ہوں تو روزگار کے مواقع پیدا ہوتے ہیں، برآمدات بڑھتی ہیں، صارفین کو نسبتاً سستی مصنوعات ملتی ہیں اور حکومت کے مالی بوجھ میں بھی کمی آتی ہے۔‘\n\nان کے مطابق حکومت نے منیمم ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں صنعتوں کو نقصان کی صورت میں بھی ٹیکس ادا کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nجاوید بلوانی نے کہا کہ بجٹ میں بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی یا صنعتی توانائی کے اخراجات کم کرنے کے حوالے سے کوئی نمایاں اعلان نہیں کیا گیا۔\n\n’پاکستان میں صنعتی صارفین کے لیے گیس کے نرخ پہلے ہی خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ اگر پیداواری لاگت کم نہیں ہو گی تو صنعتیں عالمی منڈی میں مسابقت نہیں کر سکیں گی۔‘\n\n**’صنعت اور ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری ناگزیر ہے‘**\n\nجاوید بلوانی کے مطابق اگر حکومت واقعی پائیدار معاشی استحکام چاہتی ہے تو اسے صنعتوں اور ٹیکنالوجی کے شعبے کی حوصلہ افزائی کرنی ہو گی۔\n\nانہوں نے کہا: ’صنعتی سرگرمیوں میں اضافے سے روزگار پیدا ہو گا، برآمدات بڑھیں گی اور حکومت پر کیپیسٹی پیمنٹس سمیت دیگر مالی بوجھ بھی کم ہو گا۔‘\n\nکاروباری رہنماؤں کا کہنا ہے کہ بجٹ میں محصولات کے اہداف تو مقرر کیے گئے ہیں، تاہم معیشت کی طویل المدتی ترقی کے لیے صنعتوں، برآمدات اور توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔\n\nبجٹ\n\nکراچی\n\nتاجر\n\nکاروبار\n\nکراچی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (کے سی سی آئی) نے بجٹ میں صنعتوں، برآمدات اور توانائی کے شعبے کے لیے مؤثر اقدامات نہ ہونے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔\n\nممتاز جمالی\n\nجمعہ, جون 12, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p>کراچی میں ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں سات فروری 2012 کو کارکن اپنے کام میں مصروف ہیں (آصف حسن / اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nEOl5V7wM\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکاروباری پابندیاں دوبارہ لگائیں تو ملک گیر احتجاج ہو گا: پاکستانی تاجر\n\nتاجر سے ہتھیائے گئے پانچ میں سے تین کروڑ روپے کیسے برآمد ہوئے؟\n\nبلوچستان میں تاجروں، وکلا اور ملازمین کی ’پہیہ جام‘ ہڑتال\n\nبجٹ 2026: کاروبار دوست اقدامات اٹھائے جائیں: تاجر\n\nSEO Title:\n\nبجٹ میں برآمدات، صنعتوں کے لیے کوئی خوشخبری نہیں: تاجر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "بجٹ میں برآمدات، صنعتوں کے لیے کوئی خوشخبری نہیں: تاجر"
}