{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreia7wvql34dftxdngfkpyqw4kczr23pyakprg4ys52t4guhd6q7liq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvvo6ehp3i2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiahmpibvuhqxhfpmazplehzv5mqjkvbq76vokqdk6rtwid2bcnoua"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 100298
},
"path": "/node/186257",
"publishedAt": "2026-06-10T04:28:45.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"افغانستان",
"افغان طالبان",
"ایسوسی ایٹڈ پریس",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**افغانستان نے بدھ کے روز کہا ہے کہ پاکستان نے ملک کے اندر نئے فضائی حملے کیے جن میں کم از کم 13 افراد جان سے گئے اور دیگر 14 زخمی ہوئے۔**\n\nدونوں ممالک کے درمیان گذشتہ کئی مہینوں سے جھڑپیں جاری ہیں جن میں سینکڑوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔\n\nافغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ تازہ حملوں میں خوست، کنڑ اور پکتیکا کے صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں 11 بچے، ایک خاتون اور ایک بزرگ شخص ہلاک ہوئے۔\n\nپاکستان کی جانب سے ان حملوں کی فوری طور پر کوئی تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ حملے اس واقعے کے ایک دن بعد کیے گئے جب کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں نے خیبر پختونخوا کے شمال مغربی علاقے حسن خیل میں ایک سکیورٹی چوکی پر حملہ کیا، جس کے بعد شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستان کی وزارت داخلہ کے مطابق اس جھڑپ میں فیڈرل کانسٹیبلری کے چھ اہلکار جان سے گئے اور کئی زخمی ہوئے۔\n\nمقامی حکام نے منگل کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے حملہ آوروں میں سے آٹھ کو مار ڈالا اور چوکی پر قبضے کی کوشش ناکام بنا دی۔ وزارت داخلہ کے ایک بیان کے مطابق وزیر داخلہ محسن نقوی نے بعد میں پشاور میں جان سے جانے والے اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔\n\nبیان کے مطابق محسن نقوی نے کہا کہ پاکستان ’دہشت گردی‘ کے خلاف اپنی جنگ میں متحد ہے اور امن و سکیورٹی کو خطرہ بننے والے گروہوں کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔\n\nپاکستان اور افغانستان کے درمیان مہلک جھڑپیں رواں برس فروری کے آخر سے جاری ہیں، جب افغانستان نے پاکستان کے اندر فضائی حملوں کے جواب میں سرحد پار کارروائی کی تھی۔\n\nفروری میں پاکستان نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر عسکریت پسندوں کے حملوں میں اضافے کے بعد وہ افغانستان کے ساتھ ’کھلی جنگ‘ کی حالت میں ہے۔\n\nافغانستان کا کہنا ہے کہ مارچ میں پاکستانی فضائی حملے کابل میں ایک منشیات کے علاج کے مرکز پر ہوئے، جس میں 400 سے زیادہ افراد جان سے گئے، تاہم اموات کی اس تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔\n\nپاکستان نے اس دعوے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کو نشانہ نہیں بنایا گیا بلکہ ایک اسلحہ گودام کو نشانہ بنایا گیا تھا۔\n\nپاکستان افغانستان پر الزام عائد کرتا ہے کہ وہ ایسے جنگجوؤں کو پناہ دیتا ہے جو پاکستان کے اندر حملے کرتے ہیں، خاص طور پر تحریک طالبان پاکستان، جو افغان طالبان سے الگ مگر اس کی حامی تنظیم ہے، تاہم کابل ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔\n\nافغانستان\n\nافغان طالبان\n\nافغان طالبان حکومت کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ یہ حملے خوست، کنڑ اور پکتیکا کے صوبوں میں کیے گئے لیکن پاکستان کی طرف سے اس پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">غزنی میں 3 مارچ 2026 کو ایک طالبان سکیورٹی اہلکار پہرہ دے رہا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی) </p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافغانستان ٹی ٹی پی، بی ایل اے کے خلاف اقدامات اٹھائیں: پاکستان\n\nپاکستان کے خلاف القاعدہ کا حالیہ بیان اور افغان طالبان کی حمایت\n\nافغان طالبان نے ڈرون حملے کر کے ’سرخ لکیر‘ عبور کر لی: صدر زرداری\n\nافغان طالبان ترجمان جھوٹے بیانات پر بے نقاب: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی فضائی حملے میں 13 افراد جان سے گئے: افغان طالبان کا دعویٰ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "پاکستانی فضائی حملے میں 13 افراد جان سے گئے: افغان طالبان کا دعویٰ"
}