{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifujz63rahpmwj3lqhfdoxp4u6fydsihcpkwqvrjbijoochgnumsi",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mo23tpxecfi2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicwhzgvbvrkkab3fcrwqtqv7q3k56lzujqtredqa3ct3k6osje3ue"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 82956
},
"path": "/node/186288",
"publishedAt": "2026-06-11T17:01:28.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"این ایف سی ایوارڈ",
"بجٹ 2026",
"خیبر پختونخوا",
"لائبہ حُسن",
"معیشت",
"video"
],
"textContent": "**قومی اقتصادی کونسل کے حالیہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے لیے صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی کی گئی ہے، جس کے تحت خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 109 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔**\n\nاس فیصلے کے بعد صوبے کا ترقیاتی بجٹ 564 ارب روپے سے کم ہو کر 455 ارب روپے رہ گیا ہے۔\n\nیہ کٹوتی ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے جب وفاقی سطح پر آئندہ مالی سال کا بجٹ پیش کیے جانے کی تیاری جاری ہے، جبکہ صوبائی سطح پر ترقیاتی منصوبوں اور مالی ترجیحات پر بھی نظرثانی کا عمل موجود ہے۔\n\nخیبر پختونخوا پہلے ہی دہشت گردی سے متعلق سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے جس میں متاثرہ اضلاع میں امن و امان کی صورت حال، سکیورٹی آپریشنز اور بحالی کے اقدامات شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں بنیادی ڈھانچے، سڑکوں، صحت اور تعلیم کے منصوبوں کی ضروریات بھی صوبائی ترقیاتی ایجنڈے کا اہم حصہ ہیں۔\n\nقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں خیبر پختونخوا کی نمائندگی وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور مشیر خزانہ مزمل اسلم نے کی۔\n\nصوبائی حکومت نے اس کٹوتی کے بعد مؤقف اختیار کیا ہے کہ ترقیاتی بجٹ میں کمی موجودہ زمینی حقائق کے تناظر میں صوبے کے لیے مشکلات پیدا کر سکتی ہے۔\n\nصوبائی حکومت کے ترجمان شفیع جان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ’ہم اس کٹوتی کو کسی صورت قبول نہیں کرتے۔ خیبر پختونخوا اس وقت دہشتگردی سے متاثرہ علاقوں، سکیورٹی چیلنجز اور ضم شدہ اضلاع کے اضافی ترقیاتی بوجھ سے گزر رہا ہے، جہاں پہلے ہی بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کی کمی موجود ہے۔ ایسے حالات میں ترقیاتی بجٹ میں کمی سے جاری منصوبوں کی رفتار متاثر ہو گی اور نئے منصوبوں کی منصوبہ بندی بھی محدود ہو جائے گی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ یہ فیصلہ صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتا ہے، خصوصاً ان منصوبوں پر جو سڑکوں، صحت، تعلیم اور ضم شدہ اضلاع میں انفراسٹرکچر کی بہتری سے متعلق ہیں۔ ان کے مطابق مالی گنجائش میں کمی کے باعث ترقیاتی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nقومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کے بعد یہ معاملہ صوبائی اور وفاقی مالیاتی تعلقات کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے، کیونکہ صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں مجموعی طور پر مالیاتی وسائل اور اخراجات کی تقسیم پر پہلے ہی بحث جاری ہے۔\n\nشفیع جان نے مزید بتایا کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے اجلاس میں خیبر پختونخوا کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا۔\n\nان کے مطابق صوبے کی جانب سے ترقیاتی ضروریات اور زمینی حقائق کو اجلاس کے سامنے رکھا گیا، خاص طور پر سکیورٹی چیلنجز اور ضم شدہ اضلاع کے ترقیاتی تقاضوں کے تناظر میں۔\n\nترجمان کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں صوبائی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کے شعبے کو ترجیح دینے کا بھی منصوبہ ہے، کیونکہ موجودہ صورتحال میں امن و امان اور سکیورٹی اخراجات صوبے کی اہم ترجیحات میں شامل ہیں۔\n\nقومی اقتصادی کونسل کے اس فیصلے کے بعد یہ سوال مزید اہم ہو گیا ہے کہ خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار اور دائرہ کار کس حد تک متاثر ہوں گے، خصوصاً ایسے وقت میں جب صوبہ بیک وقت سکیورٹی اور ترقیاتی دونوں طرح کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہے-\n\nاین ایف سی ایوارڈ\n\nبجٹ 2026\n\nخیبر پختونخوا\n\nاین ای سی نے خیبر پختونخوا کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 109 ارب روپے کی کٹوتی کی جس پر صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے ترقیاتی منصوبوں اور سکیورٹی و بحالی کے اقدامات متاثر ہو سکتے ہیں۔\n\nلائبہ حُسن\n\nجمعرات, جون 11, 2026 - 22:00\n\nMain image:\n\n> <p>پشاور کے خیبر روڈ پر واقع خیبر پختونخوا اسمبلی کی عمارت (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nQz3hmshd\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبجٹ 2026: پنجاب کو کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟\n\nبجٹ 2026: کاروبار دوست اقدامات اٹھائے جائیں: تاجر\n\nبجٹ میں ٹیکس بڑھنے کی خبریں، سولر پینلز مہنگے ہو گئے\n\nبجٹ سے آگے: معیشت کے بنیادی مسائل کب حل ہوں گے؟\n\nSEO Title:\n\n109 ارب روپے کی کٹوتی: خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ پر صوبے کے تحفظات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "109 ارب روپے کی کٹوتی: خیبر پختونخوا کے ترقیاتی بجٹ پر صوبے کے تحفظات"
}