{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigv3p7lexj7mmayuru5yj6te7bcqdrq25zqeamupcvsyxktb6ouvu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnwqjfl4sf62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicx7gevg53whmdssxwyyplrgamnf5hcabvmo3l6t3orxglm4ok5ve"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 54028
  },
  "path": "/node/186266",
  "publishedAt": "2026-06-10T11:45:24.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بجٹ",
    "شہباز شریف",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو نیشنل اکنامک کونسل (این ای سی) کے اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ بڑے چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میکرو اکنامک سطح پر مستحکم ہے۔**\n\nیہ اجلاس آئندہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرنے سے قبل وفاقی اور صوبائی ترقیاتی منصوبوں کو حتمی شکل دینے کے لیے منعقد ہوا۔\n\nاین ای سی وفاق کا اعلیٰ ترین اقتصادی فیصلہ ساز فورم ہے، جس کی سربراہی وزیراعظم کرتے ہیں اور اس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور چار وفاقی وزرا شامل ہوتے ہیں۔\n\nٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ وفاق نے تمام معاملات پر صوبوں کے ساتھ انتہائی سنجیدگی سے مشاورت کی اور ایسے فیصلے کیے جو پاکستان کے بہترین مفاد میں تھے۔\n\nوزیراعظم نے تمام وزرائے اعلیٰ کا مختلف امور پر مشاورت اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز حالیہ طبی معاملے کے بعد صحت یابی کے مرحلے سے گزر رہی ہیں، اسی وجہ سے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ بڑے چیلنجز کے باوجود ملکی معیشت میکرو اکنامک سطح پر مستحکم ہے، تاہم اس میں ترقی کی رفتار پیدا کرنا انتہائی اہم عمل ہے۔\n\nوزیراعظم نے کہا اجلاس سے قبل وفاق صوبوں کے ساتھ مشاورت کر رہا تھا کہ مزید وسائل کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ ملک کو درپیش سب سے بڑا چیلنج دفاع کو مضبوط بنانا ہے، خصوصاً دہشت گردی کے خلاف جنگ کے تناظر میں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ پوری قوم، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے عوام، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قربانیاں دے رہے ہیں۔\n\nوزیراعظم نے عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑا۔\n\nانہوں نے کہا کہ وفاق اور صوبوں کے باہمی تعاون کے بغیر اس مشکل دور کا مقابلہ ممکن نہیں تھا اور اس سلسلے میں چاروں وزرائے اعلیٰ کے تعاون پر ان کے شکر گزار ہیں۔\n\nاین ای سی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ اجلاس میں صوبے کے عوام کا مقدمہ بھرپور انداز میں پیش کیا گیا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی ہے کہ 180 دن کے اندر نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کو اپڈیٹ کرنے کے لیے باقاعدہ اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کے مطابق اگر 180 دن کے اندر اتفاق رائے نہ ہو سکا تو صدر مملکت کو سمری بھیج کر صدارتی آرڈر کے ذریعے این ایف سی کو اپڈیٹ کیا جائے گا۔\n\nوزیراعلیٰ نے کہا کہ نئے این ایف سی ایوارڈ میں ضم شدہ اضلاع کا مالی حصہ شامل کیا جائے گا، جو صوبے کے عوام کے لیے خوش خبری ہے۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ اے آئی پی میں مجوزہ کٹوتی مذاکرات کے بعد کافی حد تک بہتر ہوئی ہے، تاہم مزید بہتری کے لیے بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔\n\nسہیل آفریدی نے امید ظاہر کی کہ ضم شدہ اضلاع کی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی) اور اے آئی پی کے حصے میں مزید بہتری آئے گی۔\n\nانہوں نے کہا کہ سیاسی معاملات پر وزیراعظم کے ساتھ بات چیت جاری ہے اور جلد مثبت پیش رفت عوام کے سامنے آئے گی۔\n\nان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا حکومت ملک بھر میں امن و امان کے لیے سب سے زیادہ سرمایہ کاری کر رہی ہے۔\n\nان کے مطابق پانچ اکتوبر، 2025 سے اب تک پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کی استعداد کار بڑھانے پر 30 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جا چکے ہیں۔\n\nسہیل آفریدی نے کہا کہ این ای سی اور این ایف سی اجلاسوں میں شرکت صوبے کے حقوق اور عوام کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔\n\nبجٹ\n\nشہباز شریف\n\nوزیراعظم نے نیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ وفاق نے تمام معاملات پر صوبوں کے ساتھ مشاورت کر کے پاکستان کے بہترین مفاد میں فیصلے کیے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>10 جون، 2026 کو اسلام آباد میں این ای سی کے اجلاس کے موقعے پر وزیراعظم شہباز شریف اور تین صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کا گروپ فوٹو (سکرین گریب)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکتاب، کاپی اور قلم پر 80 فیصد ٹیکس، نئے بجٹ میں تعلیم بھی مہنگی ہوگی؟\n\nبجٹ 2026: پنجاب کو کم حصہ ملنے سے صوبے پر کیا اثر ہو گا؟\n\nپاکستان کا بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان\n\nاچھا بجٹ اب بھی ممکن ہے لیکن۔۔\n\nSEO Title:\n\nبڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "بڑے چیلنجز کے باوجود معیشت میکرو سطح پر مستحکم: پاکستانی وزیراعظم"
}