{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicv7g5vh3hqc3im2jpeibtxbq3vtyvcsy3gk6icgwc3g6sia4ol44",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo23v57k5nj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig4iiagmwqphq767ltviwms4irl56u2kj52qqovmd3xisiutj3y6a"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 77513
},
"path": "/node/186280",
"publishedAt": "2026-06-11T07:28:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"آئرلینڈ",
"خونی آئرلینڈ",
"بیلفاسٹ",
"عوامی مظاہرے",
"احتجاج",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"یورپ",
"video"
],
"textContent": "**شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت بیلفاسٹ میں اس وقت حالات کشیدہ ہیں اور 10 جون کی شام تک شہر اور اس کے گرد و نواح میں پولیس کی بھاری نفری تعینات رہی۔**\n\nیہ صورت حال ایک ایسے واقعے کے بعد پیدا ہوئی جس نے مقامی سطح پر شدید ردعمل کو جنم دیا۔\n\n**مظاہرے کیوں کیے جا رہے ہیں؟**\n\nمسئلے کا آغاز آٹھ جون کو شمالی بیلفاسٹ میں ہونے والے ایک چاقو حملے سے ہوا۔ اس حملے میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ایک شخص، سٹیفن اوگِلوی، کو شدید زخمی کیا گیا۔\n\nاطلاعات کے مطابق حملہ آور نے ان کے چہرے اور گردن پر وار کیے۔ بعد میں یہ بات سامنے آئی کہ زخمی شخص اپنی ایک آنکھ سے محروم ہو گئے اور بدھ کو بھی ان کی حالت تشویش ناک بتائی گئی۔\n\nچاقو حملے کے بعد بیلفاسٹ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ منگل کی رات سینکڑوں افراد مختلف مقامات پر جمع ہوئے۔ متعدد مظاہرین نے نقاب پہن رکھے تھے۔\n\nاس دوران ایک بس اور کئی گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔ شہر کے مرکز کے قریب ایک عمارت بھی نذرِ آتش ہوئی۔\n\nمقامی رہائشیوں کے مطابق بعض افراد نے پہلے کوڑے دانوں میں آگ لگائی اور بعد میں پیٹرول بم بھی پھینکے گئے۔\n\nشمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت میں چاقو حملے کے بعد 10 جون 2026 کومظاہرین کے ہاتھوں نذر آتش ہونے والی بس (روئٹرز)\n\n\n\n\nاطلاعات کے مطابق کچھ علاقوں میں تارکین وطن پس منظر رکھنے والے افراد کے گھروں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔\n\nپولیس نے 30 سالہ ہادی العدید نامی شخص کو گرفتار کیا جن پر اقدام قتل اور این ایچ ایس کے ایک ریڈیولوجسٹ کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔\n\nعدالت میں پیشی کے دوران بتایا گیا کہ حملے کی ویڈیو بھی موجود ہے جو سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر شیئر ہوئی۔\n\nپولیس اور برطانوی وزارت داخلہ کے مطابق ملزم فروری 2023 میں پیرس سے ڈبلن آئے اور پھر شمالی آئرلینڈ پہنچے۔\n\nانہیں بعد میں پناہ گزین کا درجہ اور 2028 تک رہائشی ویزا دیا گیا۔ حکام کے مطابق شخص کا نام قومی سلامتی کے ڈیٹا بیس میں موجود نہیں تھا اور وہ پولیس کے لیے پہلے سے معروف نہیں تھے۔\n\nشمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل او نیل نے تشدد کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ خاندانوں کو ان کے گھروں سے نکالنے کی کوششیں ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے نسل پرستی، دھمکیوں اور تشدد کے خلاف بیان دیتے ہوئے عوام سے پرسکون رہنے کی درخواست کی۔\n\nمتاثرہ شخص کے اہلِ خانہ نے بھی ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ رات بھر ہونے والی بدامنی قابل قبول نہیں ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ اس سانحے کو لوگوں کے درمیان نفرت یا تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبرطانیہ کے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے چاقو حملے کو ’ہولناک‘ اور ’دل دہلا دینے والا‘ قرار دیا جبکہ پی ایم آفس نے کہا کہ پولیس کو تحقیقات مکمل کرنے کے لیے وقت اور موقع دیا جانا چاہیے۔\n\nاقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بھی شمالی آئرلینڈ میں تارکینِ وطن مخالف تشدد پر تشویش کا اظہار کیا۔\n\nانہوں نے سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع پر نفرت انگیز مواد اور تشدد پر اکسانے والے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرتی گروہ کو غیر انسانی انداز میں پیش کرنا ناقابل قبول ہے۔\n\nشمالی آئرلینڈ کی بڑی سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں نے مشترکہ طور پر چاقو حملے کی مذمت کی اور عوام سے پرسکون رہنے کی اپیل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزید بدامنی سے صرف مقامی برادریوں کو نقصان پہنچے گا۔\n\nآئرلینڈ\n\nخونی آئرلینڈ\n\nبیلفاسٹ\n\nعوامی مظاہرے\n\nاحتجاج\n\nمسئلے کا آغاز آٹھ جون کو شمالی بیلفاسٹ میں ہونے والے ایک چاقو حملے سے ہوا۔ اس حملے میں 40 سال سے زیادہ عمر کے ایک شخص، سٹیفن اوگِلوی، کو شدید زخمی کیا گیا۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعرات, جون 11, 2026 - 11:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">شمالی آئرلینڈ کے دارالحکومت میں چاقو حملے کے بعد 10 جون 2026 کومظاہرین نے کوڑے دانوں کو آگ لگا دی (روئٹرز)</p>\n\nیورپ\n\njw id:\n\ntJlkNE9n\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nآئرلینڈ پولیس کو 60 برس قبل لاپتہ ہونے والے لڑکوں کی تلاش\n\nخونی اتوار کے پچاس سال: جب دس منٹ میں پورا آئرلینڈ دہل اٹھا\n\nٹی 20 ورلڈ کپ: شاہین کی آل راؤنڈ پرفارمنس، پاکستان کی آئرلینڈ کے خلاف جیت\n\nآئرلینڈ نے پاکستان کو پہلے ٹی ٹوئنٹی میں ہرا دیا\n\nSEO Title:\n\nشمالی آئرلینڈ: بیلفاسٹ میں حالات کشیدہ کیوں ہوئے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "شمالی آئرلینڈ: بیلفاسٹ میں حالات کشیدہ کیوں ہوئے؟"
}