{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidgur56oymmbbqn6sn3bl6v4izcorwd3525ysuzx3sjmhyfvxezz4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo23v232mt62"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreialq4tlu7ppadcvopq7y7j7wferf6mx6bqeyaqficiu2ewyefvlq4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 119799
},
"path": "/node/186278",
"publishedAt": "2026-06-11T08:15:06.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایئر انڈیا",
"انڈیا",
"فضائی حادثہ",
"نئی دہلی",
"بھارتی طیارہ",
"طیارہ حادثہ",
"جوش پین",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**ایئر انڈیا کے طیارے کے حادثے میں زندہ بچ جانے والے واحد شخص نے ایک سال بعد ’ایمان داری، شفافیت اور جواب‘ کا مطالبہ کیا ہے۔**\n\nاس فضائی حادثے میں 241 افراد جان سے گئے تھے۔\n\nبرطانوی شہری وشواش کمار رمیش، جن کے بھائی بھی اس حادثے میں مارے گئے تھے، نے کہا کہ وہ ’شدید نفسیاتی مسائل‘ کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔\n\nلندن جانے والا بوئنگ 787 ڈریم لائنر احمد آباد ایئرپورٹ سے اڑان بھرنے کے بعد ایک میڈیکل کالج سے جا ٹکرایا تھا، جس میں 39 سالہ رمیش کے سوا طیارے میں سوار ہر شخص مارا گیا تھا۔\n\nجان سے جانے والوں میں 169 انڈین مسافر اور 52 برطانوی شہری شامل تھے، جو برطانوی شہریوں کے لیے جان لیوا ترین حادثات میں سے ایک تھا۔ پرواز اے آئی 171 کے لوگوں کے علاوہ مزید 19 افراد بھی جان سے گئے اور 67 شدید زخمی ہوئے۔\n\nوشواش کمار رمیش جو 20 سال سے زیادہ عرصے سے لیسٹر میں رہ رہے ہیں، پہلے کہہ چکے ہیں کہ ان کے بھائی اجے کی موت نے ’میری ساری خوشی چھین لی۔‘ رمیش نے اپنے زندہ بچ جانے کو ’معجزہ‘ قرار دیا تھا۔\n\n12 جون 2025 کو انڈیا کے شہر احمد آباد سے لندن جانے والا طیارہ پرواز کے ایک منٹ بعد ہی کریش ہو گیا تھا (اے ایف پی)\n\n\n\n\nحادثے کو 12 ماہ مکمل ہونے پر ایک مختصر بیان میں انہوں نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا کہ ’بہت سے لوگ شاید پوری طرح نہیں سمجھتے کہ صدمہ حادثے کے دن ختم نہیں ہو گیا تھا۔\n\n’میں شدید نفسیاتی مسائل، اپنے بھائی کے نقصان، اور اس بارے میں مسلسل جواب طلب سوالات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟\n\n’مجھے معلوم ہے کہ یہ سوالات صرف میرے ذہن میں نہیں ہیں، بلکہ ہر متاثرہ خاندان کے ذہن میں ہیں۔\n\n’سب سے بڑھ کر، لوگوں کو ایمان داری، شفافیت اور جواب چاہیے۔ جو کچھ ہوا، اسے کوئی چیز نہیں بدل سکتی، لیکن خاندان وضاحت کے حق دار ہیں۔‘\n\nسوميت سبھروال اور کلائیو کُنڈر ایئر انڈیا کے اس طیارے کو اڑا رہے تھے جو 12 جون 2025 کو احمد آباد میں حادثے کا شکار ہوا (ایکس اکاؤنٹس)\n\n\n\n\nتفتیش کاروں نے تاحال طیارہ حادثے کی وجہ کے بارے میں اپنے حتمی نتائج شائع نہیں کیے ہیں۔\n\nانڈیا کے ایئر کرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن بیورو کی اس واقعے سے متعلق ابتدائی رپورٹ میں پتہ چلا ہے کہ اڑان بھرنے کے ’فوری‘ بعد طیارے کے دونوں فیول سوئچ ’کٹ آف‘ پوزیشن پر چلے گئے تھے، جس سے انجن کو ایندھن کی فراہمی رک گئی تھی۔\n\nان کے نمائندے سنجیو پٹیل نے بتایا کہ وشواش کمار رمیش نے مارچ میں احمد آباد میں فضائی حادثات کے تفتیش کاروں سے ملاقات کی تھی۔\n\nسنجیو پٹیل نے کہا کہ حادثے میں بچ جانے والے مذکورہ شخص کو اپنی بیوی اور پانچ سالہ بیٹے کی کفالت کے لیے ایئر انڈیا کی جانب سے اب تک 21500 پاؤنڈز ملے ہیں، جو ایک عبوری ادائیگی ہے اور ان تمام خاندانوں کو فراہم کی گئی ہے جنھوں نے اس حادثے میں اپنے پیاروں کو کھو دیا تھا۔\n\nانھوں نے پریس ایسوسی ایشن کو بتایا: ’وہ جسمانی، نفسیاتی اور مالی طور پر مسلسل مشکلات کا شکار ہیں۔\n\n’ہم نے ایئر انڈیا کے چیف ایگزیکٹو سے ملاقات کے لیے بار بار کہا ہے لیکن ایسا نہیں ہو سکا۔\n\nجون 2025 میں ایئر انڈیا کا طیارہ گرنے سے کینٹین میں کام کرنے والی تورالبین لکشاری بھی زخمی ہوئی تھیں (دی انڈپینڈنٹ)\n\n\n\n\n’ہم نے حال ہی میں ایئر انڈیا کے عہدے داروں اور ٹاٹا گروپ سے وابستہ نمائندوں سے ملاقات کی ہے۔\n\n’وہ بات چیت تعمیری رہی اور اس کے نتیجے میں کچھ مثبت پیش رفت ہوئی ہے، اگرچہ کئی اہم مسائل اب بھی زیر بحث ہیں۔\n\n’حقیقت یہ ہے کہ وشواس اور ان کے خاندان کو مسلسل شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔\n\n’حادثے کے جسمانی اور نفسیاتی اثرات کی وجہ سے وہ کام پر واپس جانے اور اپنے خاندان کی اس طرح کفالت کرنے کے قابل نہیں رہے جیسے وہ پہلے کیا کرتے تھے، جس کی وجہ سے وہ اس وقت ماہانہ 1000 پاؤنڈ سے بھی کم پر گزارا کر رہے ہیں۔\n\n’وہ اکیلے نہیں ہیں۔ حالیہ برسوں میں برطانوی شہریوں کو پیش آنے والے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک کے باوجود، نہ تو وشواس اور نہ ہی متاثرہ خاندانوں میں سے اکثر جن سے ہم نے بات کی ہے، نے برطانوی حکومت کی جانب سے کوئی براہ راست رابطہ یا خصوصی مدد حاصل کی ہے۔‘\n\nوشواش کمار رمیش حادثے کے بعد سول کارروائی کر رہے ہیں، اور ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ’ہم فضائی حادثے کی تحقیقات کی ہر تفصیل کا جائزہ لیں گے اور توقع کرتے ہیں کہ اس میں شامل تمام فریق کسی بھی غلطی، ناکامی یا غفلت کے سامنے آنے پر مناسب طریقے سے عمل کریں گے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nہجل سالیسیٹرز کے وکیل پال میک لوری نے کہا کہ متعدد ممکنہ فریقین کے خلاف سول دعووں پر غور کیا جا رہا ہے۔\n\nانھوں نے ایک بیان میں کہا: ’ہماری ایئر انڈیا کے قانونی نمائندوں کے ساتھ اہم بات چیت ہوئی ہے اور وہ حالیہ دنوں میں بہت تعاون کرنے والے رہے ہیں، اور انھوں نے انتہائی ضروری جسمانی اور نفسیاتی بحالی کی مدد کے لیے کچھ ابتدائی فنڈز فراہم کیے ہیں۔\n\n’ہم تحقیقات کے نتائج کے منتظر ہیں، اور آخر کار ہمیں کچھ وضاحت ملنی چاہیے کہ یہ خوف ناک حادثہ کیسے اور کیوں پیش آیا، اور سب سے اہم بات یہ کہ اس سے کیسے بچا جا سکتا تھا۔\n\n’واضح طور پر اس سے سبق سیکھنا چاہیے، اور ایسا ہونے کے لیے مکمل شفافیت اور ذمہ داری قبول کرنے کی رضامندی ہونی چاہیے۔‘\n\nدفتر خارجہ سے تبصرے کے لیے رابطہ کیا گیا۔\n\nایئر انڈیا کے ایک ترجمان نے کہا کہ ’ایئر انڈیا اے آئی 171 کے سانحے سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ مدد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔\n\n’اگرچہ ہم کسی بھی انفرادی کیس کی تفصیلات پر بات نہیں کر سکتے، لیکن ایئر انڈیا اور ٹاٹا گروپ کے نمائندوں نے مسٹر رمیش سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ ایک تعمیری اور بامقصد گفتگو کی۔\n\n’اس بات چیت سے مسٹر رمیش کی ضروریات اور خدشات کو سمجھنے میں مدد ملی، جس سے یہ واضح طور پر سمجھنے کے قابل ہوئے کہ ان کی بہترین طریقے سے کس طرح مدد کی جا سکتی ہے۔ ہم مسٹر رمیش اور ان کے نمائندوں کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سرگرمی سے کام کر رہے ہیں کہ ان تک مناسب مدد مسلسل پہنچائی جاتی رہے۔‘\n\nایئر انڈیا\n\nانڈیا\n\nفضائی حادثہ\n\nنئی دہلی\n\nبھارتی طیارہ\n\nطیارہ حادثہ\n\nوشواش کمار رمیش کا کہنا ہے کہ ’میں مسلسل جواب طلب سوالات کے ساتھ زندگی گزار رہا ہوں کہ یہ کیسے اور کیوں ہوا؟‘\n\nجوش پین\n\nجمعرات, جون 11, 2026 - 13:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">13 جون 2025 کو احمد آباد، انڈیا میں فائر بریگیڈ کے ایک اہلکار تباہ شدہ ایئر انڈیا بوئنگ 787-8 ڈریم لائنر طیارے کے پاس موجود ہیں (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\n’جہاز دیکھ کر ڈر لگتا ہے‘: ایئر انڈیا حادثے میں بچ جانے والوں کی کہانی\n\nایئر انڈیا حادثہ: تحقیقاتی رپورٹ کب جاری ہوگی اور کیا انکشافات متوقع ہیں؟\n\nایئر انڈیا طیارہ حادثہ: مقدمہ واپس لینے پر 10 لاکھ روپے کی پیشکش\n\nایئر انڈیا حادثہ: متاثرین کا بلیک باکس ڈیٹا منظر عام پر لانے کا مطالبہ\n\nSEO Title:\n\nایئر انڈیا حادثہ: بچ جانے والے واحد مسافر مالی اور نفسیاتی مسائل کا شکار\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/uk/home-news/air-india-plane-crash-sole-survivor-vishwash-kumar-ramesh-b2993682.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایئر انڈیا حادثہ: بچ جانے والا واحد مسافر مالی اور نفسیاتی مسائل کا شکار"
}