{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidmix23f4wxnbqsv7d4bbfyonkebfy6dxj457ir2bk5ajcodwf4ma",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo23uvlerpz2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifdubwlugbrbg3gu3gpgcayswji3jeznyvnh4bcxklkef7ifhowqu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 78112
  },
  "path": "/node/186281",
  "publishedAt": "2026-06-11T08:41:21.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "ترجمان دفتر خارجہ",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "انڈیا",
    "قرۃ العین شیرازی",
    "پاکستان",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر جمعرات کو تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی پاسداری کریں۔**\n\nامریکہ نے بدھ کی رات ایران پر حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی، جس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں کمزور پڑنے لگی ہیں جب کہ تہران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو نشانہ بنائے گا۔\n\nاس جنگ کا آغاز فروری میں ایران پر بڑے امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا تھا، جس نے اپریل میں ایک غیر مستحکم جنگ بندی کے نافذ ہونے سے پہلے خطے اور عالمی منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔\n\nدونوں ممالک کے درمیان معاہدے کے لیے پاکستان کی ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں اور حال ہی میں پاکستانی عہدیداروں نے ایران کا دورہ بھی کیا ہے، لیکن فریقین کے مابین حالیہ تندوتیز بیانات اور حملوں نے اس صورت حال کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔\n\nجمعرات کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے مشرق وسطیٰ کے حالات پر ردعمل میں کہا: ’پاکستان حالیہ کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ہم فریقین سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی پاسداری کریں۔‘\n\nایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان نے کہا کہ ’حالیہ دورہ تہران میں وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایک پیغام اور خط ایرانی قیادت کو پہنچایا، ان کا دورہ پاکستان کی قیام امن کی کوششوں کا تسلسل تھا۔ ان کی جانب سے ایرانی قیادت کو فراہم کردہ خط ایک ریاستی پیغام تھا جس کو پبلک نہیں کر سکتے۔‘\n\nترجمان طاہر اندرابی نے مزید کہا کہ مواصلات کے ذرائع پہلے بھی کھلے تھے اور اب بھی کھلے ہوئے ہیں۔ ’ہم ایک حد تک امید کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کشیدگیوں کے باعث سفارتی کوششیں کم ہوئی ہیں۔ ہم مثبت انداز میں اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n**انڈیا کی پانی روکنے کی کوشش جنگی اقدام کے مترادف ہوگی: پاکستان**\n\nترجمان دفتر خارجہ نے انڈین وزیر آبی وسائل کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے ’پانی کے جارحیت کے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال‘ کو مسترد کر دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبقول طاہر اندرابی: ’250 ملین پاکستانیوں کے پانی کو روکا نہیں جا سکتا، اس سے بین الاقوامی امن و سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔ پانی کے بہاؤ کو جان بوجھ کر روکنے کی کوئی بھی کوشش جنگ کے اقدام کے مترادف ہوگی اور پاکستان اپنے عوام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔‘\n\nانڈین وزیر برائے آبی وسائل سی آر پاٹل نے منگل کو کہا تھا کہ انڈیا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے۔\n\nدونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم سے متعلق سندھ طاس معاہدے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا: ’یہ فیصلہ اب بھی برقرار ہے، بلکہ معاہدے کو معطل رکھا گیا ہے۔ اور جب سے وزیراعظم نریندر مودی نے یہ فیصلہ کیا ہے، ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے کہ پانی کا ایک قطرہ بھی وہاں نہ جائے۔ وزیراعظم کی ہدایات کے تحت وزیر داخلہ امت شاہ بھی ذاتی طور پر اس معاملے کی نگرانی کر رہے ہیں اور ہم اس پر فعال طور پر کام کر رہے ہیں۔‘\n\n**پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے متعلق انڈین بیان مسترد**\n\nترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی صورت حال سے متعلق انڈین وزارت خارجہ کے بیان کو مسترد کردیا۔\n\nطاہر اندرابی نے کہا ہے: ’ہم اس بیان کو مسترد کرتے ہیں، ہم آزاد جموں کشمیر کے معاملات پر انڈین بیان کو مسترد کرتے ہیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر ایک عالمی متنازع علاقہ ہے۔ جبکہ انڈین بانیان نے بھی عالمی فورمز پر اس مسئلے کے حل کے وعدے کر رکھے ہیں، پاکستان کشمیریوں ہی سفارتی، سیاسی و اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ انہوں نے انڈین جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر سپری انسٹی ٹیوٹ کی رپورٹ دیکھی ہے۔ ’سپری کے طریقہ کار سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کے مشاہدات سے نہیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا: ’پاکستان ہتھیاروں کی دوڑ پر یقین نہیں رکھتا، تاہم ہم صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پاکستان عالمی برادری سے انڈین جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی پر نظر رکھنے پر زور دیتا ہے۔‘\n\n**قابل اعتماد انٹیلی جنس کی معلومات پر افغانستان میں کارروائی کی گئی**\n\nافغانستان میں اہداف پر کارروائی سے سے متعلق ترجمان نے کہا پاکستان نے ’قابل اعتماد انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کی۔ کیمپوں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، اپنے عوام کی حفاظت اور سلامتی ہماری ترجیح برقرار ہے۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ نے افغانستان میں پاکستان کے سفارت کار کی طلبی سے متعلق لا علمی کا اظہار کیا ہے۔ طاہر اندرابی نے کہا کہ انہیں ’کابل میں پاکستانی سفارت کار کی طلبی سے متعلق معلومات نہیں ہیں، ہو سکتا ہے کہ ان کو طلب کیا گیا ہو۔‘\n\nافغان وزارت خارجہ وزارت خارجہ نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا تھا کہ کابل میں طالبان حکومت نے پاکستان کے حالیہ حملوں پر پاکستان کے ناظم الامور کو طلب کیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ ’افغان خودمختاری کی خلاف ورزی اور شہریوں کے گھروں پر بمباری پر چارج ڈی افیئرز سے شدید احتجاج کیا گیا۔‘\n\nافغان حکومت کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں بچوں سمیت 13 افراد مارے گئے تاہم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔\n\n**تین، چار ہزار پاکستانیوں کو یو اے ای سے واپس بھیجا گیا**\n\nمتحدہ عرب امارات سے پاکستانیوں کی بے دخلی سے متعلق سوال کے جواب میں طاہر اندرابی نے کہا ’متحدہ عرب امارات سے تین سے چار ہزار پاکستانیوں کو واپس بھیجا گیا ہے، اس سے زیادہ کی تعداد ہمارے اعداد و شمار سے میچ نہیں کرتی۔ واپس بھیجے گئے پاکستانیوں کے اثاثے اماراتی حکومت رکھنا پسند نہیں کرے گی، ان پاکستانیوں کے اثاثوں کا تحفظ ہمارے بیرون ممالک مشنز کی اولین ذمہ داری ہے۔ ایسے پاکستانی وزارت خارجہ سے بھی رابطہ کر سکتے ہیں۔‘\n\nترجمان دفتر خارجہ\n\nایران\n\nامریکہ\n\nانڈیا\n\nپاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی پر جمعرات کو تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے اپیل کی ہے کہ وہ جنگ بندی کے دوران طے پانے والی مفاہمت کی پاسداری کریں۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعرات, جون 11, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی 11 جون 2026 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران (دفتر خارجہ فیس بک پیج)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان کے ذریعے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری: ایران\n\nپاکستان کی درخواست پر ایران کے خلاف جنگ روکی: صدر ٹرمپ\n\nامریکی حملوں کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز بند کرنے اور جوابی حملوں کا اعلان\n\nیقینی بنا رہے ہیں کہ ’پانی کا ایک قطرہ بھی‘ پاکستان نہ پہنچے: انڈین وزیر\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کی خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش، جنگ بندی کی پاسداری کی اپیل\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان کی خطے میں حالیہ کشیدگی پر تشویش، جنگ بندی کی پاسداری کی اپیل"
}