{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidsc2pci4pkx4kcmftaieybpweklcrlgxupilfsow3wonlgnhl24q",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnwjsrstu3z2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihjneiluslgeukzqm34oxkftpnijdoluyjriy4abxxvgy226iwj6y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 131614
  },
  "path": "/node/186260",
  "publishedAt": "2026-06-10T08:53:25.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "انڈیا",
    "احمد آباد",
    "طیارہ حادثہ",
    "نمیتا سنگھ",
    "ایشیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایئر انڈیا فلائٹ 171 کو پیش آنے والے حادثے کے ایک سال بعد، جو احمد آباد میں ایک میڈیکل کالج کے کیمپس سے ٹکرا گئی تھی، تباہی کے نشانات اب بھی زمین پر نقش ہیں۔**\n\nبائی رامجی جیجی بھائی میڈیکل کالج کی سیاہ ہو جانے والی ہاسٹل کی عمارتیں اب مدھم سرمئی رنگ اختیار کر چکی ہیں اور وہ بڑا شگاف جہاں سے جہاز عمارت میں داخل ہوا تھا، اب کسی بڑے حادثے کے بجائے عمر رسیدگی اور لاپروائی کا نتیجہ زیادہ لگتا ہے۔\n\nیہ انڈیا کے بدترین فضائی حادثات میں سے ایک تھا۔\n\nدی انڈیپنڈنٹ نے اس مقام کا ایک سال بعد دورہ کیا، جہاں اس حادثے میں 260 افراد کی موت ہوئی تھی، جن میں 19 افراد زمین پر موجود تھے، جبکہ درجنوں زخمی ہوئے۔ جو لوگ زمین پر اس سانحے سے گزرے، ان کے لیے وقت نے یادوں کی شدت کو کم نہیں کیا۔\n\nان کے مطابق اس جگہ واپس جانے سے سانحے کا دکھ ختم نہیں ہوتا بلکہ یہ ایک ایسا تجربہ ہے جو زخموں کو دوبارہ تازہ کر دیتا ہے اور وہ اسے دوبارہ کبھی جینا نہیں چاہتے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا منظر خوف، موت اور شدید تکلیف کی یادیں واپس لے آتا ہے۔\n\nتمام زندہ بچ جانے والوں کے پاس یہ اختیار نہیں تھا کہ وہ واپس جائیں یا نہیں۔ تورالبین شیلش بھائی لکشاری، جو کینٹین میں کام کرتی تھیں، حادثے کے دن آگ سے بچ کر نکلتے ہوئے زخمی ہو گئیں۔ وہ خوف کے ساتھ یاد کرتی ہیں کہ انہیں اور دیگر عملے کو جلی ہوئی عمارت میں واپس جا کر کچن کا سامان نکالنے کا حکم دیا گیا، جو مکمل طور پر خراب نہیں ہوا تھا۔\n\nہر قدم ان کے لیے ان لوگوں کی یاد دلاتا تھا، جن کی وہاں موت ہوئی تھی، جن میں ایک پانچ سالہ بچی بھی شامل تھی، جسے وہ جانتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں: ’جب ہم وہاں گئے تو میرا پورا جسم سن ہو گیا تھا۔ میرے اندر ہمت نہیں تھی کہ میں اندر جا سکوں۔ میں صرف یہی سوچ رہی تھی کہ میں جلد از جلد کیسے نکلوں۔‘\n\n43 سالہ تورالبین شیلش بھائی لکشاری 12 جون کو میڈیکل کالج میں کام کر رہی تھیں جب طیارہ گر کر تباہ ہوا۔ وہ کہتی ہیں: ’جب میں اس جگہ گئی تو میرے ذہن میں صرف یہی تھا کہ یہاں کتنے لوگ مر گئے۔ کتنی دیر تک لاشیں یہاں پڑی رہیں، وہ چیخ رہے ہوں گے۔ کچھ لوگ شاید پانی کے بغیر مر گئے ہوں گے۔‘\n\nجون 2026 میں ایئر انڈیا کا طیارہ گرنے سے کینٹین میں کام کرنے والی تورالبین لکشاری بھی زخمی ہوئی تھیں (دی انڈپینڈنٹ)\n\n\n\n\nوہ ایک پانچ سالہ بچی عادھیا کی موت کا ذکر کرتی ہیں جو اپنی دادی سرلا بین کے ساتھ کینٹین آتی تھی۔ دونوں اس حادثے میں جان سے چلی گئیں، لیکن ان کی لاشوں کی شناخت ڈی این اے نمونوں کے ذریعے سات دن بعد ہوئی۔\n\nوہ سوال کرتی ہیں: ’خدا نے جو کرنا تھا کیا، لیکن اس معصوم بچی کی جان کیوں لی گئی؟ اس کا کیا قصور تھا کہ وہ وقت سے پہلے مر گئی؟‘\n\nان کے لیے صرف یادیں ہی نہیں بلکہ وہ جگہ خود بھی اذیت کا باعث بنی۔ وہ بتاتی ہیں کہ حادثے کے تقریباً ایک ماہ بعد انہیں دوبارہ وہاں جانا پڑا، جب تفتیش کاروں نے طیارے کے باقی ماندہ حصے ہٹانے کا حکم دیا۔\n\nوہ کہتی ہیں: ’وہاں بہت بدبو تھی۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لاشیں سڑنے کے لیے چھوڑ دی گئی ہوں۔ میں بہت خوفزدہ تھی۔ ہر طرف ٹوٹا ہوا شیشہ بکھرا ہوا تھا۔‘\n\n56 سالہ گیتا بین پٹیل، جو ایک اور کینٹین ورکر ہیں اور حادثے میں بچ گئیں، نے دی انڈپینڈنٹ کو بتایا کہ صفائی کے دوران انہیں جلدی بیماری ہو گئی۔ وہ کہتی ہیں: ’میرے پورے جسم پر دانے اور خارش ہو گئی تھی۔ بہت زیادہ خارش تھی۔ یہ تین سے چار دن رہی اور پھر آہستہ آہستہ ٹھیک ہوئی۔‘\n\nدونوں خواتین نے عہد کیا ہے کہ وہ اس جگہ دوبارہ نہیں جائیں گی، جہاں وہ حادثے کے وقت موجود تھیں، اگرچہ وہ اب بھی کالج کے قریب کام کرتی ہیں، تاہم انہیں روزانہ اس مقام کے قریب سے گزرنا پڑتا ہے۔\n\nتورالبین شیلش بھائی لکشاری کہتی ہیں: ’کبھی کبھی حکام کہتے ہیں کہ ہم تباہ شدہ جگہ کو دوبارہ تعمیر کریں گے اور آپ کو وہاں کینٹین چلانی ہوگی۔ لیکن میں نے کہہ دیا ہے کہ میں وہاں نہیں جانا چاہتی۔ وہاں جانے کا سوچ کر ہی جسم کانپ جاتا ہے۔ مجھے ڈر لگتا ہے کہ اگر دوبارہ جہاز اوپر سے گرا تو کیا ہوگا۔‘\n\nدی انڈپینڈنٹ نے بی جے میڈیکل کالج کے ڈین سے رابطہ کر رکھا ہے۔\n\nجب گیتا بین پٹیل دی انڈپینڈنٹ کو کالج دکھا رہی تھیں تو کیمپس کے اوپر سے کئی طیارے گزرے۔ وہ ہر بار اوپر دیکھتیں اور سرخ دم والے طیارے کو دیکھ کر کہتیں: ’لگتا ہے یہ ایئر انڈیا ہے۔ اب بھی جب جہاز گزرتا ہے تو سب کو ڈر لگتا ہے کہ کہیں یہ گر نہ جائے۔ ہم اس پر نظر رکھتے ہیں۔ پہلے ہم کھڑکیوں سے چھلانگ لگا کر بچ گئے تھے، لیکن نہیں معلوم دوبارہ ایسا کر پائیں گے یا نہیں۔‘\n\nایئر انڈیا حادثے میں زخمی ہونے والی گیتا بین پٹیل وہ کھڑکی دکھا رہی ہیں جس سے وہ حادثے کے بعد بچنے کے لیے کود کر باہر نکلی تھیں (دی انڈپینڈنٹ)\n\n\n\n\nگیتا بین پٹیل کو حادثے کے بعد کھڑکی سے نکلتے ہوئے کمر میں شدید چوٹ آئی۔ دونوں خواتین اونچی آوازوں اور اچانک حرکات سے گھبرا جاتی ہیں، حتیٰ کہ گاڑی کے ہارن بھی انہیں پریشان کرتے ہیں۔\n\nتورالبین شیلش بھائی لکشاری کہتی ہیں: ’مجھے پریشر کُکر کی سیٹی یا برتن گرنے کی آواز سے بھی ڈر لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کچھ ہونے والا ہے۔ روز کئی بار طیارے یہاں سے گزرتے ہیں اور میں ہر بار ڈر جاتی ہوں۔‘\n\nوہ بتاتی ہیں کہ وہ ہاسٹل کینٹین میں روٹیاں بنا رہی تھیں جب انہیں اچانک شدید آگ دکھائی دی۔\n\nانہوں نے کہا: ’مجھے لگا گیس سلینڈر پھٹ گیا ہے۔ میں سب کچھ چھوڑ کر بھاگی۔ میں اسی بھگدڑ میں زخمی ہو گئی، مگر مجھے فوراً احساس نہیں ہوا کہ میں زخمی ہوں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے اپنے دائیں بازو کے اوپری حصے پر موجود اُس زخم کا نشان دکھاتے ہوئے یہ بات کہی، جو اب بھر چکا ہے۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ کیسے زخمی ہوئیں، بس اتنا یاد ہے کہ ایک گہرا زخم تھا جس سے خون تیزی سے بہہ رہا تھا۔\n\nدوڑتے ہوئے وہ سیمنٹ کے ڈھیر سے پھسل گئیں۔ وہ کہتی ہیں: ’اس وقت مجھے لگا شاید زلزلہ آ گیا ہے اور ہم نہیں بچیںگے۔ دیوار کے کچھ حصے دو لوگوں پر گر گئے تھے۔‘\n\nوہ یاد کرتی ہیں: ’وہ سب چیخ رہے تھے، ہمیں بچاؤ! لیکن ہم کیسے بچاتے، جب ہر طرف جہاز کے حادثے کا دھواں تھا؟‘\n\nباہر نکلنے کے بعد وہ روئیں اور ان لوگوں کو گلے لگایا جو بچ گئے تھے۔ ان کا بازو بری طرح زخمی تھا، لیکن وہ ابتدائی طور پر ہسپتال جانے کے قابل نہ تھیں۔ بعد میں میڈیکل طلبہ نے انہیں ابتدائی طبی امداد دی اور پھر سول ہسپتال لے گئے۔\n\nوہ کہتی ہیں: ’میں چیخنے لگی۔ ڈاکٹروں نے کہا، آپ صدمے میں ہیں، مت چلائیں۔‘\n\nانہیں ایک ایسے وارڈ میں پہنچایا گیا، جہاں شدید جھلسے ہوئے مریض موجود تھے۔ وہ کہتی ہیں: ’میرے قریب ایک خاتون تھیں جو بری طرح جھلس گئی تھیں۔ کچھ دیگر مریض بھی تھے، جو شدید زخمی تھے۔ میں بہت ڈر گئی اور روتے ہوئے وہاں سے بھاگ گئی۔‘\n\nبائی رامجی جیجی بھائی میڈیکل کالج کے ہاسٹل کی عمارت کا داخلی راستہ (دی انڈپینڈنٹ)\n\n\n\n\nوہ اس وقت ہسپتال سے نکلیں جب ڈاکٹر کسی اور مریض کو دیکھ رہے تھے۔ انہیں خدشہ ہے کہ اسی وجہ سے انہیں زخمیوں کو ملنے والے 25 لاکھ روپے کے معاوضے سے محروم کر دیا گیا اور انہیں صرف 3 لاکھ روپے ملے۔\n\nدوسری جانب گیتا بین پٹیل کو کمر پر چوٹ آنے کے باوجود اب تک کوئی معاوضہ نہیں ملا اور وہ 67 زخمیوں کی لسٹ میں شامل نہیں۔\n\nگیتا بین پٹیل، جو گذشتہ 35 برس سے مرد طلبہ کے ہاسٹل میں کھانا پکانے کا کام کر رہی تھیں، نے کہا: ’اس وقت کیے گئے ایکسرے سے معلوم ہوا تھا کہ ریڑھ کی ہڈی کو کچھ نقصان پہنچا ہے۔ میں جاگنے کے بعد سیدھی بیٹھ بھی نہیں سکتی، اتنا درد ہوتا ہے۔‘\n\nان کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے ایئر انڈیا سے معاوضے کے لیے درخواست دی تو انہیں بتایا گیا کہ معاوضہ صرف ان افراد کو دیا جائے گا جو فضائی حادثے کے بعد ہسپتال میں داخل ہوئے تھے۔\n\nوہ کہتی ہیں: ’کینٹین کے بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے لیکن انہیں ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں پڑی۔ ہمارے پاس اپنی چوٹوں سے متعلق دستاویزات موجود ہیں، لیکن ہمیں کہا گیا کہ چونکہ آپ ہسپتال میں داخل نہیں ہوئے، اس لیے آپ معاوضے کے اہل نہیں ہیں۔‘\n\nحادثے کے بعد انہیں دیکھ بھال کی ضرورت تھی اور کینٹین کی عارضی بندش کے باعث آمدن نہ ہونے سے مشکلات مزید بڑھ گئیں۔ وہ کہتی ہیں: ’انہیں ہمیں کچھ نہ کچھ دینا چاہیے تھا۔ ہم زخمی ہوئے تھے۔ عمارت کو پہنچنے والے نقصان کے باعث ہم اپنی ملازمت اور کام کی جگہ سے محروم ہو گئے تھے۔‘\n\nمیڈیکل کالج کے طلبہ نے ان کی حمایت میں آواز بلند کی اور ایک خط لکھ کر مطالبہ کیا کہ انہیں مالی اور طبی امداد فراہم کی جائے۔\n\n12 جون 2025 کو ایئر انڈیا کی فلائٹ 171 کے حادثے کے بعد ملبے سے ہوائی جہاز کی دم کو کرین کی مدد سے ہٹایا جا رہا ہے (دبیانگشو سرکار/ اے ایف پی)\n\n\n\n\nتورالبین شیلش بھائی لکشاری بھی حادثے کے بعد اپنی آمدن میں نمایاں کمی کی شکایت کرتی ہیں۔ پڑوس میں واقع پوسٹ گریجویٹ ہاسٹل میں رہنے والے طلبہ اور ڈاکٹر، جو پہلے ان سے کھانا خریدا کرتے تھے، حادثے کے بعد آنا چھوڑ گئے۔\n\nوہ کہتی ہیں: ’پہلے 50 سے 60 بچے آتے تھے۔ اب یہ تعداد کم ہو کر 30 سے 35 رہ گئی ہے۔ تنخواہ میں بہت زیادہ کمی آ گئی ہے۔ پہلے میں 25 ہزار روپے تک کما لیتی تھی، لیکن اب یہ 10 اور 15 ہزار روپے کے درمیان رہ گئی ہے۔‘\n\nدی انڈپینڈنٹ کی جانب سے بھیجے گئے تفصیلی سوالنامے کے جواب میں ایئر انڈیا نے متاثرہ خاندانوں اور زندہ بچ جانے والوں کو دیے گئے معاوضے کا دفاع کیا۔\n\nایئر انڈیا کے ترجمان نے کہا: ’ایئر انڈیا اے آئی 171 سانحے سے متاثر ہونے والے ہر فرد کی دیکھ بھال اور ہمدردی کے ساتھ مدد کے لیے پرعزم ہے۔ اگرچہ ہم انفرادی معاملات پر تبصرہ نہیں کر سکتے، تاہم زمین پر زخمی ہونے والے افراد کے معاوضے کا جائزہ منصفانہ اور شفاف انداز میں، قابلِ اطلاق قانون کے مطابق، چوٹ کی نوعیت اور روزگار یا آمدن کے نقصان کو مدنظر رکھتے ہوئے لیا گیا ہے۔‘\n\nگیتا بین پٹیل اس مؤقف سے اتفاق نہیں کرتیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’ایئر انڈیا نے ہمارے ساتھ ناانصافی کی ہے اور صرف میرے ساتھ نہیں، ہم میں سے بہت سے لوگ زخمی ہوئے تھے۔ ہر زخمی شخص کو شاید ہسپتال میں داخل ہونے کی ضرورت نہیں تھی، لیکن انہیں گھر پر نگہداشت درکار تھی اور وہ بغیر نسخے کے ملنے والی ادویات استعمال کرتے تھے۔ انہیں ایسے لوگوں کو بھی معاوضہ دینا چاہیے تھا۔‘\n\nانڈیا\n\nاحمد آباد\n\nطیارہ حادثہ\n\nگذشتہ برس جون میں احمد آباد میں فلائٹ 171 کے حادثے کے نتیجے میں جو لوگ زمین پر اس سانحے سے گزرے، ان کے لیے وقت نے یادوں کی شدت کو کم نہیں کیا اور وہ اس مقام پر دوبارہ واپس آنے کے تکلیف دہ تجربے کو بیان کرتے ہیں۔\n\nنمیتا سنگھ\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">13 جون 2025 کی اس تصویر میں ایک روز قبل احمد آباد میں ہوائی اڈے کے قریب رہائشی علاقے میں گر کر تباہ ہونے کے بعد ایئر انڈیا کی پرواز 171 کا ملبہ دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایئر انڈیا حادثہ: تحقیقاتی رپورٹ کب جاری ہوگی اور کیا انکشافات متوقع ہیں؟\n\nایئر انڈیا طیارہ حادثہ: مقدمہ واپس لینے پر 10 لاکھ روپے کی پیشکش\n\nایئر انڈیا طیارہ حادثہ: الزامات کا سامنا کرنے والے پائلٹس کون تھے؟\n\nایئر انڈیا حادثہ: متاثرین کا بلیک باکس ڈیٹا منظر عام پر لانے کا مطالبہ\n\nSEO Title:\n\n’ہر جہاز کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے‘: ایئر انڈیا حادثے کے زندہ بچ جانے والوں کی آپ بیتی\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/india/air-india-ahmedabad-crash-survivors-flight-171-b2991140.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’ہر جہاز کو دیکھ کر ڈر لگتا ہے‘: ایئر انڈیا حادثے کے زندہ بچ جانے والوں کی آپ بیتی"
}