{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiempqq4g5dnxgot2ktp7fsfsjunfir57x2uce53xdczrgqkyk2n7e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mnvh3665ms42"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiefmke65ixicdvn3uyxglpr5op75hwdc7wa23ck26q2yiqun37nmi"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 56767
},
"path": "/node/186238",
"publishedAt": "2026-06-09T04:08:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"فیفا ورلڈ کپ 2026",
"امریکہ",
"امریکہ ویزا",
"روئٹرز",
"فٹ بال",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ نے اختتام ہفتہ پر فٹ بال ریفری عمر عبدالقادر ارتان کو ملک میں داخلے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا، حالانکہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ورلڈ کپ کے کسی میچ میں آفیشل کے فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بنیں گے۔**\n\nفیفا ترجمان نے پیر کو بتایا کہ ارتان ورلڈ کپ، جو جمعرات سے شروع ہو رہا ہے، میں تربیت حاصل کرنے اور میچوں میں ریفری کے فرائض انجام دینے سے محروم رہیں گے کیونکہ انہیں امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔\n\nترجمان نے کہا ’فیفا میزبان ملک کے امیگریشن معاملات یا ویزا فیصلوں میں شامل نہیں ہوتا، اور ہمیں حکام نے آگاہ کیا ہے کہ فی الحال مسٹر ارتان کی حیثیت میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی۔‘\n\nعمر عبدالقادر ارتان نے اپنے بیان میں کہا کہ حالات کے باوجود وہ مثبت سوچ رکھتے ہیں اور اپنے ریفری کے کریئر کے آئندہ مراحل پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’میں فیفا اور سی اے ایف کا ان کی مکمل حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں اور وعدہ کرتا ہوں کہ مستقبل پر توجہ دیتے ہوئے اپنے ریفری کے معیار کو برقرار رکھوں گا۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’میں فٹبال فیملی کا ان کے پیغامات پر شکریہ ادا کرتا ہوں، اپنے ساتھیوں کے لیے ورلڈ کپ میں کامیابی کی دعا کرتا ہوں اور مستقبل کے مقابلوں میں دوبارہ ان کے ساتھ شامل ہونے کا منتظر ہوں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکی محکمہ کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن کے اہلکار نے نام ظاہر کیے بغیر، بتایا کہ ایک صومالی شہری ہفتے کے روز استنبول سے میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچا تھا، لیکن جانچ پڑتال کے دوران بعض سکیورٹی خدشات کی بنا پر اسے ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔\n\nادارے نے ان خدشات کی تفصیلات نہیں بتائیں، تاہم کہا کہ معمول کی اضافی جانچ کے بعد اس شخص کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔\n\nبیان میں کہا گیا کہ ’داخلے کے فیصلے ہر فرد کے بارے میں الگ الگ کیے جاتے ہیں اور اس وقت دستیاب قانون نافذ کرنے والے اداروں، قومی سلامتی اور امیگریشن سے متعلق معلومات کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔‘\n\nٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسیوں کے باعث ورلڈ کپ سے قبل خدشات پہلے ہی موجود تھے۔ گذشتہ سال واشنگٹن نے صومالیہ سمیت 12 ممالک کے شہریوں پر وسیع سفری پابندیاں عائد کی تھیں۔\n\nمیڈیا رپورٹس کے مطابق ارتان کے پاس درست ویزا موجود تھا۔ واشنگٹن میںصومالی سفارت خانے نے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔\n\nارتان کو 2025 کے لیے سی اے ایف کی جانب سے بہترین مرد ریفری کا اعزاز بھی دیا گیا تھا۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nامریکہ\n\nامریکہ ویزا\n\nاگر عمر عبدالقادر ارتان کو اجازت مل جاتی تو وہ ورلڈ کپ کے کسی میچ میں بطور آفیشل فرائض انجام دینے والے پہلے صومالی ریفری بن جاتے۔\n\nروئٹرز\n\nمنگل, جون 9, 2026 - 09:00\n\nMain image:\n\n> <p>صومالی فٹ بال ریفری عمر عبدالقادر ارتان 23 جنوری 2024 کو ایفریقہ کپ آف نیشن میں بطور آفیشل فرائض انجام دیتے ہوئے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nورلڈ کپ 2026: فیفا نے فینز کو پانی کی بوتلیں لانے سے کیوں روک دیا؟\n\nورلڈ کپ: سٹار فٹ بالر نیمار کی پہلے میچ میں شرکت مشکوک\n\nفیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nSEO Title:\n\nفیفا: امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ ملنے پر صومالی ریفری کا خواب ادھورا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "امریکہ میں داخلے کی اجازت نہ ملی، صومالی ریفری کا خواب ادھورا"
}