{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibbws2zb3c2xvnn3666wgyiwgwiskbakbghufrcxqjxkq7z3mu27q",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvnrrbayf42"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifavdugdsacx7wqxif643xnwl3a3zp2zgjxgny32amqasw42pwxrm"
    },
    "mimeType": "image/png",
    "size": 841044
  },
  "path": "/node/186250",
  "publishedAt": "2026-06-10T01:52:11.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "امریکہ",
    "ایران",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی فوج نے بدھ کے روز ایران پر فضائی حملے کیے، جس کے دوران تہران کے ’فضائی دفاعی نظام، زمینی کنٹرول سٹیشنز اور نگرانی کے ریڈار مقامات‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ دوسری جانب ایران نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔**\n\nایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ایران کے خلاف یہ کارروائی آبنائے ہرمز کے قریب ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے بعد کی گئی، جس کا الزام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تہران پر عائد کیا تھا۔\n\nایران نے امریکی حملوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے، جس سے مستقل جنگ بندی کی کوششیں ایک بار پھر مشکوک ہو گئیں۔ اس جنگ کے باعث آبنائے ہرمز عملاً بندش کا شکار ہو چکی ہے اور عالمی توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔\n\nامریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق یہ کارروائی جس میں امریکہ کی فضائیہ اور بحریہ کے لڑاکا طیاروں نے حصہ لیا، ’حالیہ دنوں میں امریکی افواج اور علاقائی پانیوں سے گزرنے والے بین الاقوامی تجارتی جہازوں پر حملوں کے متناسب جواب کے طور پر کی گئی ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بعد ایران نے دعویٰ کیا کہ اس نے بحرین میں امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کے ہیڈکوارٹر اور کویت میں امریکی فوجیوں کی میزبانی کرنے والے ایک فوجی اڈے کو ڈرون کے ذریعے نشانہ بنایا ہے۔ تاہم نہ بحرین اور نہ ہی کویت نے ایسے کسی حملے کے بارے میں کوئی انتباہ جاری کیا۔\n\nٹرمپ نے اس سے قبل سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کرنے والے طیارے کو مار گرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کو ’اس حملے کا لازمی طور پر جواب دینا ہوگا۔\n\nامریکہ کے اپاچی ہیلی کاپٹر کی تباہی اور امریکی فوج کے حملوں نے دو ماہ پرانی جنگ بندی کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ ایک روز قبل ایران اور اسرائیل نے اس نازک جنگ بندی کے نفاذ کے بعد پہلی بار ایک دوسرے پر حملے کیے تھے۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق منگل کو اسرائیلی حملوں میں ایران کے فضائی دفاعی یونٹوں کے کم از کم دو اہلکار جان سے گئے۔\n\n28 فروری سے امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے آغاز کے بعد اس جنگ نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، دنیا بھر میں توانائی کی قیمتیں بڑھ گئی ہیں اور خوراک سمیت بہت سی بنیادی اشیا مہنگی ہو گئی ہیں۔\n\nاپریل کی جنگ بندی کو مستقل امن معاہدے میں تبدیل کرنے کی کوششیں تاحال ناکام رہی ہیں، خاص طور پر اس وقت جب اسرائیل لبنان میں ایران کی حمایت یافتہ ملیشیا حزب اللہ کے خلاف اپنی فوجی مہم کو مزید تیز اور وسیع کر رہا ہے۔\n\n* * *\n\n**امریکی ہیلی کاپٹر ایرانی ڈرون سے ٹکرا کر تباہ ہوا**\n\nایک امریکی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اے پی کو بتایا کہ فوج کا اے ایچ-64 اپاچی حملہ آور ہیلی کاپٹر ایک ایرانی ڈرون سے ٹکرانے کے بعد گر کر تباہ ہوا۔\n\nیہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ تصادم جان بوجھ کر کیا گیا تھا یا نہیں، جبکہ سرکاری بیانات میں صرف یہ کہا گیا کہ حادثے کی تحقیقات جاری ہیں۔\n\nامریکی فوج کی اپنی نوعیت کی پہلی معلوم کارروائی میں ایک ڈرون کشتی نے منگل کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے تین بجے دو پائلٹوں کو بچایا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق عمان کے ساحل کے قریب گشت کے دوران ہیلی کاپٹر گرنے کے تقریباً دو گھنٹے بعد یہ امدادی کارروائی کی گئی۔\n\nٹرمپ نے کہا کہ دونوں فوجی اہلکار ’محفوظ ہیں اور زخمی نہیں ہوئے۔‘\n\nامریکی سینٹرل کمانڈ کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز نے بتایا کہ امریکی فوجیوں کو ایک ڈرون کشتی نے تلاش کیا اور انہیں پانی میں ایک دوسرے مقام تک منتقل کیا، جہاں سے ایک ہیلی کاپٹر نے انہیں اٹھایا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nانہوں نے ابتدا میں کہا تھا کہ ڈرون انہیں ساحل تک لے گیا تھا، تاہم بعد میں انہوں نے نظرثانی شدہ وقت کی تفصیلات پر مزید وضاحت نہیں کی۔\n\nٹِم ہاکنز کے مطابق یہ سمندر میں امریکی فوج کی جانب سے ڈرون کے ذریعے کی جانے والی پہلی معلوم امدادی کارروائی تھی۔\n\nاے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر امریکی فوج کے لیے ایک اہم اثاثہ رہے ہیں کیونکہ وہ ایرانی خام تیل کی ترسیل اور ٹینکروں پر عائد ناکہ بندی کو نافذ کرنے میں استعمال ہو رہے ہیں تاکہ تہران پر معاہدے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکے۔\n\nٹِم ہاکنز کے مطابق امدادی کارروائی میں استعمال ہونے والا ڈرون 24 فٹ (7.3 میٹر) لمبا ’کورسئیر‘ نامی جہاز تھا۔ اسے سارونک ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔\n\nیہ ڈرون امریکہ بحریہ کی ٹاسک فورس 59 کے زیر استعمال تھا، جو 2021 میں بحری سلامتی پر توجہ دینے والی بحریہ کی پہلی بغیر عملے اور مصنوعی ذہانت پر مبنی یونٹ کے طور پر قائم کی گئی تھی۔ اس کی توجہ مشرق وسطیٰ کے سمندری راستوں، بشمول آبنائے ہرمز اور سوئز کنال پر مرکوز ہے۔\n\nٹرمپ کے ایران پر طیارہ مار گرانے کے الزام کے فوراً بعد وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ آبنائے ہرمز ’امریکی ساحلوں سے ہزاروں میل دور‘ ہے۔\n\nانہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: ’ہماری سرزمین کے قریب موجود غیر ملکی افواج اپنی انسانی غلطیوں، عام حادثات یا ممکنہ طور پر فائرنگ کے تبادلے میں پھنس جانے کے باعث مسلسل خطرے میں رہتی ہیں۔ خطرات کم کرنے کا بہترین حل یہ ہے کہ وہ یہاں سے چلی جائیں۔‘\n\n* * *\n\n**ٹرمپ کا اصرار تھا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہونے والا ہے**\n\nایران پر امریکی ہیلی کاپٹر مار گرانے کا الزام لگانے سے پہلے ٹرمپ نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں نئی امید ظاہر کی تھی، تاہم انہوں نے اس کی وجہ نہیں بتائی تھی۔\n\nثالثی کرنے والے ممالک، جن میں پاکستان نمایاں ہے، کئی ہفتوں سے معاہدے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن ایران اور امریکہ دونوں نے سخت مؤقف اختیار کر رکھا ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\nامریکہ چاہتا ہے کہ ایران اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دستبردار ہو جائے، جس کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ 2025 کی 12 روزہ جنگ کے دوران ہونے والے امریکی فضائی حملوں کے بعد وہ ملبے تلے دفن ہو چکا ہے۔\n\nتاہم ایران اس مطالبے کو مسترد کر رہا ہے اور پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ کر رہا ہے۔ وہ حتمی معاہدے سے قبل منجمد اثاثوں کی رہائی بھی چاہتا ہے، جسے ٹرمپ نے رد کر دیا ہے۔\n\nاسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی اب بھی ایران کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ لبنانی فوج کے سربراہ روڈولف ہیکل نے منگل کو پاکستان میں پاکستانی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات کی، جو ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں ایک اہم کردار سمجھے جاتے ہیں۔\n\nروڈولف ہیکل کا یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب لبنان کی حکومت حزب اللہ کے خلاف نسبتاً سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے، تاہم وہ اب بھی اس طاقتور ملیشیا کو غیر مسلح کرنے میں ناکام ہے۔\n\nحزب اللہ نے منگل کو اسرائیل پر حملوں کے لیے ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدام ’ہمارے لبنانی عوام کے دفاع‘ میں کیا گیا اور اشارہ دیا کہ لبنان کی حکومت کو اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تہران کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے چاہییں۔\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایران نے بندر عباس اور جزیرہ قشم کے اطراف حملوں کی تصدیق کی، تاہم نقصان کی تفصیلات نہیں بتائیں۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, جون 10, 2026 - 06:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی سینٹ کام کی جانب سے جاری کی گئی تصویر میں 31ویں میرین ایکسپیڈیشنری یونٹ کے امریکی میرینز علاقائی پانیوں سے گزرنے کے دوران فضائی نشانہ بازی اور قریبی فضائی معاونت کی تربیت کے لیے یو ایس ایس ٹرپولی (ایل ایچ اے 7) پر موجود یو ایچ-1 وائی وینم ہیلی کاپٹر میں سوار ہو رہے ہیں (سینٹ کام/ ایکس اکاؤنٹ)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nایران نے امریکی ہیلی کاپٹر گرایا، جواب دینا ضروری ہے: ٹرمپ\n\nایران اور اسرائیل فوری طور پر ایک دوسرے کے خلاف حملے روکیں: ٹرمپ\n\nحملہ آوروں کو آج رات جواب مل گیا: مشیر ایرانی سپریم لیڈر\n\nپاکستان کے ذریعے امریکہ سے پیغامات کا تبادلہ جاری: ایران\n\nSEO Title:\n\nفوجی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "فوجی ہیلی کاپٹر گرانے کے الزام کے بعد امریکہ کے ایران پر حملے"
}