{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidhjrqguu73x257auivy2olwmlwbolsjbfvejp6v35jwxa2ig7wcq",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvvom7ywqf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiegooijk7dfp3zx5zvxqnkfhub5lqjo65wjtb524hrkzguxl6r6qa"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 98053
  },
  "path": "/node/186254",
  "publishedAt": "2026-06-10T03:50:22.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "پاکستان",
    "پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
    "مظفر آباد",
    "رمنا سعید",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی 9 جون کو بھمبر سے مظفرآباد کی جانب لانگ مارچ کی کال کے پیش نظر علاقے میں سکیورٹی سخت تھی اور متعدد مقامات پر چھاپے بھی مارے گئے۔**\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے بھی اسلام آباد سے مظفرآباد کا سفر کیا تاکہ ہاں کی صورت حال کو دیکھا جا سکے اور وہاں موجود شہریوں اور حکام سے بات کی جا سکے۔\n\nراستے میں ہی سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات دکھائی دینے لگے۔ مختلف مقامات پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی موجودگی معمول سے کہیں زیادہ تھی۔\n\nکوہالہ پولیس چوکی پر ہماری گاڑی کو روکا گیا۔ وہاں موجود اہلکاروں نے تفصیلات درج کیں اور سفر کے مقصد کے بارے میں دریافت کیا۔\n\nبعد ازاں انڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے مقامی انتظامیہ سے رابطہ کیا، جس کے بعد ہمیں کوہالہ چیک پوسٹ سے آگے جانے کی اجازت دی گئی۔\n\nمظفرآباد میں داخل ہوتے ہی ایک اور چیک پوسٹ پر مقامی انتظامیہ کے حکام نے ہماری ٹیم سے ملاقات کی۔ ہمیں شہر کی مجموعی صورتحال پر بریفنگ دی گئی اور بعض علاقوں تک رسائی کے حوالے سے آگاہ کیا۔\n\nشہر کے اندر جو منظر دکھائی دیا وہ غیر معمولی تھا۔ بیشتر تجارتی مراکز بند تھے۔ دکانیں، بینک اور کاروباری مراکز ویرانی کا منظر پیش کر رہے تھے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دکھائی دی۔\n\nکئی علاقوں میں انٹرنیٹ سروس بھی معطل تھی۔ تاہم سرکاری دفاتر کھلے تھے اور ہاں سرگرمیاں جاری تھیں۔\n\nمظفرآباد کے اسسٹنٹ کمشنر ڈاکٹر راشد نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں اس تاثر کی تردید کی کہ شہر کی طرف بڑے قافلے بڑھ رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا تھا کہ ’قافلوں کی بات تو دور، دارالحکومت میں صورت حال معمول کے مطابق ہے۔‘\n\nرپورٹنگ کے دوران سب سے بڑی مشکل انٹرنیٹ کی بندش ثابت ہوئی۔ موبائل انٹرنیٹ اور وائی فائی سروسز معطل ہونے کی وجہ سے دفتر سے رابطے، ویڈیوز کی ترسیل اور معلومات کی تصدیق میں دشواری پیش آئی۔\n\nانٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہمیں دیول جانا پڑا، جہاں ہمارے ڈرائیور قمر حفیظ ملک کے رشتہ دار کے گھر سے محدود رابطہ ممکن ہو سکا۔\n\nانٹرنیٹ کی بحالی کے بارے میں سوال پر اسسٹنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’ڈیویلپنگ سچویشن‘ ہے اور سروسز کی بحالی کا فیصلہ حالات کے مطابق کیا جائے گا۔\n\nرات تقریباً 10 بجے تک شہر کا دورہ کرنے کے بعد بھی بڑے پیمانے پر کسی احتجاج یا ہنگامی صورت حال کے آثار نظر نہیں آئے۔\n\nتاہم سکیورٹی فورسز کی نمایاں موجودگی، متعدد چیک پوسٹیں اور بند بازار اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ انتظامیہ کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیا اور تنظیم نے مہاجرین کے لیے مختص 12 اسمبلی نشستوں سمیت مختلف مطالبات کے حق میں احتجاجی تحریک جاری رکھی۔\n\nاس سیاسی تنازع کے مرکز میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کی وہ 12 نشستیں ہیں جو پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کے لیے مختص ہیں۔\n\nجوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں مقامی نمائندگی کو متاثر کرتی ہیں، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ بعض مطالبات آئینی نوعیت کے ہیں جن کا حل صرف آئینی ترمیم کے ذریعے ممکن ہے۔\n\nحال ہی میں پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی سپریم کورٹ نے اپنی مشاورتی رائے میں قرار دیا تھا کہ مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستیں آئینی تحفظ رکھتی ہیں اور انہیں کسی انتظامی یا حکومتی فیصلے کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔\n\nاس دوران مختلف علاقوں سے سکیورٹی فورسز اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں جبکہ پولیس کے مطابق ان واقعات میں اہلکاروں سمیت متعدد اموات ہوئی ہیں۔\n\nحکومت کا مؤقف ہے کہ کالعدم تنظیم سے وابستہ مسلح عناصر نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے کیے اور بدامنی پیدا کی، جبکہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا کہنا ہے کہ اس کے مطالبات سیاسی اور معاشی نوعیت کے ہیں اور گرفتاریوں، انٹرنیٹ بندش اور طاقت کے استعمال کے ذریعے ایک عوامی حقوق کی تحریک کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔\n\nدوسری جانب پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیراعظم فیصل ممتاز راٹھور نے کہا کہ احتجاج کرنے والے لوگ ریاست کے اپنے شہری ہیں اور انہیں غدار یا ایجنٹ قرار دینا درست نہیں۔\n\nان کے مطابق موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات میں ہے اور احتجاجی قیادت کو دوبارہ بات چیت کی میز پر آنا چاہیے۔\n\nمظفرآباد کی سڑکوں پر اگرچہ اس روز کوئی بڑا احتجاج نظر نہیں آیا، لیکن بند مارکیٹیں، متعدد چیک پوسٹیں، سکیورٹی اداروں کی نمایاں موجودگی، انٹرنیٹ کی معطلی اور سیاسی بے یقینی اس بات کی نشاندہی کر رہی تھیں کہ خطہ ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جس کے اثرات روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔\n\nشہر بظاہر پرسکون تھا، مگر لوگوں میں یہ سوال نمایاں تھا کہ ایک سیاسی احتجاج آخر اتنی بڑی کشیدگی میں کیسے تبدیل ہو گیا؟\n\nپاکستان\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nمظفر آباد\n\nانڈپینڈنٹ اردو کی ٹیم نے نو جون کو اسلام آباد سے مظفرآباد کا سفر کیا تاکہ ہاں کی صورت حال کو دیکھا جا سکے اور وہاں موجود شہریوں اور حکام سے بات کی جا سکے۔\n\nرمنا سعید\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 08:45\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں عوامی ایکشن کمیٹی کی احتجاج کی کال کے پیش نظر 9 جون 2026 کو مظفرآباد میں مارکیٹیں اور دکانیں بند رہیں (روئٹرز)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n3XklcAyI\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکالعدم کشمیر کمیٹی کے 4 رہنماؤں کی گرفتاری پر انعام کا اعلان\n\nکشمیر میں احتجاج کرنے والے غدار نہیں، اپنے لوگ ہیں: وزیراعظم\n\nمظفرآباد: عوامی کمیٹی کا احتجاج، سکیورٹی کے سخت انتظامات\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں 72 گرفتاریاں، انٹرنیٹ بند، سکیورٹی سخت\n\nSEO Title:\n\nمظفرآباد میں خاموشی، چیک پوسٹیں اور بند انٹرنیٹ: لانگ مارچ کے دن شہر میں کیا دیکھا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "مظفرآباد میں خاموشی: لانگ مارچ کے دن شہر میں کیا دیکھا؟"
}