{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreic3subh3rcsv5j53n7kie4c63dbaxruc374l5krmbxgfn3iqmytum",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnx5xehibud2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiaskrsnrzpw66migiintldwb2o2vjqj3oxypxlwmghpc2563e2zzu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 138285
  },
  "path": "/node/186270",
  "publishedAt": "2026-06-10T15:10:02.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "خیبر پختونخوا",
    "پی ٹی آئی",
    "عمران خان",
    "سہیل آفریدی",
    "اظہار اللہ",
    "سیاست",
    "video"
  ],
  "textContent": "**صوبہ خیبر پختونخوا میں حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر اختلافات کھل کر سامنے آنے لگے ہیں اور بعض حکومتی اراکین اسمبلی نے صوبائی قیادت سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ 30 سے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے۔**\n\nان ناراضیوں کی خبریں صوبائی کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد سامنے آئیں جس کے بعد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے پارلیمانی پارٹی کا اجلاس طلب کیا ۔\n\nتاہم متعدد اراکین اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔ صوبائی حکومت نے اس عدم شرکت کو اراکین کی ذاتی مصروفیات سے منسلک کیا تھا۔\n\nناراض اراکین کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت اور پارٹی قیادت پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کر رہی۔\n\nسابق صوبائی وزیر اور رکن اسمبلی مشتاق احمد غنی کے مطابق ان کے گروپ کا ایجنڈا صرف ایک نکتے پر مشتمل ہے اور وہ عمران خان کی رہائی کے لیے مؤثر تحریک اور واضح لائحہ عمل اختیار کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔\n\nانہوں نے کہا ’ہم نہ حکومت گرانا چاہتے ہیں، نہ کسی کی کرسی کو خطرہ لاحق کرنا چاہتے ہیں اور نہ ہی کسی کے خلاف محاذ کھول رہے ہیں۔ ہماری خواہش ہے کہ بجٹ سمیت اہم فیصلے عمران خان کی مشاورت سے کیے جائیں۔‘\n\nاسی طرح رکن اسمبلی فضل الہیٰ نے دعویٰ کیا کہ ان کے ہم خیال گروپ میں 35 سے 40 اراکین شامل ہیں۔ ان کے مطابق چند ہفتے قبل ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 92 میں سے صرف 52 اراکین نے شرکت کی تھی۔\n\nتاہم مشتاق احمد غنی اور فضل الٰہی کے علاوہ ابھی تک کوئی اور رکن اسمبلی کھل کر سامنے نہیں آیا جس نے صوبائی حکومت یا پارٹی قیادت پر براہِ راست تنقید کی ہو۔\n\nفضل الہیٰ کا کہنا تھا کہ ان کا مطالبہ صرف وزیر اعلیٰ سے نہیں بلکہ پوری پارٹی قیادت سے ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔\n\nانہوں نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر توجہ نہ دی گئی تو بجٹ کی منظوری مشکلات کا شکار ہو سکتی ہے۔\n\nسیاسی مبصرین کے مطابق ناراض اراکین کے تحفظات کی بنیادی وجہ کابینہ میں شمولیت سے محرومی ہو سکتی ہے جبکہ عمران خان کی رہائی کا مطالبہ سیاسی مؤقف کے طور پر سامنے لایا جا رہا ہے۔\n\nپشاور میں صحافی طارق وحید کے مطابق کابینہ میں حالیہ توسیع کے بعد یہ اختلافات نمایاں ہوئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا ’کئی اراکین کو امید تھی کہ انہیں کابینہ میں شامل کیا جائے گا لیکن ایسا نہ ہونے پر ان میں ناراضی پیدا ہوئی۔\n\n’عمران خان کی رہائی کا نعرہ اپنی جگہ اہم ہے، تاہم موجودہ اختلافات کے پس منظر میں کابینہ میں نمائندگی کا معاملہ زیادہ نمایاں نظر آتا ہے۔‘\n\nان کے مطابق ناراض اراکین فی الحال پارٹی یا حکومت کے خلاف کھل کر جانے کی پوزیشن میں نہیں البتہ وہ بعض پالیسیوں اور حکومتی طرزِ عمل پر تنقید کر رہے ہیں۔\n\nدوسری جانب خیبر پختونخوا کے سیاسی امور پر نظر رکھنے والے صحافی لحاظ علی کا کہنا ہے کہ یہ ناراض گروپ صوبائی حکومت کے لیے ایک سنجیدہ سیاسی چیلنج بن سکتا ہے۔\n\nانہوں نے بتایا ’میری متعدد ناراض اراکین سے بات ہوئی ہے۔ ان کے وزیر اعلیٰ سے کئی گلے شکوے ہیں، جن میں ایک اہم شکایت یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ اراکین اسمبلی کو مناسب وقت نہیں دیتے۔‘\n\nان کے مطابق ناراض اراکین اپنے حلقوں کے لیے ترقیاتی فنڈز اور منصوبوں کے حصول کے خواہاں ہیں، لیکن ان کے مطالبات اور مسائل کو مؤثر انداز میں نہیں سنا جا رہا۔\n\nانہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں پرویز خٹک کے دور حکومت میں بھی ایسا ایک گروپ سامنے آیا تھا، تاہم اس وقت اختلافات کو سیاسی طور پر بہتر انداز میں سنبھال لیا گیا تھا۔\n\nخیبر پختونخوا\n\nپی ٹی آئی\n\nعمران خان\n\nسہیل آفریدی\n\nبعض حکومتی اراکین اسمبلی نے صوبائی قیادت سے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے ساتھ 30 سے 40 ارکان پر مشتمل ایک گروپ موجود ہے۔\n\nاظہار اللہ\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 19:45\n\nMain image:\n\n> <p>خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے دیگر کارکن 30 جنوری، 2026 کو اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر احتجاج کر رہے ہیں(انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nسیاست\n\njw id:\n\nGb9ZibHv\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمردان: پی ٹی آئی کا یکم مئی کو لاہور جلسے کا اعلان\n\nوزیراعظم سے ’دہشت گردی‘ پر تبادلہ خیال، عمران پر بات نہیں ہوئی: سہیل آفریدی\n\nعمران خان کی صحت، اگر حالات خراب ہوئے تو ذمہ دار حکومت: سہیل آفریدی\n\nبلوچستان: ’وزیراعلیٰ سے ناراض گروپ کی تعداد میں اضافہ‘\n\nSEO Title:\n\nخیبر پختونخوا حکومت میں پی ٹی آئی کا ناراض گروپ کتنا مضبوط؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "خیبر پختونخوا حکومت میں پی ٹی آئی کا ناراض گروپ کتنا مضبوط؟"
}