{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia3fdaddcskv7syjqbc42ctfmn3oxt6loqaa6u6fmkmatqy5z6zza",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvvoqwh3742"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreierj7udp3lzmpzdvxrcs2t2nh4w4owt5eiso7suw5fpkqgmohir3i"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 125462
  },
  "path": "/node/186253",
  "publishedAt": "2026-06-10T03:15:26.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فیفا ورلڈ کپ 2026",
    "فٹ بال",
    "لیاری",
    "کراچی",
    "صالحہ فیروز خان",
    "video"
  ],
  "textContent": "**فیفا ورلڈ کپ 2026 کا جوش صرف میدانوں تک محدود نہیں، بلکہ اس کے اثرات کراچی کی مارکیٹوں میں بھی واضح نظر آ رہے ہیں۔ فٹ بال کے شوقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں اور ٹی شرٹس خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کررہے ہیں، جس سے کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔**\n\nکراچی میں لائٹ ہاؤس مارکیٹ کی تنگ گلیوں میں قدم رکھتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے دنیا کی بڑی فٹ بال ٹیمیں ایک ہی چھت تلے جمع ہو گئی ہوں۔\n\nکہیں ارجنٹائن کی نیلی سفید جرسی لٹک رہی ہے، کہیں برازیل کا زرد رنگ خریداروں کو اپنی جانب کھینچ رہا ہے، جبکہ پرتگال، فرانس اور انگلینڈ کی جرسیوں کے سامنے بھی نوجوانوں کا ہجوم دکھائی دیتا ہے۔\n\nدکان کے اندر داخل ہوں تو ہر طرف ایک ہی سوال سنائی دیتا ہے۔\n\n’بھائی میرے سائز کی ارجنٹینا ہے؟‘\n\n’رونالڈو والی جرسی دکھائیں۔‘\n\n’بچوں کے لیے برازیل کی جرسی مل جائے گی؟‘\n\nیہ صرف ٹی شرٹس کی خریداری نہیں، بلکہ اپنے پسندیدہ کھلاڑیوں اور ٹیموں سے محبت کا اظہار بھی ہے۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026 کی آمد نے کراچی کے بازاروں میں نئی رونق پیدا کر دی ہے۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nاسی مناسبت سے دکاندار فضل رحمان نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’دکان میں رش عید سے قبل ہی شروع ہو گیا تھا۔ روزمرہ کی بنیاد پر بڑی تعداد میں شائقین فٹ بال جرسیاں خرید رہے ہیں۔ اس وقت کاروبار میں غیر معمولی تیزی آ چکی ہے جبکہ ٹورنامنٹ کے فائنل تک اس میں مزید اضافہ متوقع ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ’بڑھتی ہوئی طلب کو دیکھتے ہوئے ملازمین کی تعداد بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nفضل رحمان کا کہنا تھا کہ ’دکان لیاری کے قریب واقع ہونے کی وجہ سے خریداروں کی بڑی تعداد لیاری سے آ رہی ہے، جہاں فٹ بال کو خاص مقبولیت حاصل ہے۔ اسی لیے ارجنٹائن اور برازیل کی جرسیاں سب سے زیادہ فروخت ہو رہی ہیں، جن کی قیمت 900 روپے سے شروع ہوتی ہے۔‘\n\nفاصلے چاہے ہزاروں کلومیٹر کے ہوں، لیکن فٹ بال کا جنون سرحدیں نہیں مانتا۔ ورلڈ کپ کا میدان کہیں اور سجے گا مگر اس کا رنگ کراچی کے بازاروں پر ابھی سے چڑھ چکا ہے، اسی لیے خریدار من پسند جرسیاں خریدنے میں مصروف دکھائی دیے۔\n\nدلچسپ بات یہ ہے کہ خریداروں میں ہر عمر کے افراد دکھائی دیے۔\n\nلیاری سے انگلینڈ کی ٹیم کی جرسی خریدنے آئے فٹ بال کوچ اور ٹرینر محمد علی نے شرٹ خریدتے ہی پہن لی اور ایک اور شرٹ بھی خریدی۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ بیس سالوں سے وہ انگلیڈ کی ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ ’میں انگلینڈ کا خاص فین ہوں، اسی لیے انگلینڈ کی ٹیم کی شرٹ پہن لر میچ دیکھوں گا، چاہے رات کے دو بجے میچ ہو یا رات کے تین بجے ہو۔‘\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nزین العابدین بلوچ لیاری کلا کوٹ سے خریداری کے لیے پہنچے تھے۔ انہوں نے دس جرسیاں خریدی اور ان کی فیملی میں سب الگ الگ ٹیم کو سپورٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا:’ہم لیاری والوں کا جذبہ ہے اسی لیے پوری تیاری سے میچ دیکھیں گے۔‘\n\nارسلان بھی لیاری سے ہیں لیکن دکان میں رش ہونے کی وجہ سے انہیں لمبا انتظار کرنا پڑا، جس کے بعد بالآخر انہوں نے اپنی سپورٹنگ ٹیم کی مناسبت سے جرسیاں خرید لیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ وہ دوستوں کے ساتھ فٹ بال میچ کو انجوائے کریں گے۔\n\nشائقین کے لیے فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ ایک جذباتی وابستگی ہے، اسی لیے وہ اپنی ٹیم کی جرسی پہن کر میچز دیکھنے اور ہر لمحے کو یادگار بنانے کے خواہش مند ہیں۔\n\nدوسری جانب دکاندار بڑھتی ہوئی طلب سے خوش نظر آتے ہیں اور فٹ بال کا یہ عالمی مقابلہ کھیل کے میدان سے نکل کر شہر کی تجارتی سرگرمیوں میں بھی اپنا اثر دکھا رہا ہے۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nفٹ بال\n\nلیاری\n\nکراچی\n\nفٹ بال کے شوقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں اور ٹی شرٹس خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کررہے ہیں، جس سے کاروبار میں نمایاں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فیفا ورلڈ کپ 2026 سے قبل کراچی کے بازاروں میں شائقین اپنی پسندیدہ ٹیموں کی جرسیوں کی خریداری میں مصروف ہیں (صالحہ فیروز خان/ انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nفٹ بال\n\njw id:\n\nQVk1d1gu\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\n’اب گولیوں کی نہیں بلکہ گیند کی آوازیں ہیں:‘ لیاری کی لڑکیوں کا فٹ بال جنون\n\nورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟\n\nفیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nSEO Title:\n\nفیفا ورلڈ کپ کا جنون، کراچی کے بازاروں میں خریداروں کا رش\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "فیفا ورلڈ کپ کا جنون، کراچی کے بازاروں میں خریداروں کا رش"
}