{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiaahlbiibelknizlndnab4xp3tw3ddarjkjecr74gyvrlbk6o3pne",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnwxavovurf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih4h3hztunj2uuj7zz2k3qroetwfs3vpnutahardghgx55vsdjrvu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 96370
},
"path": "/node/186259",
"publishedAt": "2026-06-10T06:45:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
"پاکستان",
"خواتین",
"صحت",
"صالحہ فیروز خان",
"video"
],
"textContent": "**کوئٹہ کے سینڈیمن سول ہسپتال کی ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ اگر کسی شخص پر تیزاب پھینکا جائے تو ابتدائی چند منٹوں میں کون سے اقدامات اس کی جان بچانے اور زخموں کی شدت کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔**\n\nویڈیو میں ڈاکٹر ماہ نور کو حملے کے فوراً بعد شدید اضطراب اور تکلیف کی حالت میں دیکھا جا سکتا ہے جبکہ موقعے پر موجود ایک شخص انہیں فوری مدد فراہم کرنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔\n\nڈاکٹروں کے مطابق ماہ نور کے جسم کا تقریباً 13 فیصد حصہ متاثر ہوا ہے۔ تاہم دونوں آنکھوں کی اطراف میں زخم آنے کے باوجود ان کی بینائی محفوظ ہے اور ماہرین ان کی صحت یابی کے لیے پرامید ہیں۔\n\nایسے واقعات میں بروقت اور درست ردعمل نہ صرف متاثرہ فرد کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقل جسمانی نقصان کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔\n\n**پہلی ترجیح اپنی حفاظت**\n\nاسی حوالے سے آغا خان یونیورسٹی ہسپتال کی پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ثوبیہ یاسمین نے بتایا کہ ’تیزاب سے جلنے کے کسی بھی واقعے میں سب سے پہلی ترجیح اپنی حفاظت ہونی چاہیے۔\n\n’متاثرہ شخص کی مدد کے لیے آگے بڑھنے سے پہلے یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ امداد فراہم کرنے والا خود تیزاب کی زد میں نہ آئے کیونکہ بصورتِ دیگر ایک کی بجائے دو افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔‘\n\nڈاکٹر ثوبیہ بتاتی ہیں ’اگر ممکن ہو تو دستانے استعمال کیے جائیں اور متاثرہ شخص کو براہِ راست ہاتھ لگانے سے گریز کیا جائے۔\n\n’دوسری اہم بات یہ ہے کہ متاثرہ شخص کو فوراً اس جگہ سے دور کیا جائے جہاں تیزاب موجود ہو تاکہ مزید نقصان نہ ہو۔‘\n\nیہاں انہوں نے واضح کیا کہ تیزاب سے آنے والے زخم عام آگ کے نتیجے میں آنے والے زخموں سے مختلف ہوتے ہیں۔\n\n’آگ کا ذریعہ ہٹا دینے سے جلنے کا عمل رک جاتا ہے لیکن تیزاب جب تک جلد یا کپڑوں پر موجود رہے گا زخم کو مزید گہرا کرتا جائے گا۔‘\n\n**تیزاب کے اثر کو کم کرنے کے لیے فوری عمل کیا ہونا چاہیے؟**\n\nاس سوال کے جواب میں پلاسٹک سرجن ڈاکٹر ثوبیہ کا کہنا تھا ’اپنی حفاظت یقینی بنانے کے بعد ابتدائی طبی امداد سب سے ضروری کام متاثرہ حصے پر مسلسل پانی بہانا ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n’اس مقصد کے لیے عام نل کے پانی کا استعمال کیا جا سکتا ہے، کسی خاص یا جراثیم سے پاک پانی کی ضرورت نہیں۔ پانی مسلسل بہنا چاہیے، یعنی نل، پائپ یا برتن کے ذریعے بار بار ڈالا جائے۔\n\n’اس عمل سے تیزاب پتلا ہو جاتا ہے اور جِلد میں اس کے مزید سرایت کرنے کا امکان کم ہو جاتا ہے، جس سے چوٹ کی شدت میں اضافہ روکا جا سکتا ہے۔‘\n\n**گھریلو ٹوٹکے نقصان دہ ہو سکتے ہیں**\n\nان کا کہنا ہے کہ ’عام طور پر لوگ جلنے کی صورت میں مختلف گھریلو ٹوٹکے استعمال کرتے ہیں، جیسے ہلدی، دہی یا لیموں لگانا، لیکن ایسا کرنا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔\n\n‘ان چیزوں کا تیزاب کے ساتھ ردِعمل زخم کو مزید خراب کر سکتا ہے۔ اس لیے پانی کے علاوہ کوئی اور چیز ہرگز استعمال نہ کریں۔‘\n\n**تیزاب حملوں میں آنکھوں کو سب سے زیادہ خطرہ**\n\nڈاکٹر ثوبیہ معلومات کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے بتاتی ہیں ’تیزاب سے جلنے کے زیادہ تر واقعات چہرے، ہاتھوں اور گردن پر ہوتے ہیں۔\n\n’ان میں آنکھوں کا تحفظ انتہائی اہم ہے، کیونکہ اگر تیزاب آنکھ میں چلا جائے اور اسے فوری طور پر نہ دھویا جائے تو بینائی ضائع ہو سکتی ہے۔\n\n’اس لیے چہرہ دھوتے وقت آنکھیں کھول کر اچھی طرح پانی سے دھونا ضروری ہے۔‘\n\nاگر تیزاب کپڑوں پر گرا ہو تو کپڑے بھی ہٹا دینے چاہییں کیونکہ کپڑوں میں موجود تیزاب جلد کو مسلسل نقصان پہنچاتا رہتا ہے۔\n\nالبتہ اگر کپڑے جسم کے ساتھ چپک چکے ہوں تو انہیں زبردستی نہ اتارا جائے، صرف پانی بہایا جائے اور جو کپڑے آسانی سے ہٹ سکتے ہوں انہیں احتیاط سے ہٹا دیا جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی طرح زیورات، گھڑی، چشمہ یا دیگر اشیا بھی اتار دینی چاہییں کیونکہ یہ مخصوص جگہوں پر زیادہ گہرے زخم پیدا کر سکتی ہیں۔\n\nثوبیہ یاسمین مزید بتاتی ہیں کہ ’پانی بہانے کے ساتھ ساتھ فوری طور پر امدادی خدمات سے رابطہ کرنا اور مریض کو قریبی برن سینٹر یا پلاسٹک سرجری یونٹ منتقل کرنا بھی ضروری ہے۔\n\nہسپتال میں علاج کا انحصار تیزاب کی نوعیت، اس کی طاقت، زخم کی گہرائی اور جسم کے متاثرہ حصے پر ہوتا ہے۔ بعض شدید کیسز میں جلد کی پیوندکاری سمیت طویل اور پیچیدہ علاج درکار ہو سکتا ہے جو مہینوں بلکہ برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔‘\n\n**تیزاب سے جلنے کے واقعات صرف مجرمانہ حملوں تک محدود نہیں**\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ تیزاب سے جلنے کے واقعات صرف مجرمانہ حملوں تک محدود نہیں بلکہ گھریلو صفائی کے کیمیکلز اور صنعتی استعمال کے دوران بھی پیش آ سکتے ہیں۔\n\nحفاظتی تدابیر، مناسب تربیت اور کیمیکلز کو محفوظ انداز میں ذخیرہ کرنا ایسے حادثات سے بچاؤ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔\n\nکوئٹہ میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ ایک بار پھر اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ تیزاب گردی کے متاثرین کے لیے ابتدائی چند منٹ فیصلہ کن ہوتے ہیں۔\n\nدرست معلومات، فوری ردعمل اور بروقت طبی امداد نہ صرف زخموں کی شدت کم کر سکتی ہے بلکہ متاثرہ فرد کی زندگی اور مستقبل کو بھی محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔\n\nپاکستان\n\nخواتین\n\nصحت\n\nایسے واقعات میں بروقت اور درست ردعمل نہ صرف متاثرہ فرد کے لیے زندگی اور موت کا فرق ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مستقل جسمانی نقصان کو بھی کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 18:00\n\nMain image:\n\n> <p>کوئٹہ کے ایک ہسپتال میں ایک خاتون 9 جون 2026 کو ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملے کے خلاف لگے پوسٹر کے قریب سے گزر رہی ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nصحت\n\njw id:\n\nqjl467DW\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nتیزاب سے زیادہ خطرناک خاموشی\n\nتیزاب حملے سے ڈاکٹر ماہ نور کا ’13 فیصد جسم متاثر‘، حالت میں بہتری\n\nخاتون ڈاکٹر پر تیزاب پھینکنے والا ملزم ’پولیس مقابلے‘ میں مارا گیا\n\nSEO Title:\n\n’ابتدائی منٹ اہم‘: تیزاب حملے کے بعد کون سا قدم زندگی بچا سکتا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "’ابتدائی منٹ اہم‘: تیزاب حملے کے بعد کون سا قدم زندگی بچا سکتا ہے؟"
}